الیکشن کمشن کی تشکیل نہ ہونے سے پیچدگیاں پیدا ہو رہی ہیں‘ حکومت قانون پر عمل کرے : چیف جسٹس

اسلام آباد (ریڈیو نیوز / وقت نیوز + آئی این پی + آن لائن) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی معاملات میں قانونی و آئینی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں‘ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق عمل کرے۔ عدالت نے 18ویں ترمیم کے مطابق الیکشن کمشن کی عدم تشکیل کے باعث جنوبی وزیرستان سے ایم این اے مولانا عبدالمالک وزیر کے خلاف غالب خان کی درخواست پر متعلقہ فریقین کو دوبارہ نوٹس کر دئیے جبکہ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ درخواست 4 اپریل سے شروع ہونے والے ہفتے میں لگائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ غالب خان نے مولانا عبدالمالک وزیر کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گذار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ دوبارہ گنتی کے دوران وہ عبدالمالک وزیر کے مقابلے میں دو پولنگ سٹیشنوں سے جیت گئے تھے جس پر عبدالمالک وزیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت عالیہ نے عبدالمالک وزیر کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے 10 جون 2010ءکو معاملہ الیکشن کمشن کو بھجوایا‘ الیکشن کمشن نے 16 ستمبر کو یہ موقف اختیار کرتے ہوئے معذرت کی کہ ابھی تک 18ویں ترمیم کے مطابق الیکشن کمشن کی تشکیل نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے کمشن کیس کی سماعت نہیں کر سکتا۔ اس پر غالب خان نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن چیلنج ہونا شروع ہو گئے تو پھر کیا ہو گا؟ ہر ایک عدالت آنے لگے گا اور اپنے مخالف کو چیلنج کرے گا۔ الیکشن کمشن کی تشکیل اور تکمیل حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اس کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