پانامہ لیکس: انکوائری ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو سڑکوں پر ہونگے: بلاول

پانامہ لیکس: انکوائری ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو سڑکوں پر ہونگے: بلاول

اسلام آباد‘ کراچی‘ لاہور (خبر نگار خصوصی + خصوصی رپورٹر+ خبر نگار + نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) پیپلزپارٹی نے بھی اثاثے چھپانے پر وزیراعظم نوازشریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف‘ حمزہ شہباز‘ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور کیپٹن (ر) صفدر کی نااہلی کیلئے ریفرنس تیار کر لیا جو کل پیر کو دائر کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ (کل) پیر کو الیکشن کمشن میں ریفرنس دائر کریں گے۔ مجوزہ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اہلیہ اور بچوں کے غلط اثاثے ظاہر کئے جبکہ انکم ٹیکس گوشواروں میں بھی غلط بیانی کی۔ پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجنا جو جرم ہے۔ وزیراعظم نوازشریف آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے، انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق بنک ڈیفالٹ سے متعلق سٹیٹ بنک کا خط بھی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ ریفرنس کے ساتھ تمام ثبوت بھی فراہم کئے جائیں گے۔ ریفرنس میں شہبازشریف‘ کیپٹن (ر) صفدر‘حمزہ شہباز‘ سینیٹر اسحاق ڈار کے نام بھی شامل ہیں۔ یہ پانچوں افراد آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے۔ نوائے وقت سے بات کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور دیگر چاروں شخصیات اثاثے چھپا کر جھوٹے حلف نامے دیکر صادق اور امین نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف اور دیگر بنکوں کے ساڑھے 6 ارب کے نادہندہ تھے۔ سٹیٹ بنک کی فہرست میں انکے نام شامل ہیں، اسکے باوجود انہوں نے حقائق چھپائے اور 2013ء کا الیکشن لڑا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے یہ قرضہ ادا کیا‘ کلیئرنس لے لی۔ انہوں نے 2013ء کے انتخابات میں جھوٹ بولا کہ یہ کسی محکمے کے نادہندہ نہیں ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمشن کے پاس ہر سال جو اثاثے ظاہرکئے اس میں بھی اپنے اثاثے چھپائے۔ میاں نوازشریف کے جو اثاثے انکی اولاد کے نام ہیں، مریم نواز اگر وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیرکفالت ہیں تو پھر انکے نام موجود اثاثے کس کے ہیں۔ نوازشریف کے حوالے سے 30 ملین ڈالر کے اثاثے سامنے آئے ہیں۔کیوہو ہولڈنگز جو میاں نوازشریف کے نام پر ہے، اس میں بھی 1.9 ملین پائونڈ کے اثاثے ہیں۔ دریں اثنا پیپلزپارٹی کے ریفرنس سے متعلق تحریک انصاف سے مدد مانگ لی۔ سردار لطیف کھوسہ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو ٹیلیفون کیا اور وزیراعظم کی بیرون ملک جائیداد کے حوالے سے مدد طلب کی تاکہ وزیراعظم کیخلاف ریفرنس دائر کیا جا سکے۔ فیصل واوڈا نے بتایا کہ لطیف کھوسہ کو وزیراعظم کی بیرون ملک جائیداد کے ثبوت فراہم کر دیئے ہیں۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے پانامہ لیکس انکوائری ختم کرنے کی کوشش کی تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر عوام کی قیادت کریگی۔ وزیراعظم سمیت جس نے قومی دولت لوٹی اور آف شورکمپنیاں بنائیں‘ ہم ان سب کا احتساب چاہتے ہیں تاکہ کسی کرپٹ عنصر کو بھاگنے کا راستہ نہ مل سکے۔ بلاول اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں پانامہ لیکس پر وزیراعظم کے خلاف ریفرنس سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی ۔ اس موقع پر بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سمیت جس نے بھی قومی دولت لوٹی اور آف شورکمپنیاں بنائیں‘ ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی نے اوپر سے نیچے تک احتساب کے ذریعے کرپشن سے جان چھڑانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ پیپلزپارٹی شفاف احتساب سمیت تمام لوگوں کیلئے یکساں احتساب کے مؤقف پر قائم ہے تاکہ کسی کرپٹ عنصر کو بھاگنے کا راستہ نہ مل سکے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کسی فرد واحد کو ہدف نہیں بنارہی لہٰذا حکومت پانامہ لیکس کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالنا بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے سیاسی حربے استعمال