پاکستان گیس مہنگی ‘ اداروں کی نجکاری ‘ قرضوں پر انحصار کم کرے : آئی ایم ایف ‘ سرمایہ کاری پیکج کی مخالفت

پاکستان گیس مہنگی ‘ اداروں کی نجکاری ‘ قرضوں پر انحصار  کم کرے : آئی ایم ایف ‘ سرمایہ کاری پیکج کی مخالفت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے قرض کے قسط کی منظوری دیتے ہوئے سرمایہ کاری پیکیج کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے گیس کی قیمت بڑھانے کیلئے لیوی کے نفاذ کے علاوہ مزید اقدامات بھی کئے جائیں۔ سرکاری تحویل کے کاروباری اداروں کے نجکاری کا عمل آگے بڑھنا چاہئے۔ سٹیٹ بینک کی خودمختاری کیلئے طے شدہ قانون سازی کی پارلیمنٹ سے بلاتاخیر منظوری لی جائے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے 55 کروڑ 56 لاکھ ڈالر قرض کے قط جاری کر دی جائیگی۔ پاکستان کے حکام نے معیشت کی بہتری کیلئے قابل تعریف اقدامات کئے۔ اس کے باوجود معاشی حالات چیلنج کے حامل رہیں گے۔ مالی استحکام کا عمل درست سمت میں ہیں تاہم ریونیو کی بنیاد کو بڑھانے اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن کی بہتری کیلئے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں ٹیکس میں شفافیت کے اقدامات درست ہیں۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت نے دسمبر 2013ء میں سرمایہ کاری کی ترغیبات کیلئے پیکیج دیا جو ان اقدامات کے منافی ہے۔ غریبوں کیلئے نقد امداد میں گڑبڑ کی روک تھام کی جانی چاہئے۔ حکومت سٹیٹ بنک سے قرضوں کے حصول میں کمی لائے۔ آن لائن+ثناء نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے  پاکستانی حکومت کو تاکید کی ہے زرمبادلہ پر کڑی نظر رکھی جائے، سٹیٹ بینک سے لئے جانیوالے قرض پر انحصار کم کرکے ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے اقدامات کریں۔واشنگٹن میں ہونیوالے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں آئی ایم ایف نے پاکستانی حکومت کی جانب سے کئے گئے معاشی اقدامات و اصلاحات کو خوش آئند قرار دیا تاہم عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا تھا  ملک میں مہنگائی کو کم کرنے کیلئے قوتِ خرید اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کیا جائے۔ مرکزی بنک کے اختیارات بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ میں جلد قانون سازی کی جائے اور ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلئے سخت اقدامات کے علاوہ غیر فعال قرضوں کی شرح میں کمی کی جائے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت پر سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں پیشرفت کیلئے بھی زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا   پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے میں کافی پیشرفت ہوئی ہے تاہم ملک کی اقتصادی صورتحال اب بھی مشکل میں ہے اور اس کے لیے مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ سرمایہ کاروں کے لیے اعلان کردہ ٹیکس سہولت سکیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا  ٹیکس محاصل میں اضافے کیلئے ٹیکس مشینری میں بہتری لانا ہو گی۔سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں پیش رفت ہونی چاہئے ۔ آئی ایم ایف نے گیس لیوی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا   ہے ۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے  پاکستان کی مالیاتی پوزیشن درست سمت کی طرف گامزن ہے تاہم معاشی استحکام کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاشی جائزہ سے متعلق اگلے مذاکرات آئندہ ماہ ہونے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید  کہا  حکومت سٹیٹ بنک سے قرض وصولیوں میں کمی کرے۔ زرمبادلہ ذخائر پر کڑی نظر رکھی جائے، مہنگائی میں کمی کیلئے شرح سود میں اضافہ ضروری ہے۔