کوئی پیر فقیر نہیں جو بتا سکوں امجد صابری کے قاتل کب پکڑے جائیں گے: قائم علی شاہ

کوئی پیر فقیر نہیں جو بتا سکوں امجد صابری کے قاتل کب پکڑے جائیں گے: قائم علی شاہ

کراچی (وقائع نگار) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ امجد صابری قتل سے متعلق کچھ اشارے ملے ہیں اور کیس میں پیشرفت ہوئی ہے، پیر فقیر نہیں ہوں جو بتا سکوں کہ امجد صابری کے قاتل کب پکڑے جائیں گے تاہم کوشش ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔ امجد صابری کے قتل کے متعلق مزید پیشرفت سے متعلق ابھی نہیں بتاسکتا۔ کراچی میں امن کیلئے سکیورٹی اداروں کو ہم نے فری ہینڈ دیا جبکہ رینجرز کو دہشت گردوں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزکیخلاف کارروائی کا پورا اختیاربھی دیاہے۔سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کا علاقہ لیاقت آباد انتہائی پرامن علاقہ ہے جہاں پنچھی پَر نہیں مارسکتا لیکن امجد صابری کے قتل کا واقعہ گھناؤنا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل لیکس لیکس کا چرچا ہے اسی طرح ہمیں بھی کوئی لیکس ملی ہے جو امجد صابری کے قتل میں ملوث ملزمان تک پہنچنے میں مدد دیگی۔ دہشت گرد ایک طرف اویس شاہ کے اغوا کی صورت عدالتوں کو دبانے اور ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری طرف ہمیشہ کی طرح سیاست دانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کراچی آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد شروع کیا گیا اور سب نے مجھے اس آپریشن کی کپتانی سونپی جبکہ پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی ہمارے حوالے کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی آپریشن کے دوران کوئی تفریق نہیں برتی۔ رینجرز کو ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے خلاف تمام اختیارات دیئے جس سے سکیورٹی اداروں کاحوصلہ بڑھا، اور ایک وقت آیا کہ تاجروں اورصنعت کاروں نے امن وامان کے قیام پر الگ الگ آکرمجھے مبارکباد دی اور گزشتہ دو واقعات سے قبل شہر قائد کے باسی بھی شہر کے حالات پر مطمئن اور معترف بھی تھے کئی سال بعد عوام نے گزشتہ عید سکون سے گزاری جبکہ محرم بھی پرامن گزرا۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ جتنے دہشتگرد ہم نے پکڑے اتنے کسی نے بھی نہیں پکڑے جبکہ سندھ میں امن و امان کے قیام میں آرمی چیف نے ذاتی دلچسپی لی جس پر جنرل راحیل شریف کے مشکور ہیں۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی آپریشن ایک مخصوص طبقے یا سیاسی جماعت کے خلاف ہے لیکن مجھے کوئی مجھے بتائے کہ میں نے کسی سے کسی بات کا بدلہ لیا ہم نے کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے دوستوں نے رینجرز کو نکالنے کا بھی مشورہ دیا۔ ہم نے تمام رشتوں ، سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارروائیاں کیں اور لیاری میں سب سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ انتقامی کارروائیاں ہمارے خلاف ہوئیں۔وزیراعلیٰ نے امجد صابری کے ورثا کے لئے 1 کروڑ روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امجد فرید صابری کے خون کے ایک قطرے کا بھی بدلا نہیں دیا جاسکتا لیکن حکومت کی جانب سے یہ رقم کچھ نہ کچھ زخموں کا مداوا بنے گی۔ وزیراعلیٰ نے مقتول امجد صابری کی بیوہ کے لئے مناسب نوکری جبکہ بچوں کے لئے مفت تعلیم کی ذمہ داری کا بھی اعلان کیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے امجد صابری کے اہلخانہ مرحوم کے قاتلوں کی معلومات دینے والے اور اویس شاہ کے اغواکاروں کی نشاندہی یا معلومات دینے والوں کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پر نیب اور ایف آئی اے نے یلغار کر رکھی ہے۔ اویس شاہ اور امجد صابری کے قتل کے معاملے پر3 تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ امن و امان کے معاملے پر ہم نے کوئی تفریق نہیں برتی۔ نائن زیرو پر ’’گو رینجرز گو‘‘ کے نعرے لگائے گئے، نائن زیرو سے وہ لوگ بھی پکڑے گئے جنہوں نے صحافی کا قتل کیا تھا۔ وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا۔ سپیکر آغا سراج درانی انہیں چپ رہنے جبکہ سائیں شور شرابہ کرنے والوں کو حوصلہ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے بارہ مئی کی فائرنگ کا تذکرہ کیا تو ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نشست سے کھڑے ہو گئے اور شور شرابہ شروع کر دیا جس پر وزیراعلیٰ سندھ کہنے لگے میں نے آپ کا نام نہیں لیا، محمد حسین صاحب ذرا حوصلہ کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ بارہ مئی کے ذمہ داروں کا علم ہے، آشکار نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے اس بیان پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمز (جے آئی ٹیز) میں بہت سے لوگوں کی ویڈیو ریکارڈز کی گئی ہیں۔ ہمارے ایک دوست کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے، ہم انہیں اپنا دوست تسلیم کرتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بجلی تقسیم کرنے والے ادارے لوگوں سے اضافی بل رہے ہیں۔ 5روپے کا بل ہوتا ہے تو 500 روپے بل بھیج دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے پاس جو ہیلی کاپٹر ہے وہ بابا آدم کے زمانے کا ہے۔ ایک مرتبہ میں وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ بدین اسی ہیلی کاپٹر پر گیا۔ واپسی پر یہ ہیلی کاپٹر اڑا اور 5,4 سو فٹ اوپر جا کر دھڑام سے نیچے گر گیا۔