گیلانی کی ازبک ہم منصب سے ملاقات‘ علاقائی اور عالمی امن کیلئے ملکر کوششیں کرنے پر اتفاق

تاشقند (سلیم بخاری / دی نیشن رپورٹ + ایجنسیاں) پاکستان اور ازبکستان نے دونوں برادر ملکوں کو عمومی اور خصوصی طور پر پورے علاقے کو درپیش مسائل کے حل پر مکمل افہام و تفہیم کا اظہار کیا ہے۔ ان مسائل میں دہشت گردی‘ عسکریت پسندی‘ منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم کے واقعات شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اپنے زیادہ تر وسائل ان مسائل کے حل کے لئے مختص کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے درپیش چیلنجوں سے مل کر نمٹنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر وسائل بروئے کار لانے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ان تمام امور کا اظہار وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے تاشقند پہنچنے پر اپنے ازبک ہم منصب شوکت مرزیوف سے ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد پاکستا اور ازبکستان نے ٹرانسپورٹ و اشیاءکی ٹرانزٹ کے معاہدے کی توثیق کے پروٹوکول اور اینیمل ہسبنڈری و ویٹرنری سائنسز کے شعبے میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ ٹرانزٹ معاہدے کے پروٹوکول پر خارجہ و خزانہ کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور ان کے ازبک ہم منصب جبکہ اینیمل ہسبنڈری کے لئے تعاون کی یادداشت پر خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر اسرار اللہ زہری نے دستخط کئے۔ وزیراعظم گیلانی اور ازبکستان کے وزیراعظم شوکت مرزیوف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبہ میں تعاون، دوطرفہ سرمایہ کاری اورتجارت کے فروغ کےلئے وسیع تر رابطوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام شعبوں میں تعلقات کو آگے بڑھانے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات ، افغانستان کے خصوصی حوالہ سے خطہ کی صورتحال سمیت وسیع تر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں اطراف نے انسداد دہشت گردی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے‘ منشیات کی سمگلنگ کو سختی سے روکنے پربھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور ازبکستان جو انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ رکھتے ہیں، نے خطہ میں وسیع ترامن کو یقینی بنانے کےلئے اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی توانائی ضروریات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمسایہ وسطی ایشیائی ممالک سے فاضل بجلی خریدنے کےلئے تیار ہے۔ دونوں ممالک تیل وگیس کے شعبہ میں اشتراک کار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں وسطی ایشیائی ریاستوں، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر علاقوں کے درمیان تجارت میں سہولت دے سکتی ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان سہ فریقی تجارت کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور ازبک وزرائے اعظم نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس ضمن میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پراتفاق کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت محض 4 کروڑ ڈالر سالانہ ہے‘ اسے معقول سطح تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے نجی شعبہ کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کو فروغ دینے کےلئے بنکاری ذرائع اور آزاد ویزہ نظام استوار کرنے کے معاہدے ضروری ہیں۔ دونوں رہنماﺅں نے تجارت، معیشت، خزانہ، سائنسی و تکنیکی تعاون، مواصلات اور مصنوعات کی راہداری، دوطرفہ سرمایہ کاری، بجلی، خوراک وزراعت ، آئی ٹی و ٹیلی کام، ثقافت و ماحولیات کے شعبہ جات میں اسلام آباد میں مشترکہ وزارتی کمشن کے اجلاس میں باہمی تعاون کے مشترکہ پروٹوکول پرحالیہ دستخط کا ذکر کیا۔ دونوں ممالک نے کاروباری نمائشوں، میلوں میں کاروباری و تجارتی برادری کی شرکت، مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں پر عملدرآمد کے بارے میں مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل میں سہولت دینے پر اتفاق کیا۔ گیس، تیل‘ چمڑے، ادویہ سازی اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے علاقائی اور عالمی امن کےلئے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کے کردار کواجاگرکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستحکم اور پر امن افغانستان چاہتا ہے۔ پورے خطہ کو درپیش انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کےلئے مشترکہ حکمت عملی کی متقاضی ہے تاہم یہ مقصد سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی اور پورے خطے کی خوشحالی کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ازبک وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا اور دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ازبکستان کے 6+3 فارمولے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین میں اتفاق رائے سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ازبک وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کی گنجائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو بس ٹرک مشینری اور کیمیکل برآمد کر سکتا ہے اسی طرح زراعت کے شعبے میں بھی تعاون کی وسیع گنجائش ہے۔ ازبکستان مزار شریف سے ہرات تک ریلوے لائن بچھانے پر کام کر رہا ہے جسے گوادر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاشقند میں اردو چیئر اور اسلام آباد میں ازبک چیئر کے قیام سے دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم گیلانی نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ وزارتی سطح کے مکالمے پر پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اس ضمن میں صحیح سمت میں آگے بڑھیں گے ۔ وزیراعظم گیلانی نے ازبک ہم منصب کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ ازبکستان کے ساتھ مواصلاتی رابطوں اور توانائی کے شعبے میں تعاون کیلئے پاکستان کی گہری دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔ گیلانی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے علاقائی سکیورٹی فورم کی مکمل رکنیت کے حصول میں ازبکستان کی معاونت چاہی۔ ملاقات کے بعد دونوں وزراءاعظم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مذاکرات کو مفید اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ ازبک وزیراعظم نے نے کرکٹ ٹیم کو کوارٹر فائنل میں کامیابی، یوم پاکستان اور موجودہ حکومت کے تین برس مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے کی ترقی کیلئے مشترکہ بنیادیں قائم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم مرزیوف نے کہا کہ اس دورے سے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو فروغ دینے کی نئی بنیادیں قائم ہوں گی۔ وزیراعظم گیلانی نے تجارت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان کے ساتھ انفراسٹرکچر، ریلوے، زراعت، ٹیکسٹائل اور کیمیکلز کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے ازبک وزیراعظم کو نو روز پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم گیلانی نے ازبکستان کے صدر اسلام کریموف سے بھی ملاقات کی اور علاقائی صورتحال ارو دوطرفہ تعلقات اور کئی دوسرے معاملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماوں نے خاص طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کی بتدریج واپسی کے پس منظر میں علاقے کی صورتحال پر بات چیت کی۔
تاشقند (اے پی پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور ازبکستان کے وزیراعظم شوکت مرزیوف نے جمعرات کو یہاں ”ون آن ون“ اور وفود کی سطح پر باضابطہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ غیر رسمی تبادلوں کے دوران امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انٹرنیشنل بزنس سنٹر میں بات چیت کے اختتام پر دونوں رہنما چہل قدمی کرتے ہوئے اس ہوٹل تک گئے جہاں وزیراعظم گیلانی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ازبک وزیراعظم کی جانب سے ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے ازبکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں قریبی تعلقات اور شراکت داری کیلئے اپنی حکومت کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کو خطے میں امن، استحکام اور ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخ، عقیدہ اور ثقافت کے رشتے قائم ہیں، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان پاکستان اور ازبکستان کے قیام سے بہت پہلے سے تعلقات قائم ہیں۔ ازبکستان امام بخاری، امام ترمذی، الخوارزمی، البیرونی، بو علی سینا، امیر تیمور اور ظہیر الدین بابر جیسی عظیم شخصیات کا مسکن ہے‘ سمرقند اور بخارا پاکستان میں گھریلو ناموں کی طرح ہیں۔ اردو اور ازبک زبان کے تقریباً 8 ہزار الفاظ مشترک ہیں۔ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم نے ہمارے وسائل کا ایک بڑا حصہ ترقی کی بجائے ان لعنتوں کے سدباب کیلئے منتقل کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے جس کیلئے اس نے بے مثال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 3 دہائیوں سے جاری لڑائی کے خطے پر سنگین اثرات پڑے ہیں۔ پاکستان جو افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ افغانستان میں جلد سے جلد امن اور استحکام کی بحالی چاہتا ہے۔ اس سے قبل ازبکستان روانگی کے وقت چکلالہ ایئر بیس پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ازبکستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، مواصلات اور توانائی سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کو باہمی مفاد میں مزید فروغ دےگا۔ پاکستان افغانستان کے مسئلے پر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ملکر مربوط حکمت عملی اپنانے کا خواہشمند ہے۔