نوازشریف کیخلاف ریفرنس براہ راست الیکشن کمشن میں دائر ہی نہیں کیا جاسکتا

نوازشریف کیخلاف ریفرنس براہ راست الیکشن کمشن میں دائر ہی نہیں کیا جاسکتا

اسلام آباد (محمد نواز رضا‘ وقائع نگار خصوصی) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم محمد نواز شریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحاق ڈار قومی اسمبلی کے ارکان حمزہ شہباز اور کیپٹن صفدر کیخلاف نااہلی کا ریفرنس براہ راست الیکشن کمشن کے پاس دائر ہی نہیں کیا جا سکتا اس کیلئے درخواست متعلقہ اسمبلی کے سپیکر یا سینٹ کے چیئرمین کو دی جا سکتی ہے اسی طرح وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی کبھی کسی اسمبلی کی رکن نہیں رہیں اسلئے انکے خلاف ریفرنس نہیں بنتا۔ یہی وجہ ہے اب پیپلز پارٹی ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے فیصلہ پر نظرثانی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جب کوئی شخص انتخاب لڑ رہا ہو اس وقت کی اہلیت کو الیکشن کمشن میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ منتخب ہونے کے بعد بھی کامیاب امیدوار کی اہلیت کو الیکشن کمشن میں چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن اسمبلی یا سینٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد نااہلی کا ریفرنس متعلقہ اسمبلی کے سپیکر یا سینٹ کے چیئرمین کے پاس دائر کیا جا سکتا ہے۔ سپیکر یا چیئرمین ریفرنس پر کارروائی کر کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے الیکشن کمشن کو بھجواتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو انتخابی معرکہ سے آؤٹ کرنا چاہتی ہیں لیکن عوامی نمائندہ منتخب نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا اس لئے پیپلز پارٹی مریم نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ واپس لے رہی ہے اب صرف 5 شخصیات کے خلاف ریفرنس دائر کر رہی ہے۔