تحریک انصاف کس منہ سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے‘ ان کیلئے پرویز رشید ہی کافی ہیں: نثار

تحریک انصاف کس منہ سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے‘ ان کیلئے پرویز رشید ہی کافی ہیں: نثار

راولپنڈی (ایجنسیاں) وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف والے کس منہ سے اخلاقی جرأت پر وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اپنے دو چیف الیکشن کمشنرز اور احتساب کمشنر نے کرپشن پر استعفیٰ دیا، کیا اس پر کسی نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ تحریک انصاف کی باتوں کا جواب دینے کیلئے پرویز رشید ہی کافی ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ عزم سے کیا جا سکتا ہے۔ رینجرز، پولیس اور ایف سی نے دہشت گردوں کیخلاف ملک بھر میں موثر کارروائیاں کی ہیں۔ بیرسٹر اویس شاہ کے اغوا کے معاملے پر میرا خود تمام ایجنسیوں سے رابطہ ہے۔ 24 گھنٹے اسی معاملے پر توجہ ہے، بہت جلد اسکا کوئی نہ کوئی رزلٹ سامنے آئیگا۔ امجد صابری کا قتل اور اویس شاہ کے اغوا سے کراچی آپریشن پر سوالیہ نشان نہیں بنا، ان واقعات کا مقصد کراچی میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ ایان علی کا نام وزارت داخلہ نے ای سی ایل میں نہیں ڈالا، ایف بی آر کی سفارش اور کریمنل کیس پر ایان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد ہے کہ کراچی اور ملک میں خوف و ہراس پھیلے۔ اپنی سکیورٹی ایجنسیز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھائے جانے چاہئیں، میں کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا لیکن سب کے سامنے ہے کہ امریکہ میں ہم سے بھی زیادہ سکیورٹی ہے، اسکے باوجود وہاں ایک شخص نے چند منٹوں میں 50 لوگوں کو قتل کردیا۔ فرانس، برطانیہ، بیلجیئم میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ احساس کرنا چاہئے کہ خوف و ہراس دہشت گردوں کے مفاد میں ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہم اپنے سکول، دکانیں اور محلے بند نہیں کرسکتے، اسلئے ہم نے اپنے روزمرہ کے کام بھی جاری رکھنے ہیں اور ان بدترین دہشت گردوں کا بھی قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ عزم اور اتحاد سے کیا جاسکتا ہے، نہ کہ کمزوری کا پیغام دیکر ہمیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، ان واقعات سے ہمارا عزم کمزور نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ کے فیصلے کو جمہوری طور پر خوش آئند قرار دیتے ہیں لیکن استعفیٰ کا فیصلہ انکا ذاتی معاملہ ہے، اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ تحریک انصاف ڈیوڈ کیمرون کے استعفے سے اپنی کہانی جوڑ رہی ہے۔ بات وہی کرنی چاہئے جو خود پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔ عوام نے ضمنی، بلدیاتی اور عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو جمہوری طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہئے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایان علی کیس سے متعلق غلط فہمی کیوں پیدا کی جا رہی ہے۔ 30، 30 سال سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے نام ای سی ایل میں تھے، نہ کسی عدالت نے، نہ حکومت، نہ سول سوسائٹی اور نہ میڈیا نے اسکا نوٹس لیا، پہلی دفعہ موجودہ حکومت نے کوشش کی کہ ای سی ایل کو شفاف کیا جائے، ماضی میں میاں بیوی کی لڑائی بھی ہوتی تھی تو نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ علاوہ زیں وزیر داخلہ چودھری نثار آج کراچی جائیں گے۔ وزارت داخلہ کے مطابق وہ کراچی میں امن و امان سے متعلق اجلاس میں شرکت کرینگے۔