معزز چینی مہمان کی آمد پر بڑا جوش و جذبہ

معزز چینی مہمان کی آمد پر بڑا جوش و جذبہ

لاہور (رمیزہ نظامی سے) معزز چینی مہمان (لی کی چیانگ) کی آمد پر بڑا جوش و جذبہ پایا جا رہا تھا۔ ایک خبر سے صورتحال تشویشناک ہو گئی تھی کہ جے ایف 17 کا ایک فلیٹ جس نے معزز چینی مہمان کے طیارے کو اسکارٹ کرنا تھا اسے بھارت کی سرحد کراس کر کے پاکستانی فضائی حدود میں آنا تھا۔ معزز مہمان کو میزبان ملک (پاکستان) کی جانب سے 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس سے وہ احترام عیاں ہوتا ہے جو اس معزز مہمان کے لئے یہاں پایا جاتا ہے۔ اس مہمان کی آمد کی ٹائمنگ کے حوالے سے کچھ سوالات اس حوالے سے اٹھے کہ نئی حکومت بننے کے قریب ہے تاہم اس دورہ کے مقاصد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد کچھ سٹرٹیجک نوعیت کے معاہدے تھے، معزز مہمان اس سے قبل روایتی حریف ملک کے دورے پر تھے۔ معزز مہمان کے اعزاز میں ایک بڑا لنچ استقبالیہ دیا گیا شام کو بھی بڑے بینکوئیٹ کا اہتمام کیا گیا۔ صدر نے سرکاری محل سے نکل کر ایک رسک لیا۔ بینکوئیٹ ہال میں عمومی ماحول ”مہندی“ جیسا لگ رہا تھا۔ یہ ایونٹ 15 منٹ پہلے ہی شروع ہو گیا جس کی وضاحت نگران وزیراعظم کھوسو نے اپنی تقریر میں کر دی جو کہ بے بی فرسٹ بک فارمیٹ میں چھپی ہوئی تھی۔ چینی ٹرانسلیٹر بھی موجود تھے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بدقسمتی سے شیخ رشید کے بائیں جانب جگہ ملی۔ بظاہر اصل کامیابی دستاویزات پر دستخط کرنا تھی نہ کہ اس بارے میں تفصیلات جاننے میں تھی۔ جب چین مدد کی پیشکش کر رہا ہے اور پاکستان اسے دونوں ہاتھوں سے سمیٹتا ہے مگر اس پر پیشرفت کم ہی ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے ہمیں کسی اور پر نہیں مگر خود کو ہی موردالزام ٹھہرانا چاہئے۔