بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کا حل اولین ترجیح ہوگی : پاکستان

نئی دہلی (اے این این) بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک نے مقبوضہ کشمیرکے حریت پسند رہنماوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کاحل پاکستان کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے اوراس سلسلے میں حریت پسند قیادت کو اعتماد میں لیا جائےگا جبکہ بزرگ حریت رہنماءسید علی گیلانی نے پاکستان میں گروہی تصادم اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو بندوق کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کر نے کا مشورہ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزپاکستانی سفارتخانے میں یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریب منعقدہوئی جس میں علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون، نعیم احمد خان اور محمد عبد اللہ طاری سمیت دیگرحریت رہنماوں نے شرکت کی۔ تقریب میں شرکت سے قبل سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں دونوں حریت دھڑوں کے وفود نے پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی ہائی کمشنر ذوالفقار گردیزی اور ہائی کمشن کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیرکی صورتحال، پاکستان اوربھارت کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سید علی گیلانی نے پاکستانی ہائی کمشنر پر زور دیا کہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اپنی روایتی پالیسی میں کسی لچک کا مظاہرہ کئے بغیر اپنی سفارتی کوششیں تیز کر ے ۔ انہوں نے پاکستانی حکومت اور عوام کو یوم پاکستان کے سلسلے میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام کلمہ طیبہ کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا تھا اور پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اسکی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت سے ممکن بن سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں گروہی تصادم آرائی اور غیر ریاستی عناصر کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث لوگ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بندوق کا استعمال کرنے کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریںکیونکہ بندوق کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ کشمیر مسئلہ اجاگر کرنے کیلئے پاکستان کو تمام سفارتخانوں کو مزید متحرک اور فعال بنانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی ہائی کمشنر پر اس بات کیلئے بھی زور دیا کہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اپنے روایتی موقف پر قائم رہے۔ انہوں نے پاکستان اوربھارت کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ جنوب ایشیائی خطے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو روکنے کےلئے کشمیر کا مسئلہ فوری طور حل کریں۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت رہنماوں کو بتایا کہ وہ کشمیری عوام کو پاکستان کی طرف سے یہ یقین دلائیں کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا اور یہ کہ مسئلہ کشمیر کا حل اس کی پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر مسئلہ کو ہر محاذ پر اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں حریت کانفرنس کے وفد نے پاکستانی حکام کو ریاست کی تازہ ترین صورتحال بالخصوص انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں آگاہ کیا اور کشمیر مسئلے کے حل کے سلسلے میں کی جانیوالی کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔ شاہد ملک نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیرکو زور و شور کے ساتھ اٹھائےگا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو ہر بین الاقوامی فورم میں اجاگر کرتا رہےگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر ہر سطح کی بات چیت میں کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیا جائےگا۔ بعدازاں علی گیلانی اور میر واعظ کے درمیان 15 منٹ تک علیحدگی میں بھی ملاقات ہوئی۔