کرنا بند نہ کئے تو ہم عوام کوسڑکوں پرلاسکتے ہیں اور اگر پانامہ لیکس پر انکوائری ختم کرنے کی کوشش کی تو سڑکوں پر عوام کی قیادت بھی کریں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ہفتہ کو بلاول ہاؤس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور انہیں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور حالیہ بجٹ پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر بلاول نے زور دیا کہ امن و امان کی صورتحال حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور سکیورٹی میں موجود خلا کو پُر کیا‘ دہشت گردوں سمیت معاشرے کو نقصان دینے والے تمام عناصر کو روکنے کیلئے ہو سکے تو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی فورسز کو مزید فعال بنایا جائے۔ بلاول نے کہا کہ پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، اسلئے قوال امجد صابری کے قتل اور اویس شاہ کے اغوا سمیت کراچی میں دہشت گردی کے واقعات امن امان کے حوالے سے معمولی نہیں۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے مناسب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ خورشید شاہ نے چیئرمین کو وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ہونیوالی ملاقات اور پیپلزپارٹی کی پانامہ لیکس سے متعلق ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر بریفنگ دی۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری پارٹی کسی فرد واحد یا کسی ایک کو ٹارگٹ بنانے کیلئے اسے استعمال کرنے کی بجائے تمام لوگوں کیلئے یکساں احتساب والے مؤقف پر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک احتساب کرکے ملک میں کرپشن کی بُرائی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ خورشید شاہ نے پارٹی چیئرمین کو اس معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں سے جاری رابطوں پر بریفنگ دی اور کہا کہ مزید حکمت عملی کیلئے پارٹی ان کو ساتھ رکھے گی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں رمضان کے بعد پارٹی کی نئی حکمت عملی کے بارے میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میں وزیراعظم نوازشریف سمیت 5 افراد کے خلاف الیکشن کمشن میں دائر ریفرنس پر بھی بات چیت کی گئی۔آئی این پی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی تمام کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کا اجلاس 30 جون کو زرداری ہائوس اسلام آباد میں طلب کر لیا۔ بلاول بھٹو احتجاجی تحریک کی تیاریوں سے متعلق اجلاس کیلئے دو روز تک اسلام آباد پہنچیں گے۔
اسلام آباد (نوخیز ساہی+ دی نیشن رپورٹ) بلاول بھٹو نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی طرف سے ٹی او آر کمیٹی میں واپسی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ دی نیشن کو ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز ملاقات میں بلاول نے تجویز کو مسترد کیا۔ پارٹی چیئرمین نے جمعرات کے روز اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت بھی کی تھی جس میں پانامہ لیکس کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ نے چیئرمین کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی کو ٹی او آر کمیٹی میں شامل رہنا چاہئے۔ اس موقع پر سندھ کے ایک رہنما اعجاز جاکھرانی بھی خورشید شاہ کی تجویز کے حامی تھے تاہم چیئرمین نے دونوں رہنمائوں کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ ہم نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا اور اب مزید کمیٹی کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ چیئرمین نے کہاکہ پنجاب اور خیبر پی کے ارکان نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے۔ خورشید شاہ اس فیصلے پر مطمئن نہیں تھے اور ملاقات کے آخر تک واپسی کا کہتے رہے تاہم چیئرمین نے کہا شاہ صاحب میں فیصلہ کرچکا ہوں اب واپسی ممکن نہیں اور انہوں نے اعتزاز احسن کو اس حوالے سے میڈیا کوآگاہ کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے ساتھ تھی اور رہے گی۔ ملاقات کے بعد اعتزاز نے فیصلوں سے میڈیا کو بھی آگاہ کیا۔ اس سے قبل خورشید شاہ نے چیئرمین کو کسی اقلیتی شخص کو صدر بنانے سے متعلق بیان دینے سے بھی روکا تھا مگر وہ نہیں مانے تھے۔ اعجاز جاکھرانی نے اسکی تصدیق کی کہ وہ اور خورشید شاہ کمیٹی سے نکلنے کے مخالف تھے۔