حکومتی کمیٹی نہ جا سکی ‘ موسم بہتر ہونے پر طالبان سے براہ راست مذاکرات آج ہوں گے

حکومتی کمیٹی نہ جا سکی ‘ موسم بہتر ہونے پر طالبان سے براہ راست مذاکرات آج ہوں گے

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات موسم کی خرابی کے باعث نہیں ہو سکی جبکہ لندن میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موسم ٹھیک ہونے کی صورت میں حکومتی کمیٹی آج روانہ ہو گی۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم خان نے طالبان شوریٰ سے رابطہ کر کے گذشتہ روز ہونیوالی ملاقات ملتوی ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد ایئر پورٹ جب کہ طالبان کمیٹی نے پشاور ایئر پورٹ سے طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے خفیہ مقام پر جانا تھا۔ پروفیسر ابراہیم خان نے کہا ہے کہ موسم ٹھیک ہونے پر دوبارہ تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ رستم شاہ مہمند بھی مذاکرات کے لئے آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر سکتا جس کے باعث مذاکرات ملتوی کر دئیے گئے۔ انہوں نے کہا طالبان شوریٰ کے ساتھ ملاقات پر ہی مطالبات پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ فائر بندی کو مستقل کرانے کی کوشش کی جائے گی ہم بذریعہ سڑک جانے کے لئے بھی تیار تھے مگر کمیٹی کے بزرگ ارکان کے لئے غیر معمولی مشقت اٹھانی پڑے گی۔ ملاقات موسم ٹھیک ہونے پر آج یا کل ہو سکتی ہے۔ پروفیسر ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکر اور مولوی بشیر طالبان کی نمائندگی کریں گے۔ قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو رہیں۔ دریں اثناء مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیابی کی طرف گامزن ہیں، دونوں فریق کامیابی کیلئے مخلص ہیں، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر حکومتی شخصیات کو صورتحال کا پورا احساس ہے، فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں۔ وہ مولانا محمد شفیق دولت زئی سے ملاقات میں بات چیت کر رہے تھے۔ مولانا سمیع الحق نے بعض نام نہاد ترقی پسندوں کی طرف سے آپریشن کیلئے چلائی جانیوالی مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذموم عزائم رکھنے والے ان عناصر کو منہ کی کھانی پڑیگی۔ مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ طالبان نے عسکری تنظیموں کو کنٹرول کرلیا اور وہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے اور ملک میں جنگ بندی اب بھی جاری ہے۔ طالبان مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے والوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ براہ راست مذاکرات کے لئے وزیرستان جانا تھا تاہم موسم کی خرابی آڑے آگئی۔ سیز فائر میں توسیع اولین ترجیح ہے۔ آن لائن کے مطابق پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت، طالبان مذاکرات میںکامیابی کے امکانات بھی روشن ہیں تاہم خدشات بھی موجود ہیں۔ یہ مذکرات جلد بھی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں تاہم یہ طول بھی پکڑ سکتے ہیں۔ دونوں اطراف سے غیر عسکری قیدیوں کے تبادلہ کا عمل شروع ہوگیا تو اس سے مذاکرات کی کامیابی میں مدد مل سکتی ہے ۔ حکومت اور طالبان میں براہ راست مذاکرات کا شروع ہونا بذات خود ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ اللہ نے چاہا اور موسم نے اجازت دی تو بدھ (26مارچ) کو بھی حکومتی کمیٹی اور طالبان کمیٹی طالبان شوریٰ کی نامزد کردہ کمیٹی سے ملاقات کے لئے روانہ ہوسکتی ہے۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ انہیں ٹھوس معلومات تو نہیں کہ حکومتی ایجنسیوں اور طالبان کے پاس جو قیدی ہیں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہورہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ شاید قیدیوں کے ساتھ برتاؤ میں دونوں فریقین قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھ رہے۔ شریعت کا نفاذ زیر بحث نہیں۔ امن قائم ہوگا تو انشاء اللہ شریعت بھی آجائے گی۔ فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انہیں کسی قابل عمل معاہدے اور حل پر متفق کرنے کی کوشش کریں گے۔