فیول ایڈجسٹمنٹ : بجلی 2.24 روپے یونٹ مہنگی ‘ پاور سیکٹر کی کارکردگی حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہی: نیپرا کا انکشاف

فیول ایڈجسٹمنٹ : بجلی 2.24 روپے یونٹ مہنگی ‘ پاور سیکٹر کی کارکردگی حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہی: نیپرا کا انکشاف

اسلام آباد (خبر نگار+ نیوز ایجنسیاں) نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جنوری میں خرچ کی جانیوالی بجلی کی قیمت میں 2 روپے 24 پیسے اضافہ جبکہ فروری میں خرچ کی جانے والی بجلی کی قیمت میں 27 پیسے کمی کر دی جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اضافہ اپریل کے بلوں میں وصول کیا جائیگا، نیپرا کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اپریل میں 12 ارب روپے اضافی وصول کریں گی۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ جنوری میں ہائی سپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر مہنگی بجلی پیدا کی گئی۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر سماعت نیپرا کے قائم مقام چیئرمین خواجہ محمد نعیم کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔ سماعت کے دوران سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا کہ فروری میں بجلی کی پیداوار پر اصل فیول لاگت 758 روپے یونٹ رہی جبکہ فروری کیلئے ریفرنس فیول لاگت 784 روپے یونٹ تھی۔ بجلی کی پیداوار پر مجموعی فیول لاگت 44 ارب 49 کروڑ روپے رہی۔ فروری میں 5 ارب 86 کروڑ 80 لاکھ یونٹ بجلی فروخت کی گئی۔ فروری میں ہائی سپیڈ ڈیزل سے بجلی کی پیداوار صفر ہے۔ کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر فیول لاگت 4 روپے 49 پیسے فی یونٹ، فرنس آئل 15 روپے 96 پیسے، گیس  4 روپے 33 پیسے، نیوکلیئر 1 روپے 32 پیسے اور ایران سے درآمد کی جانیوالی بجلی پر فیول لاگت 10 روپے 55 پیسے فی یونٹ رہی۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور کمی کا اطلاق 50 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین، کراچی اور پشاور الیکٹرک کمپنی پر نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیںنیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2012-13ء میں انکشاف کیا ہے کہ مستقبل میں بھی پاور سیکٹر کی کارکردگی حوصلہ افزاء دکھائی نہیں دے رہی جس کی وجہ سے پاکستان میں جون 2017ء میں بھی پیک آورز کے دوران بجلی کا شارٹ فال3905 میگا واٹ رہنے کا امکان ہے۔ 2017ء میں بجلی کی طلب 25521میگا واٹ جبکہ بجلی کی پیداوار 21616 میگا واٹ تک رہے گی۔ منگل کو نیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2012-13ء جاری کر دی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مستقبل میں بھی پاور سیکٹر کی کارکردگی حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہی جس کے باعث جون 2017ء میں پیک آورز کے دوران بجلی کا شارٹ فال 3905 میگا واٹ رہنے کا امکان ہے تاہم 2018ء میں بجلی کا شارٹ فال 1831 میگا واٹ تک آ جائے گا جبکہ 2016-17ء کے دوران بجلی کا اوسط شارٹ فال 2000 میگا واٹ تک رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2017ء میں بجلی کی طلب 25521 میگا واٹ جبکہ پیداوار 21616 تک رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012-13ء کے دوران کے ای ایس سی میں لوڈ شیڈنگ قدرے کم رہی۔رپورٹ میں نیپرا حکام نے کہا کہ پاکستان میں 33فیصد بجلی مہنگے تیل فرنس آئل پر تیار ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے گیس پر 7 روپے فی یونٹ تیار کی جانے والی بجلی ڈیزل پر 24 روپے فی یونٹ میں بنائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ گیس نہ ملنے کے باعث بجلی 17روپے فی یونٹ مہنگی پیدا کی جا رہی ہے۔