موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ منفی کر دی: ریفرنڈم دوبارہ کرایا جائے‘ 10 لاکھ برطانویوں کا مطالبہ

موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ منفی کر دی: ریفرنڈم دوبارہ کرایا جائے‘ 10 لاکھ برطانویوں کا مطالبہ

لندن (نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) برطانوی عوام کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ کم کرتے ہوئے منفی کردیا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ ووٹ کا نتیجہ غیریقینی صورتحال کا ایک طویل دور ہے۔ دوسری جانب برسلز کے جلد بات چیت شروع کرنے کے بیان کے بعد وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر یورپی یونین سے طلاق کا عمل تیز کرنے کیلئے دبائو بڑھ گیا ہے۔ یورپی کمشن کے سربراہ ژاں کلود ہنکر نے کہا ہے کہ یہ باہمی رضامندی سے ہونے والی طلاق نہیں لیکن یہ بہت مضبوط پیار، محبت بھی نہیں۔ اسکی نظر میں معاشی ترقی میں کمی کے اثرات برطانیہ کی مالی بچت پر بھاری پڑیں گے جسے اب یورپی یونین کے بجٹ میں تعاون نہیں کرنا‘ ترقی یافتہ معیشت میں برطانیہ سب سے زیادہ بجٹ کے خسارے والا ملک ہے۔ یہ مالی جائزہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد آیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز نے کہا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی جھڑپوں نے ای یو کو مجموعی طور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔ جرمن ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں یورپی یونین کے صدر نے جنکر نے کہا کہ برطانیہ کے لوگوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے اس لئے ان کی علیحدگی پر بات چیت کے لئے اکتوبر تک انتظار کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں فوراً ہی اسے شروع کرنا چاہوں گا۔برطانیہ میں یورپی یونین کی رکنیت حوالے سے دوسرا ریفرنڈم کرانے کیلئے شروع کی گئی آن لائن پٹیشن پر اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کرچکے ہیں۔ اس پٹیشن پر اب پارلیمنٹ کے ارکان بحث کریں گے کیونکہ برطانوی پارلیمانی روایات کے مطابق اگر کسی پٹیشن پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کریں تو پارلیمنٹ میں اس پر غور کیا جاتا ہے۔ ویلیم ہیلی نامی شخص کی جانب سے شروع کی گئی اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم دستخط کنندہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اصول کا نفاذ کیا جائے کہ 75 فیصد شرح ووٹ کی بنیاد پر اگر ساتھ رہنے یا الگ ہونے کے ووٹ 60 فیصد سے کم ہیں تو دوسرا ریفرنڈم کرایا جائے۔ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 72.2 فیصد رہی جو گذشتہ برس کے عام انتخابات کی 66.1 فیصد سے زیادہ ہے لیکن ہیلی کی تجویز کے مطابق ایسے ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم از کم 75 فیصد ہونی چاہئے۔ اگرچہ برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح کبھی 75 فیصد سے زیادہ نہیں رہی لیکن 2014ء میں سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 84.6 فیصد تھا۔ برطانوی ایوانِ زیریں کے ترجمان کے مطابق اس آن لائن پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کا تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ایسی پٹیشنز کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ ایک موقعے پر عارضی طور پر بند ہو گئی۔ یورپی کمشن کے صدر ژاں کلود ہنکر نے کہا ہے کہ اب برطانیہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے کیونکہ برطانیہ یہ نہیں کر سکتا کہ اپنی مرضی کی چیزوں میں تو شامل ہو اور باقی کو چھوڑ دے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اپنی مرضی چلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جو نکل گیا وہ نکل گیا۔ اب جو کام کرنے کا ہے وہ اس طلاق کو صاف ستھرے طریقے سے مکمل کرنا ہے کیونکہ شہریوں اور کاروباری دنیا کو اس فیصلے کی قانونی حیثیت معلوم ہونی چاہیے۔ ادھر برلن میں یورپی یونین کے بانی رکن ممالک کے وزرائے کے اجلاس میں (جرمنی، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بلجیم اور لکسمبرگ) میں میزبان جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹینمر نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو یورپی یونین سے نکل جانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کرے۔ یہ بات انہوں نے برلن میں یورپی اتحاد کے بانی چھ ممالک کے وزرائے ِخارجہ کے اجلاس کے بعد کہی۔ فرینک والٹر سٹینمر کا کہنا تھا کہ اگرچہ برطانوی رہنمائوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے سوچیں، اسی طرح یورپی یونین کے رہنماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپی اتحاد کے رہنماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی اور بے روزگاری کے چیلنجوں پر توجہ دیں۔ ہم اس سلسلے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے پاس تمام سوالوں کے جواب موجود ہیں، لیکن برطانیہ کے اخراج کے فیصلے کے بعد ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم پریشانی میں نہ ڈوب جائیں اور کچھ بھی نہ کریں۔بانی رکن ممالک کے اجلاس سے پہلے فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔ ادھر فرانس کے مرکزی بینک کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ یورپ کی مشترکہ مارکیٹ میں شامل نہیں رہیگا تو برطانوی بینکوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہے گا وہ اپنی سرحد سے باہر یورپی بینکنک کے مشترکہ نظام میں آزادنہ حصہ لے سکیں۔ سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر (وزیر اعلیٰ) نکولا سٹرجن کا کہنا ہے کہ وہ برسلز میں یورپی اتحاد کے صدر دفتر سے فوری بات چیت کے لیے رابطہ کرنے جا رہی ہیں تاکہ برطانیہ کے اخراج کے فیصلے کے بعد یورپی اتحاد میں سکاٹ لینڈ کی شمولیت کو بچا سکیں۔ جرمن چانسلر نے یورپی رہنمائوں کا اجلاس بلا لیا ہے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے کے بعد جرمن چانسلر انجیلامرکل نے ریفرنڈم کے نتائج کو یورپ کے لیے فیصلے کی گھڑی قرار دیتے ہوئے یورپی رہنمائوں کا اجلاس بلا لیا۔ یورپی عوام کی امیدیں برطانیہ سے مختلف ہیں۔ یورپی رہنما پورپی یونین سے برطانیہ کی جانب سے علیحدگی کے مضمرات پر بحث کے لیے بدھ کو سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ یورپی یونین کے صدرڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اس ’مبینہ طلاق کے عمل‘ پر برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ملک بدھ کو بات چیت کریں گے۔برطانیہ کے بغیر یورپی یونین کے رہنماؤں کا یہ پہلا اجلاس ہو گا۔یونین نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ الگ ہونے کے لیے مذاکرات جلد شروع کر دے۔ ژاں کلود ہنکر نے زور دے کر کہا کہ یونین کے بقیہ 27 ارکان ساتھ جاری رکھیں گے۔ جرمنی اس بارے میں فکر مند ہے کہ برطانیہ میں یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلے کے بعد کہیں فرانس، ہالینڈ، آسٹریا، فن لینڈ اور ہنگری بھی یونین سے نکل نہ جائیں۔ یہ بات جرمن روزنامے ’دی ویلٹ‘ نے وزارتِ مالیات کے ایک سٹریٹیجی دستاویز کے حوالے سے بتائی۔ اس دستاویز میں تجویز دی گئی ہے کہ جرمنی یورپی یونین کے ساتھ مل کر برطانیہ کے ساتھ اخراج کے موضوع پر ایسے تعمیری مذاکرات کرے، جن میں برطانیہ کو یونین کا ’ایسوسی ایٹ پارٹنر ملک‘ بننے کی پیشکش کی جائے۔ ایک اندازے کے مطابق یونین سے برطانیہ کے باقاعدہ اخراج کے بعد یونین کے سالانہ بجٹ کے لیے جرمنی کا حصہ بڑھ کر تین ارب یورو تک پہنچ سکتا ہے۔ برطانوی عوام کے فیصلے کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیاں مستقبل کے بارے میں غیریقینی کیفیت کا شکار ہو گئی ہیں۔ریفرنڈم کے نتائج سامنے آتے ہی برٹش ٹیلی کام، ٹاک ٹاک اور سیج جیسی کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آئی۔لندن میں قائم ڈیجیٹل ایجنسی بیٹن ہال کے بانی ڈریو بینوی کہتے ہیںمجھے تشویش ہے کہ مقامی منڈیاں اب سست ہو جائیں گی۔ لندن کے ہزاروں باسیوں نے نومنتخب میئر صادق خان کے نام ایک درخواست میں کہا ہے کہ وہ لندن کو آزاد ریاست بنانے کا اعلان کریں۔ برطانیہ کے متوقع نئے وزیراعظم ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی ایم پی بورس جانسن ہوسکتے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اگلے وزیراعظم کے طورپر بورس جانسن کو دیکھا جارہا ہے تاہم ابھی اس بارے میں حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سلوالیہ کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد نے یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگا ن نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کی رخصتی نئے دور کی شروعات ہے، اس بلاک کے مزید ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔ برطانوی عوام کے فیصلے سے یورپی یونین اور برطانیہ کو نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام دنیا کی طرح ترکی بھی اس امید میں تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے، لیکن ووٹرز نے صورتحال کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اپنے اس بیان میں ترک صدر کا ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں مسئلہ ترکی نہیں بلکہ یورپی یونین ہے۔