قومی اسمبلی: بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کی قرارداد منظور‘ کم عمری کی شادیاں روکنے سمیت5 بل پیش

قومی اسمبلی: بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کی قرارداد منظور‘ کم عمری کی شادیاں روکنے سمیت5  بل پیش

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز، بالواسطہ محصولات میں کمی کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی جبکہ کمسن عمری کی شادیاں روکنے سمیت 5 ترمیمی بل پیش کر دئیے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ منظور کی جانے والی قرارداد کے تحت قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر ان ڈائریکریکٹ ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سے رکن اسد عمر نے پیش کی۔ جس میں براہ راست ٹیکسوں کے نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضال نے کہا کہ 18 کروڑ عوام میں سے صرف 10 لاکھ ٹیکس دے رہے ہیں۔ پاکستان کے لئے ہم سب کو ٹیکس دینا ہو گا۔ ایوان میں حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ قرار داد پر بحث کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن آصف حسنین نے کہا کہ ملک میں جاگیرداروں کی اجارہ داری ہے، جاگیرداروں نے خود کو صنعت کاروں کی صف میں شامل کر لیا ہے، ان پر ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ مسلم لیگ ن کے رکن پرویز ملک نے کہاکہ ٹیکس چوروں کو پکڑنا چاہتے ہیں، معاشی ایجنڈے کو مل کر حل کرنا ہو گا۔ تحریک انصاف کے جاوید ہاشمی نے کہا کہ جو بڑے صنعت کار اپنا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں، ان سے بھی پوچھا جائے۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہاکہ بڑے لوگوں کو بھی ٹیکس ادائیگی کے دائرہ کار میں لایا جائے، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب بڑے ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالا جائے، پارلیمانی سیکرٹری رانا افضال نے کہاکہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم چور دروازہ نہیں، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لئے ایسی سکیم لانا ضروری تھا۔ ماروی میمن نے امتناع جسمانی سزا بل 2014ء ایوان میں متعارف کرایا۔ طاہرہ اورنگزیب نے معذور افراد (روزگار بحالی) ترمیمی بل 2014ء مولانا امیر زمان نے آئین کے آرٹیکل 198 میں ترمیم کیلئے دستور (ترمیمی) بل 2014ء پیش کیا۔ بلوچستان کے شہر لورالائی میں ہائیکورٹ بنچ کے قیام کا بل بھی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف کی اقلیتی رکن آسیہ ناصر نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 51 میں مزید ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1984ء سے آج تک قومی اسمبلی میں اقلیتوں کیلئے دس نشستیں مختص رہی ہیں اکثریتی ارکان کی تعداد میں 200ء میں اضافہ کیا گیا تھا مگر اقلیتوں کیلئے مختص نشستوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر مسلموں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم آبادی کو اپنی آبادی کے مقابلے میں کم نمائندگی کے باعث کئی مسائل کا سامنا ہے لہذا اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستوں کو دس سے بڑھا کر سولہ کیا جائے۔ دریں اثناء چھوٹی عمر کی بچیوں کی شادی کی روک تھام کے حوالے سے ترمیمی بل 2014ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جبکہ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں آئین، قانون اور شریعت کو مدنظر رکھنا ہو گا اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رجوع کرنا پڑے گا۔ ماروی میمن نے تحریک پیش کی کہ کمسنی کی شادی کی روک تھام (ترمیمی) بل 2014ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اس بل کی منظوری سے چھوٹی عمر کی بچیوں کی شادی کی روک تھام سے کئی معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہو گا۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں آئین، قانون اور شریعت کو مدنظر رکھنا ہو گا اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رجوع کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بل کی مخالفت نہیں کی اور کہا کہ بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے ایوان سے اجازت ملنے پر ماروی میمن نے بل ایوان میں پیش کیا۔ ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ کمسنی میں شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے بل صوبائی معاملہ بن چکا ہے یہ صوبائی اسمبلیوں میں پیش ہونا چاہئے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ ایوان میں آئین کے آرٹیکل کی تشریح یا جاری بزنس کے حوالے سے قواعد کے تحت نکتہ اعتراض اٹھانے کی اجازت ہے۔ آئین کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیاں صرف وہی قانون سازی کر سکتی ہیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ کمسنی کی شادیوں کے حوالے سے بل قرآن و سنت سے متصادم ہے۔ اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجود ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ بل پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی جائے۔ وزیراعظم نے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات زیر بحث لانے کی ہدایت کی ہے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے رکن ایاز سومرو نے ضم شدہ، تقرر شدہ بذریعہ تبادلہ بل 2014ء پر حکومت کے ساتھ مزید مشاورت کرنے کے لئے واپس لے لیا۔ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل حالات کے باوجود ایک سال میں غیر ملکی ڈائریکٹ قرضوں کی مد میں چھ فیصد کمی کی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ایک سال میں ہم نے غیر ملکی ڈائریکٹ قرضوں کی مد میں چھ فیصد کمی کی ہے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ابن خلدون کے ٹیکس نظام کی مثال دی اور کہا کہ معیشت کی بحالی، بجلی کے بحران کے خاتمے اور ٹیکسوں کے نظام کے حوالے سے ایوان ہماری اصلاح کرے اور بتائے کہ ہم کہاں پر غلط جا رہے ہیں۔ اس سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہونگے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو قومی اسمبلی میں بحث کو سمیٹتے ہوئے کہی۔ دریں اثناء ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضٰی جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اگر مجلس قائمہ برائے بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین کے انتخاب میں کسی رکن کی رائے نہیں لی گئی تو اس بارے میں تحقیقات کرائی جائے گی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی مولانا امیر زمان نے ڈپٹی سپیکر کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ وہ بین الصوائی رابطہ کی مجلس قائمہ کے رکن ہیں لیکن چیئرمین کے انتخاب کیلئے طلب کئے گئے اجلاس کی اطلاع انہیں دی گئی اور نہ ہی ان سے رائے لی گئی جس پر ڈپٹی سپیکر مرتضٰی جاوید عباسی نے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ قومی اسمبلی کا رواں سیشن 8 اپریل تک جاری رہے گا یہ فیصلہ منگل کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ یوتھ اسمبلی کے ارکان نے بھی منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