وزیرستان اور سوات میں طالبان کی کمر توڑ دی ہے: رحمان ملک

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وزیرستان اور سوات میں طالبان کی کمر توڑ دی گئی ہے بیت اللہ محسود اور اس کے حامی بے بس ہوگئے ہیں۔ مولوی فضل اللہ سوات سے فرار نہیں ہوسکے گا۔ دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کو ملکر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں کیا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ سوات آپریشن حتمی مراحل میں ہے۔ سوات فاٹا آپریشن میں تین ہزار پانچ سو شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ سوات میں اسلحہ اور بارود سے بھری دو سو دس فٹ لمبی سرنگ ملی ہے جبکہ راکٹ لانچرز اور بارودی سرنگوں سمیت اسلحہ کابڑا ذخیرہ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا فوجی آپریشن ہے جسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ لوگ دہشت گردوں کیخلاف ہوچکے ہیں سوات آپریشن میں ڈھائی ہزار سابق فوجی بھی شامل ہیں اور شدت پسندوں کیخلاف ایسی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے جس سے وہ دوبارہ متحد نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں فوج نے وزیرستان میں بھی آپریشن تیز کردیا ہے۔ ایک سوال پر رحمان ملک نے کہا کہ طالبان خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ اپنی فیملیز کو علاقے سے باہر بھیجنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ نقل مکانی کرنےوالے تمام افراد کا لٹمس ٹیسٹ کیا جارہا ہے جس کے ذریعے مولوی فضل اللہ کے خاندان کے لوگوں کو شناخت کرلیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود کے قبیلے والے اس ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ سوات کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں جو شدت پسندوں کا گڑھ تھیں اور جہاں سے وہ حملے کرتے تھے ان پر فوج کا کنٹرول ہے۔