ایٹمی ملک افزدوہ یورینیم کے ذخائر کم کریں: جوہری توانائی کو القاعدہ جیسی تنظیموں کے پاس جانے سے روکا جائے: نیوکلیئر کانفرنس

ایٹمی ملک افزدوہ یورینیم کے ذخائر کم کریں: جوہری توانائی کو القاعدہ جیسی تنظیموں کے پاس جانے سے روکا جائے: نیوکلیئر کانفرنس

 ہیگ (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) جوہری توانائی کانفرنس نے ایٹمی ممالک پر زور دیا ہے وہ افزودہ یورینیم کے انبار کم کرکے جوہری توانائی القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگنے سے بچائیں۔ دو روزہ جوہری عدم پھیلا¶ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ اگلی جوہری عدم پھیلا¶ کانفرنس 2016ءمیں امریکی شہر شکاگو میں ہوگی۔ منگل کو ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں جاری جوہری عدم پھیلا¶ کے حوالے سے کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے اعلیٰ افزودگی کے یورینیم والے ذخائر کم کئے جائیں اور ایٹمی ہتھیار وار یورینیم کو کم افزودگی میں تبدیل کیا جائے۔ اجلاس میں شریک 35 ممالک نے عزم ظاہر کیا وہ جوہری تحفظ کے عالمی ضوابط کو ملکی قوانین میں تبدیل کریں گے۔ ان ممالک میں اسرائیل، قازقستان اور ترکی شامل ہیں جبکہ سمجھوتے میں روس، چین، بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ تیسری جوہری کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا جوہری سلامتی قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان جوہری مقاصد کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور عالمی برادری کے ساتھ جوہری سلامتی اور تحفظ کیلئے ملکرکام کررہا ہے۔ جوہری سلامتی کانفرنس شرکا کو فیصلوں پر عملدرآمد کا موقع فراہم کرتی ہے۔ بیان میں کہاگیاجوہری سلامتی کا عالمی نظام موجود ہے اسلئے متوازی نطام وضع کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کا جوہری سلامتی کا نظام پانچ ستونوں پر مشتمل ہے جس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے تحت مربوط کمانڈ اینڈکنٹرول نظام موجود ہے اور اسکے ساتھ ساتھ جوہری اثاثوں کی حفاظت کیلئے تہہ در تہہ نظام بھی موجود ہے۔ بیان میں کہاگیا جوہری مواد تنصیبات اور ممکنہ تابکاری سے بچاﺅ کیلئے سخت حفاظتی نظام موجود ہے۔ جوہری برآمدات کے بارے میں پاکستان کا نظام نیوکلیئر سپلائرز کے عین مطابق ہے۔ اختتامی سیشن سے خطاب میں میزبان ملک ہالینڈ کی وزیراعظم کا کہنا تھا ایٹمی دہشت گردی کی روک تھام پوری دنیا کا معاملہ ہے۔ امریکی صدرباراک اوباما کاکہنا تھا کانفرنس کا اہم نکتہ باتیں نہیں بلکہ اقدامات ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے اعلان کیا جوہری تحفظ کانفرنس 2016ءشکاگو میں منعقد ہوگی۔ آئی این پی کے مطابق مشترکہ اعلامئے کے مطابق پاکستان نے اپنے بیان میں کہا نیوکلیئر سکیورٹی حکومت کی قومی ذمہ داری ہے اس کیلئے عالمی برادری کے ساتھ ہیں اور اس کو بڑھانے کیلئے پُرعزم ہیں۔ پاکستان کی طرف سے کہا گیا جوہری ممالک آنے والے وقتوں میں جوہری تحفظ کو مقدم رکھنے کیلئے اقدامات کریں اور فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے نیوکلیئر سکیورٹی کیلئے تعاون بڑھائیں۔ اے ایف پی کے مطابق خطرناک مواد کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکے جانے کے حوالے سے اجلاس میں 35 ممالک نے نیوکلیئر سکیورٹی مزید سخت بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ نیوکلیئر سکیورٹی سمٹ کی سائیڈلائن پر جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں 35 ممالک نے اس حوالے سے ملکر کام کرنے کا عہد کیا اور اپنے حساس نیوکلیئر معاملات پر گاہے بگاہے نظرثانی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ روس کو نکال کر اسرائیل، قازقستان، مراکش اور ترکی سمیت ان ممالک نے آئی اے ای اے کی جانب سے نیوکلیئر میٹریل کی حفاظت