ڈرون حملے کسی صورت قبول نہیں ‘ کراچی آپریشن کے بہتر نتائج سامنے آئے: وزیراعظم

ڈرون حملے کسی صورت قبول نہیں ‘ کراچی آپریشن کے بہتر نتائج سامنے آئے: وزیراعظم

لندن (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم ڈاکٹر نواز شریف 2 روزہ نجی دورہ پر ہیگ سے لندن پہنچ گئے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کے تعلقات دیگر ممالک سے بہتر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط ہوا ہے۔ توانائی بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگلے سات سال میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ ڈرون حملے کسی صورت قبول نہیں، کراچی آپریشن کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔ مشرف نے ججوں کو معطل کر کے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا۔ پاکستان اب جمہویت کے راستے پر چل پڑا ہے۔ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے چودھری نثار ہی بہتر جانتے ہیں۔
ہیگ (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم ڈاکٹر نوازشریف نے کہا ہے جوہری سلامتی یقینی بنانے کیلئے قومی اور عالمی سطح پر تعاون اور اسے وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ آئی اے ای اے کے رکن ممالک کانفرنس کے فیصلوں کی پاسداری یقینی بنائیں، جوہری تحفظ کے مجوزہ عمل میں اعلیٰ حکام اور ماہرین کی مدد لی جا سکتی ہے، مستقبل میں فیصلوں پر عملدرآمد پر رازداری اور  اعلانیہ اقدامات میں  توازن قائم رکھنا ہو گا، جوہری تحفظ میں ہم آہنگی کیلئے آئی اے ای اے قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ منگل کو  جوہری سلامتی کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا  جوہری تحفظ کے معاملے کو سربراہوں کی حمایت سے نچلی سطح پر لانے کی اہم ضرورت ہے، جوہری تحفظ کے مجوزہ طریقہ کار پر 2016ء کی سربراہ کانفرنس میں  غور کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف نے کہا جوہری سلامتی ایک مسلسل اور قومی ذمہ داری ہے، یہ تاثر پھیل رہا ہے ایٹمی سپلائی گروپ نئے قواعد لاگو کر رہا ہے جس کے باعث چھوٹے ممالک  جوہری توانائی سے محروم رہ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ایٹمی سپلائی گروپ  کے نئے قواعد سے متعلق پھیلتے تاثر کو زائل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا  2016ء کے بعد جوہری تحفظ سے متعلق قریبی تعاون پر مزید توجہ دینا ہو گی۔ آئی اے ای اے، اقوام متحدہ، ایٹمی تحفظ کے کنونشن اور متعلقہ عالمی فورمز میں ہم آہنگی کی سخت ضرورت ہے۔آئی اے ای اے  جوہری تحفظ میں ہم آہنگی کیلئے قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم ڈاکٹر نوازشریف نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا آئندہ جوہری سلامتی سربراہ کانفرنس کی میزبانی اوباما کریں گے۔  وزیراعظم نے مزید کہا عالمی برادری پُرامن جوہری پروگرام کے معاملے پر پاکستان سے بھرپور تعاون کرے، امتیازی سلوک کی پالیسی اب ختم کی جانی چاہیے، طور خم پر نیٹو سپلائی بحال کر دی گئی ہے، افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلاء میں بھرپور تعاون کریں گے۔ وہ منگل کو  جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے توانائی، تجارتی، اقتصادی، دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی امن مذاکرات کے حوالے سے جاری کوششوں سمیت خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا  بعض معاملات میں عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ رکھا جانے والے امتیازی سلوک اب ختم کر دینا چاہیے۔ اس موقع پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا طالبان کے ساتھ امن مذاکرات سمیت خطے میں مفاہمتی عمل میں پاکستان کا کردار انتہائی مثبت اور اہم ہے۔ انہوں نے امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت میں وزیراعظم  نے کہا جی ایس پی پلس کا درجہ دلانے کیلئے پاکستان کی حمایت کرنے  پر میں نے جرمن چانسلر کا شکریہ ادا کیا‘ ملاقات انتہائی مفید رہی، اسکے نتیجہ میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ این این آئی کے مطابق  جرمن چانسلر نے افغانستان کے مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ ثناء نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا رکن ممالک کانفرنس کے فیصلوں کو یقینی بنائیں۔ ادھر وزیر اعظم اور جرمن چانسلر کے درمیان ملاقات میں انجیلا مرکل نے پرامن مقاصد کیلئے ایٹمی توانائی کے حصول کے پاکستانی مطالبے کی حمایت کر دی۔ جرمنی نے پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی کیلئے اپنے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرا دی ۔   جرمن چانسلر نے کہا جرمنی پاکستان کے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں ۔علاقائی امن و استحکام کیلئے بھارت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔عالمی برادری باہمی ایشوز مل کر حل کر نے کیلئے  بھارت پر دبائو ڈالے ۔جرمن چانسلر نے اس حوالے سے اپنا ممکنہ کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ نواز شریف نے زور دیا ہمیں مالی امداد نہیں بلکہ فنی مہارت اور تکنیکی شعبہ میں تعاون درکار ہے۔ اینجلا مرکل نے کہا پاکستان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال بھی زیر غور آئی، نواز شریف کا کہنا تھا افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ جرمن چانسلر کا کہنا تھا خطے میں امن کیلئے سب کو ملکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دونوں رہنمائوں کے مابین خوشگوار ماحول میں ہونیوالی ملاقات 45 منٹ تک جاری رہی۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا جوہری سلامتی ایک مسلسل قومی ذمہ داری ہے‘ آنے والے برسوں میں ہمیں نیوکلیئر سکیورٹی کو مستحکم بنانے کیلئے قومی سطح پر مسلسل چوکس اور تیار رہنے اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔  آن لائن کے مطابق وزیراعظم نے کہا پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے‘ پاکستان کو انرجی سیکٹر میں ضروریات پوری کرنے کیلئے جوہری مواد کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو اقوام عالم کی ضرورت ہے۔