حکومت کو پتہ ہے‘ صحیح ٹی او آر بن گئے تو نوازشریف پکڑے جائیں گے: عمران

حکومت کو پتہ ہے‘ صحیح ٹی او آر بن گئے تو نوازشریف پکڑے جائیں گے: عمران

لاہور (خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ ایشو مر گیا تو پاکستان کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ مسلم لیگ والے آف شور کمپنیوں کے پیسے سے الیکشن کمشن، نادرا اور دیگر کو خرید لیں گے اور آپ آئندہ الیکشن میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ وہ مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف پروفیشنل ونگ کے زیراہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ کنونشن میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر یاسمین راشد نے ادا کئے جبکہ عندلیب عباس نے پانامہ پیپرز کے بارے میں پریزینٹیشن پیش کی۔ اس موقع پر وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قویشی نے بھی خطاب کیا جبکہ سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین سمیت نعیم الحق، میاں محمودالرشید، میاں اسلم اقبال، شعیب صدیقی، جمشید چیمہ، بریگیڈئر (ر) اسلم گھمن، سلونی بخاری، مسرت جمشید چیمہ، طارق ثنا باجوہ و دیگر پارٹی عہدیداران سمیت پروفیشنل ونگ کے کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ عمران نے مزید کہا کہ الیکشن جیتنا مسلم لیگ ن کے لوگوں کی مجبوری ہے وہ پیسے لگا کر الیکشن لڑتے اور الیکشن جیت کر پیسہ بناتے ہیں اگر وہ حکومت میں نہ ہوں تو انہیں جیل میں جانا ہوتا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جس طرح چار حلقوں کو کھلوانے کے لیے ہم نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام راستے اختیار کئے اور پھر مجبور ہو کر احتجاج کا راستہ اپنایا اسی طرح اب ہم کوشش کریں گے کہ نواز شریف اور اس کے خاندان کے افراد سمیت تمام کرپٹ عناصر کا بے لاگ احتساب ہو۔ اس کے لیے ہم تمام اداروں کے پاس جائیں گے مگر میں جانتا ہوں کہ مسلم لیگ والوں نے نواز شریف کو احتساب کے لیے پیش نہیں ہونے دینا لہٰذا کارکن سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر لیں ہم سڑکوں پر نکلیں گے اور پرامن احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا ہم کسی صورت یہ قبول نہیں کریں گے کہ وزیراعظم نواز شریف کا احتساب نہ ہوں۔ انہوں نے برطانوی جاگیرداروں اور بادشاہ کے درمیان جنگ اور میگنا کارٹا کا ذکر کیا جو بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کے لیے لڑی گئی تھی اور اس کے بعد برطانیہ میں جمہوریت کی ابتدا ہوئی۔ آج برطانیہ کی ملکہ یا کوئی شہزادہ ملک قانون کا قانون نہیں توڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں میگنا کارٹا کرنا ہے اور مغل اعظم کو قانون کے نیچے لانا ہے تاکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پتہ ہے صحیح ٹی او آرز بنیں گے تو نواز شریف پکڑے جائیں گے اس لیے مسلم لیگ ن والے ایسے ٹی اوآرز چاہتے ہیں جو نواز شریف کو بچانے کے لیے ہوں۔ نواز شریف نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولا کہ فلیٹ 1993ء میں نہیں بلکہ 2005 میں خریدے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قومی اسمبلی میں بولے جانے والے اس جھوٹ پر نواز شریف کو نااہل (ڈس کوالیفائی) ہونا چاہئے۔ جمہوریت مورل اتھارٹی چلتی ہے۔ بندوق سے جموریت نہیں چلائی جا سکتی۔ ملک کا وزیراعظم پارلیمنٹ میں جھوٹ بول کر مورل اتھارٹی کھو بیٹھا ہے۔ لہٰذا اسے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے کے معاملے پر وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے موقف پر پارٹی تقسیم ہوئی تو انہوں نے ریفرنڈم کروایا جو کہ وہ ہار گئے ان کی جگہ نواز شریف ہوتے تو دو تین فیصد ووٹوں سے ہارنے کی بجائے۔ 