نگران حکومت کو لوڈ شیڈنگ سے جاں بلب عوام کی پرواہ نہیں‘ کمی کے لئے فوری اقدامات کرے: شہباز شریف

نگران حکومت کو لوڈ شیڈنگ سے جاں بلب عوام کی پرواہ نہیں‘ کمی کے لئے فوری اقدامات کرے: شہباز شریف

لاہور (این این آئی) نامزد وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نگران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کی غیرمعمولی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے فوری اقدامات کرے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قیامت خیز گرمی میں عوام بجلی کی 16،16 اور20، 20 گھنٹے کی لوشیڈنگ سے بلبلا اٹھے ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ موجودہ نگران حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صورت حال کی سنگینی کو سمجھے اور اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان کے عوام حیران ہیں کہ نگران حکومت کے پاس وفاقی سطح پر مرضی کے تبادلے کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے بانٹنے کے لیے وقت بھی ہے اور وسائل بھی مگر اسے لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں جاں بلب عوام کی کوئی پروا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر نگران حکومت نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو ان کا نام پاکستان کے بدترین اور ظالم حکمرانوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 11 مئی کے بعد ہی سے ایک دن ضائع کیے بغیر لوڈشیڈنگ کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی تجاویز کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے جن پر حکومت سنبھالتے ہی عملدرآمد کا آغاز ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو درپیش بجلی کی بندش کی موجودہ تکلیف کو کم کرنے کے لیے نگران حکومت کی بے عملی کو کسی طور برداشت نہیں کرینگے۔ دوسری جانب شہباز شریف اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ملاقات میں گنے کے پھوگ سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے پیشرفت کیلئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، کمیٹی تین روز میں شہباز شریف کو رپورٹ پیش کرےگی۔ وفد نے یقین دلایا کہ اگر حکومت تعاون کرے تو وہ 6ماہ مسلسل 2ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں شہباز شریف سے نگران وفاقی وزیر پانی و بجلی مصدق ملک نے ملاقات کی اور ملک میں جاری بجلی کے بحران اور اس کے حل کیلئے مختلف تجاویز کے حوالے سے بریفنگ دی۔ نگران وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ آنیوالی مسلم لیگ ن کی حکومت کے سخت اقدامات سے ملک میںجاری بجلی کا بحران حل ہوسکے گا۔علاوہ ازیں شہباز شریف سے جرمنی کے سفیر ڈاکٹر سائرل نن نے ملاقات کی۔ جس میں پاکستان اور جرمنی کے تعلقات سمیت دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران پاکستان کو درپیش توانائی بحران کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