اویس شاہ کے اغوا سے عام آدمی کو منفی پیغام ملا‘ حکومت اور رینجرز بازیابی کیلئے فوری اقدامات کریں: چیف جسٹس

اویس شاہ کے اغوا سے عام آدمی کو منفی پیغام ملا‘ حکومت اور رینجرز بازیابی کیلئے فوری اقدامات کریں: چیف جسٹس

کراچی (وقائع نگار+ نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور رینجرز کو اویس شاہ کی بازیابی کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اویس شاہ کے اغوا سے ججز اور انکے اہل خانہ میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ ایسے واقعات سے عوامی حلقوں میں منفی پیغام گیا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکرٹری اور سکیورٹی اداروں کے حکام کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے مغوی صاحبزادے اویس شاہ کو جلد بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اویس شاہ کے اغوا سے عام آدمی کو منفی پیغام ملا ہے۔ چیف جسٹس انورظہیر جمالی سے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور چیف سیکرٹری سندھ نے الگ الگ ملاقات کی جس میں چیف جسٹس کو اویس شاہ کی بازیابی کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اویس شاہ کی بازیابی اور کراچی میں امن و امان کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ قبل ازیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے زیرصدارت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ سندھ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، ڈی آئی جی سائو تھ منیر شیخ، ایس ایس پی فاروق اعوان اور ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ نے شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے ایڈووکیٹ اویس علی شاہ کے اغوا اور بازیابی کیلئے اب تک کے اقدامات سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا گیا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پولیس کی کارکردگی اور اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ بعد ازاں ڈی جی رینجرز سندھ نے بھی چیف جسٹس سے ملاقات کی اور اویس شاہ کے اغوا اور انکی بازیابی کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ہدایت کی کہ اویس شاہ کی فوری بازیابی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، ججوں اور انکی فیملی کے ارکان کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ اس دوران ڈی جی رینجرز سندھ سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہان نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کی بازیابی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی طلبی پر انکے چیمبر میں سب سے پہلے چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری داخلہ سندھ نے ملاقات کی ۔ دونوں افسروں نے چیف جسٹس کو اویس شاہ کے اغوا کے بعد کی صورتحال اور بازیابی کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اسکے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر اور اویس شاہ اغوا کیس بازیابی کیلئے بنائی گئی کیمٹی کے ارکان ڈی آئی جی سائوتھ منیر شیخ ، ڈی آئی جی سلطان خواجہ ، ایس ایس پی فاروق اعوان نے چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ آئی جی سندھ نے اویس شاہ کے اغوا کے بعد کی صورتحال پر چیف جسٹس کو بریفنگ دی۔ اویس شاہ کی بازیابی کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے چیف جسٹس کو بازیابی کے اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ بعد میں ڈی جی رینجرز مجیر جنرل بلال اکبر نے ملاقات کی، ڈی جی رینجرز نے چیف جسٹس کو اویس شاہ کی بازیابی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے اویس شاہ کی بازیابی کے اقدامات سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیرسٹر اویس شاہ کی بازیابی سے متعلق اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق جسٹس انور ظہیر جمالی نے تفتیش کی سمت کو درست قرار دیا اور تحفیقات کی سمت کو ٹارگٹڈ بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہاکہ تفتیش کے سلسلے میں کسی دوسرے صوبے میں جانا ہے تو بتائیں۔ فاٹا، پاٹا یا نادرن ایریاز جانا ہے تو بتائیں، تفتیش کیلئے ٹیکنالوجی کی فراہمی میں مدد کرسکتے ہیں۔ دریں اثناء چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا پر وکلا نے چوتھے روز بھی عدالتی بائیکاٹ کیا۔ احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ وکلا رہنمائوں نے اویس شاہ کے اغوا اور امجد صابری کے قتل کے واقعات میں سی سی پی او کراچی کو شامل تفتیش کرنے اور 2 دن میں اویس شاہ کو بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا‘ ناکامی پر تحریک چلانے کا بھی اعلان کیا۔