تحریک انصاف کا دھرنا: پنجاب میں ریٹرننگ افسروں کے ذریعے دھاندلی کی مثال نہیں ملتی : عمران

تحریک انصاف کا دھرنا: پنجاب میں ریٹرننگ افسروں کے ذریعے دھاندلی کی مثال نہیں ملتی : عمران

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ/ آئی این پی) انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے جناح ایونیو اسلام آباد پر ڈی چوک میں دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ جن حلقوں میں دھاندلی کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔ تحریک انصاف کا چرایا گیا مینڈیٹ واپس دلایا جائے، شرکا نے الیکشن کمشن کے خلاف نعرے بازی بھی کی، دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان نے کہاکہ الیکشن کمشن کو دکھائی دیتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے ہم اپنا جمہوری حق استعمال کریں گے۔ این اے 125میں دھاندلی ہوئی ہے۔ اپنے ویڈیو لنک خطاب میں عمران خان نے کہا جب تک دھاندلی کے بارے میں تحریک انصاف کے تحفظات دور نہیں ہونگے، احتجاج جاری رہے گا، پنجاب میں ریٹرننگ افسروں کے ذریعے جو دھاندلی کرائی گئی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، چیف جسٹس اور الیکشن کمشن کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے دھاندلی کی تحقیقات کرائیں، عوام نے ووٹ کسی اور کو دئیے اور جیت کوئی اور گیا کیا دھاندلی والے انتخابات کرا کے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ یہاں پر عام آدمی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا؟ صرف چار سیٹوں پر نادرا کے ذریعے چیک کرا لیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، اگر عام انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزائیں نہ دیں تو ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں کیا ہو گا، انتخابات میں دھاندلی کے خلاف عوام خود سڑکوں پر آئے ہیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، صوبائی صدر اعجاز احمد چودھری اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے پارٹی رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔ دھرنے میں تحریک انصاف کے ہزاروں کارکن، خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ عمران خان نے کہاکہ عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے، 25سے 30ایسے حلقے تھے جہاں بھرپور دھاندلی کی گئی۔ تحریک انصاف کے کامیاب ہوتے امیدواروں کے نتائج روک کر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو کامیاب کرایا گیا، جب یہ دھاندلی سامنے آئی تو اسکے خلاف عوام خود ہی سڑکوں پر آ گئے، آج ہر کوئی دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ میں چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دھاندلی کا نوٹس لیں کیونکہ پنجاب میں دھاندلی ریٹرننگ افسروں کے ذریعے کرائی گئی، ہم نے شدید گرمی میں چیف جسٹس کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد کی اور تپتی دھوپ میں سڑکوں پر آتے رہے۔ ہم اس لئے سڑکوں پر آئے تھے کہ ملک میں ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ قائم ہو جس سے ہر کسی کو انصاف مل سکے۔ چیف جسٹس دھاندلی کے تمام واقعات کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، چیف الیکشن کمشنر جنہوں نے ملک میں شفاف انتخابات کا وعدہ کیا وہ بھی تحریک انصاف کے تحفظات اور اعتراضات سنیں، کم از کم قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں انگوٹھے کے نشانات چیک کرائیں جس کے بعد یقیناً دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ جب لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دئیے اور جیت کوئی اور گیا تو اس سے ان کو بھی مایوسی ہوئی ہے، کیا اتنی بڑی دھاندلی کے ذریعے تحریک انصاف جیسی جماعت کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جو جیت گیا وہ جیت گیا، دھاندلی والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کو ضرور دھاندلی کا نوٹس لینا چاہئے۔ جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور ان کو آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ تحریک انصاف دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور ہم نے اس حوالے سے الیکشن کمشن کو تمام ثبوت بھی دئیے ہیں اور جب تک دھاندلی کے حوالے سے تحریک انصاف کی شکایات اور تحفظات کا ازالہ نہیں ہوتا تحریک انصاف پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ احتجاج میں حصہ لینے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ عمران خان جیت چکا ہے کیونکہ اس کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو جگانا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ صرف پنجاب نہیں سندھ میں بھی دھاندلی ہوئی، الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ دھاندلی کے ثبوتوں کے بعد خاموش رہنے کی بجائے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے، جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی وہاں پر کم از کم دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ ڈی چوک کے دھرنے میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ نغمے سنائے جاتے رہے، سکیورٹی انتظامات سخت تھے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر+ نوائے وقت نیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے ملاقات کی، جس میں عمران خان نے پاکستان میں ڈرون حملے فوری بند کرنیکا مطالبہ کیا۔ زمان پارک میں ہونیوالی ملاقات میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور جہانگیر ترین کے علاوہ لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی پرنسپل افسر نینا ماریہ فائٹ بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ، خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملے ہیں جب تک انہیں بند نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوتا رہیگا۔ طاقت کے استعمال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں اس کیلئے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہوگا۔ ملاقات کے بعد امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ عمران خان کی خیریت معلوم کرنے کیلئے آیا تھا اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں جمہوری، آئینی اور قانونی طریقے سے انتقال اقتدار ہورہا ہے عمران نے کہا ہے کہ خیبر پی کے میں انکی حکومت کی پہلی ترجیح امن قائم کرنا ہے۔ عام انتخابات میں پاکستان میں ٹرن آﺅٹ بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ رہا ہم پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ووٹر ٹرن آﺅٹ جمہوریت کی کامیابی ہے۔ عمران خان سے خیبر پی کے میں حکومت سازی اور دیگر معاملات پر بات ہوئی۔ دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم موثر اور ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ ہم فرینڈلی اپوزیشن نہیں بنیں گے۔ عوام نے تحریک انصاف کو خیبر پی کے میں بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ خیبر پی کے میں کسی کے تعاون سے حکومت نہیں بنائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے امریکی سفیر کو تحریک انصاف کی طرف سے دھاندلی پر بریف کیا۔ الیکشن میں تحریک انصاف کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ خیبر پی کے میں تحریک انصاف مثالی حکومت بنائے گی اور ہم اپنے منشور کے مطابق وہاں پر عمل کریں گے۔ عمران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کو ڈاکٹروں نے اجازت نہیں دی وہ بیمار ہیں اس لئے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ دریں اثنا عمران خان کی زیر صدارت منتخب ایم این ایز کا اجلاس آج لاہور میں ہو گا جس میں اسمبلی میں تحریک انصاف کی طرف سے موثر اپوزیشن کے حوالے سے تجاویز زیر بحث آئیں گی۔ اجلاس میں جماعت کے مرکزی قائدین بھی شرکت کریں گے۔