20 فیصد ووٹوں سے جیت جائے۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ریفرنڈم ہار کر مستعفی ہو گئے اب اپنے ملک کی اخلاقیات دیکھیں کہ نواز شریف کے خلاف آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا کیس ہے۔ ہیلی کاپٹر کیس ہے۔ پلاٹ کے کیس ہیں لیکن ٹھپ پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کرپشن ختم نہیں ہو سکتی جب تک احتساب لیڈر شپ سے شروع نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے قیام کو 17 سال ہو چکے ان سترہ سالوں میں انہوں نے کتنے لوگوں کو پکڑا۔ ان سترہ سالوں میں کرپشن کم ہوئی یا زیزدہ ہوئی۔ نیب میں نواز شریف کے خلاف 13 کیس ہیں لیکن ان کو سنا نہیں جا رہا۔ ہم سے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ایسے ٹی او آر بنوائیں کہ ان سب میں بری ہو جائیں۔ انہوں نے کہا نیب بے کار ادارہ ہے اسے بند کر دینا چاہیے کیونکہ یہ ادارہ کرپشن بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا احتساب کر لیں کرپشن کم ہو جائے گی۔پہلے قانونی طر یقے سے جنگ لڑ یں گے پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو سڑکوں پر آئیں گے ‘پانامہ لیکس کے معاملے کو مر نے نہیں دینا ورنہ ملک سے کر پشن ختم نہیں ہوگی۔سیالکوٹ کے منسٹر جیسے لوگ پار لیمنٹ میں ہوں گے توکون وہاں جائیگا ؟ڈیوڈ کیمرون نے اپنی پار لیمنٹ کو حقائق بتائے اور انکی آف شور کمپنی کا معاملہ ایک دن میں حل ہو چکا مگر ہمارے لیڈر’’مان یا مان میں تیرا مہمان ‘‘ہیں ۔ تحر یک انصاف سڑکوں پر نہیں آئیں گی تو کون آئیگا ؟۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کا معاملہ تحر یک انصاف یا کسی اور اپوزیشن جما عت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے اور میں اس پر خاموش بھی ہوجائوں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑیگا مگر میں ملک کے مستقبل اور نوجوانوں کے خوابوں کو مکمل کر نے کیلئے پانامہ لیکس میں سامنے آنیوالی کر پشن کیخلاف سڑکوں پر آئوں گا ۔ نوازشر یف سے جب بھی پانامہ لیکس پر سوال پوچھتے ہیں تو وہ طوطا مینا کی کہانی اور بھارتی فلم ٹر یجڈی شروع کر دیتے ہیں اور جب نوازشر یف معصوم شکل بناتے ہیں تو مجھے ان پر تر س آنا شرو ع ہو جا تا ہے ۔ نوازشریف کیوں قوم کو یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ انکے پاس لندن میں پیسہ کہاں سے آیا اور آف شور کمپنیاں بنائی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے دور میں پاکستان میں بدترین کر پشن ہو رہی ہے اور جب تک ملک میں کر پشن کا خاتمہ اور آئین وقانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوگی اس وقت تک انصاف بھی ممکن نہیں ہو سکتا اگر ملک میں انصاف کا نظام قائم کر دیا جائے توملک سے غر بت خود بخود ختم ہو جائیگی ۔ میں جب پار لیمنٹ میں گیا تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے لگا میں چوروں کے گھیرے میں آگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کا منسٹر جس طرح کی باتیں کر تا ہے مجھے اس پر ہنسی آتی ہے ۔بیرون ملک دو سو ارب ڈالر غریبوں کے نہیں پڑے ہوئے جب وزیراعظم خود چوری کر رہا ہو تو وہ دوسروں کو کیسے پکڑ سکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کے سامنے دو راستے ہیں، ایک کرپشن اور احتساب کے ایجنڈا پر متفق سیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق کیا جائے، دوسرے یہ کہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریں۔ حکومتی جماعت نہیں چاہتی ایسا کمشن بنے جس کے نتائج سامنے آئیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کرپشن کیخلاف عمران خان کی جدوجہد جاری ہے لیکن یہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ ہی تبدیل ہوسکتی ہے جب تک اس میں مڈل کلاس شامل نہ ہو۔