عسکریت پسندوں کو بعض عرب اور یورپی ممالک سے امداد مل رہی ہے : دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات جتنی جلدی بحال ہو جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ یہ مذاکرات پورے خطے کے مفاد میں ہیں اور ان کی بحالی ناگزیر ہے۔ دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان عبدالباسط نے کہا پاکستان میں برسرپیکار عسکریت پسندوں کو بیرونی امداد مل رہی ہے۔ یہ امداد بعض عرب اور یورپی ممالک سے مل رہی ہے۔ شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ تصدیق ہو جانے پر ان ممالک سے معاملہ اٹھایا جائے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کون سے ملک یہ مدد فراہم کر رہے ہیں تو ترجمان نے کہا فی الحال وہ اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کر سکتے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ بیرونی آقائوں کے اشارے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈرون حملوں کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ اگر یہ حملے سودمند ہیں تو یہ صلاحیت پاکستان کو دی جائے تاکہ پاکستان اس سلسلے میں خود کارروائیاں کر سکے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے وزیر خارجہ کا جی ایٹ کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں لیکن بہرحال دونوں وزرائے خارجہ اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کا موقف بہت واضح ہے۔ ان حملوں سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ امریکہ ڈرون حملوں کے بارے میں پالیسی تبدیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کو رہا کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ فرانسیسی انجینئروں کی ہلاکت کے حوالے سے میڈیا کی رپورٹوں کے بارے میں انہوں نے کہا ان خبروں کو فرانسیسی صدر احمقانہ قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ اپنے فوجی تعینات کرنے کے متعلق ہمارے خدشات سے آگاہ ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں جو خطہ کے مفاد میں ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں ہر جگہ دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے ایران میں جاری سیاسی بحران پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے دورہ پاکستان کے ایجنڈے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطہ کی صورتحال، دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے اقدامات اور افغانستان میں صورتحال کو مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان نے اپنی سرحد کے ساتھ امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ امریکی انتظامیہ ہمارے خدشات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس پر غور ہو رہا ہے کہ ان فوجیوں کو کہاں تعینات کیا جائے۔ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ حکومت ٹھوس شواہد جمع کر رہی ہے اور شواہد اکٹھے ہونے پر حکومت متعلقہ ممالک کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے گی۔ اٹلی میں پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ کی ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی اس طرح کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ممبئی حملوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہا ہے۔ ورلڈ بنک کی جانب سے دیامیر بھارت ڈیم کے لئے بھارت کے دبائو پر فنڈز روکنے کی اطلاعات کے حوالے سے انہوں نے کہا وزارت پانی و بجلی نے اس بارے میں ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کے مشتبہ ملزموں کی حوالگی سے متعلق کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی اگر بھارت نے کوئی درخواست کی بھی تو غالباً پاکستان ایسا نہیں کرے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ملزموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہے نہ ہی بھارت نے مشتبہ افراد کی حوالگی کی کوئی درخواست کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت نے کہا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ سعید سمیت دیگر کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابط کرے گا۔ بھارت بائیس مشتبہ ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت جن افراد کے نام لے رہا ہے ان میں جو اہم نام اس وقت پاکستان میں موجود ہیں وہ ممبئی حملوں کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ ترجمان نے حکومت پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ اگر کسی پاکستانی کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو اس کیخلاف پاکستانی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس حوالے سے بھارتی حکومت کے پاس اگر کوئی ثبوت ہے تو ہمیں فراہم کیا جائے۔ پاکستان شروع دن سے تعاون کر رہا ہے ہم نے چند لوگوں کو گرفتار کیا جن میں سے کچھ اب بھی قید ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت قسطوں کی بجائے ثبوتوں کے حوالے سے تمام متعلقہ دستاویزات ہمیں ایک ہی دفعہ فراہم کرے۔