سرینگر: بھارتی فورسز کے قافلے پر حملہ: 8 اہلکار ہلاک‘20 زخمی

سرینگر: بھارتی فورسز کے قافلے پر حملہ: 8 اہلکار ہلاک‘20 زخمی

سرینگر (نیٹ نیوز+ اے ایف پی+ نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں سنٹرل ریزرو پولیس کے قافلے پر حملے میں سی پی آر ایف کے 8 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوئے، جھڑپ میں دو مجاہدین شہید ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سرینگر سے جنوب کی جانب 15 کلومیٹر دور پام پورہ کے فریصتا بل علاقے میں ہوا۔ پولیس کے مطابق جب سینٹرل ریزرو پولیس فورسز (سی آر پی ایف) کی چھ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جنوبی کشمیر کے ایک ٹریننگ مرکز سے سرینگر کی طرف آ رہا تھا تو ایک کار سے دو مسلح حملہ آوروں نے قافلے میں شامل بس پر فائرنگ کردی۔ بس میں سی آر پی ایف کے افسر اور اہلکار سوار تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ میں 8 فورسز اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے‘ متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل نیلین پربھات دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ بندی خودکش حملہ تھا اور دونوں حملہ آور ’پاکستانی شہری‘ تھے۔ انکا کہنا ہے کہ فائرنگ میں بس کے اگلے دو پہئے بلاسٹ ہوگئے جس کے بعد حملہ آوروں نے بس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہاں موجود سی آر پی ایف کے ہی گشتی دستے نے ان پر فائرنگ کرکے انہیں شہید کردیا۔ پربھات نے کہا مارے گئے دونوں حملہ آور پاکستانی شہری ہیں اور ان کا تعلق لشکر طیبہ کے ساتھ ہے۔ اس دوران لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے سرینگر میں جاری بیان میں اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کے دو فدائی حملہ آور اس حملہ میں مارے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حملے میں 13 سی آر پی ایف اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مزید حملے کریں گے۔ حملے کے بعد مقامی لوگوں کی بڑی تعداد پام پورہ کی شاہراہ پر جمع ہوگئی لوگوںنے فوج اور حکومت کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ یہ حملہ عین اسوقت ہوا جب جنوبی کشمیر کے ہی اننت ناگ اسمبلی حلقے کیلئے ضمنی انتخابات میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو کامیاب قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے فورسز اہلکاروں کی ہلاکت پر کہا کہ کچھ قوتیں کشمیر میں امن کو درہم برہم کرنا چاہتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ تشدد سے آج تک کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں نکلا بلکہ اس سے لوگوں کے مصائب میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس حملہ کے بعد وادی میں سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا۔ واضح رہے جنوبی کشمیر میں گزشتہ چند سال کے دوران پے در پے حملے ہو رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد مسلح گروپوں میں شامل ہوگئی ہے۔ پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا ہے حملہ لشکر طیبہ کے لوگوں نے کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سانبہ سیکٹر میں ساتھی اہلکار پر فائرنگ کرکے فرار ہونے والے پولیس ہلکار کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوںکے خون سے رنگے ہیں۔ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ سانحہ گائوںکدل کے شہداء کو ان کی 25 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کے دوران سانحہ گائوں کدل اور اس طرح کے دیگر دلخراش سانحات میں عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ دختران ملت کی صدر آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نظام مصطفی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے۔ اسلام آباد میں فوجیوں کے ہاتھوں مسجد کی بے حرمتی کے خلاف ہڑتال ہوئی۔ جھڑپیں اننت ناگ میں ہوئیں جس پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ شہید نوجوانوں کو سپردخاک کر دیاگیا ہے۔ جھڑپوں میں بیسیوں افراد ہوگئے۔ ادھر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئی ہیں۔ اننت ناگ حلقے سے 12000 ووٹ لئے۔ بھارتی حکام کے مطابق مائسمہ میں مظاہرہ اور ہڑتال ہوئی۔ جس پر پولیس نے شیلنگ کی۔ بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں اہلکاروں کی بس پر حملے کے بعد پاکستان کیخلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ بغیر تحقیقات حملے کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ دریں اثناء پام پور کے اس واقعہ کے بعد بھارتی فوج نے اوڑی سیکٹر میں ایل او سی کے قریب دو نوجوانوں کو مجاہد قرر دیکر شہید کردیا۔ وزیر مملکت کرن رجیجو نے کہا ہے کہ دو حملہ آور مارے گئے جبکہ دو وہاں سے کار پر فرار ہوگئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ علاقے کے ڈی جی پولیس راجندر کمار نے 8 بھارتی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق محمد یاسین ملک کی زیرقیادت احتجاجی مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو کیا۔ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ اس موقع پر مقامی مارکیٹیں بند ہوگئیں۔