کیلئے بنائے گئے معیارات کو قبول کرنے اور آگے بڑھانے کے ارادے کا اظہار کیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق یہ ممالک افزودہ یورینیم کے ذخائر میں کمی کے اقدامات کریں گے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق تیسری نیوکلیئر سمٹ کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے جوہری توانائی والے ممالک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کریں اور جوہری مواد کو القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگنے سے بچائیں اور ایٹمی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ 53 ممالک کے رہنما¶ں نے ایٹمی ہتھیاروں کیلئے افزودہ یورینیم کو کم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ القاعدہ طرز کی عسکریت پسند تنظیمیں ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ رہنما¶ں نے کہا 2010ءمیں پہلی جوہری کانفرنس کے بعد 4 برسوں میں اس حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی تاہم افزودہ یورینیم، پلوٹونیم اور دوسرا خطرناک میٹریل غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانے کیلئے ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور روا نے کریمیا پر اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اجلاس کے اعلامیے کی تائید کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے انقلابی گروپ رقوم، فنی تعلیم اور ضروری میٹریل حاصل کر لیں تو وہ ایک خام مگر خطرناک ایٹم بم تیار کر سکتے ہیں۔ اعلامئے میں کہا گیا ہم افزودہ یورینیم استعمال کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ اپنے جوہری ری ایکٹرز کو ایٹم بم بنانے والے افزودہ یورینیم سے کم افزودہ یورینیم میں تبدیل کریں۔ آن لائن کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر کہا وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور دیگر برآمدی کنٹرول کے اداروں کا رکن بننے کا اہل ہے اور اسے غیر امتیازی طور پر رکن بنانا چاہئے، پاکستان جوہری دہشگردی سے نمٹنے کے لئے عملی کوششوں میں شریک ہے اور اس نے جوہری تنصیبات اور مواد کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں وقتاً فوقاً اپڈیٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ فوکوشیما کے حادثے کے بعد تمام ایٹمی بجلی گھروں کا تفصیلی جائزہ لیا گی اور مناسب اقدامات اٹھائے گئے۔ اوباما نے جوہری دہشت گردی کو سب سے فوری اور انتہائی خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے روکنے کے لئے عالمی رہنما¶ں پر ملکر کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا یہ ہمارے لئے اہم ہے کہ ہم ریلیکس نہ کریں بلکہ اگلے 2 برسوں میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا چاہئے۔جوہری تحفظ کے معاملات پر عالمی سربراہ کانفرنس میں شریک 53 ممالک میں سے 35 نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے رہنما اصولوں کی بنیاد پر قانون سازی کا عزم کیا ہے تاہم ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں جوہری سلامتی پر دو روزہ سربراہ اجلاس میں شریک پاکستان، بھارت، چین اور روس جیسی جوہری طاقتوں نے جوہری سلامتی کی اس نئی عالمی کاوش کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک نے عالمی رہنما اصولوں کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے وہ اپنے غیرجانبدار ماہرین سے اپنے ’جوہری مواد کے تحفظ کے اقدامات کے جائزے‘ پر بھی تیار ہوگئے ہیں۔ بیان کے مطابق یہ 35 ممالک انتہائی افزودہ یورینیم کی مقدار کم سے کم رکھنے پر بھی تیار ہوگئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے کہا 12 ممالک اور دنیا بھر میں دو درجن جوہری تنصیبات انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم سے چھٹکارا حاصل کر لیں گی۔