لانگ مارچ‘ دھرنے میں شرکت کا فیصلہ حتمی ہے‘ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: قاضی

لاہور (خصوصی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ حکومت وعدوں سے انحراف کر کے اپنا اعتبار ختم کر چکی ہے‘ 2 نومبر کی پوزیشن پر عدلیہ کی بحالی کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔ لانگ مارچ اور دھرنے میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کا کردار تاریخی ہو گا‘ نہ صرف بڑی تعداد میں شریک ہوں گے بلکہ میزبانی بھی کریں گے۔ سوات میں بندوقوں کی تقسیم امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے‘ اے این پی نے اپنے کارکنوں میں اسلحہ تقسیم کیا تو خانہ جنگی ہو گی اور امن کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو معاشرے کو کارآمد افراد ملتے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے اور سکول جلائے جانے کے حق میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں شرکت کا فیصلہ حتمی ہے اور ہم اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ قاضی نے خواتین کو مخاطب کر کے کہا کہ عدل و انصاف کی اس تحریک میں آپ کا کردار اہم ہے۔ قاضی حسین احمد نے جامعۃ المحصنات کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ کم وسائل کے باوجود وہ پورے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سوات میں امن معاہدے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ صحیح سمت میں مثبت پیشرفت ہے۔ امن معاہدے کے بعد سوات میں ڈی سی او کے اغواء اور وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں بندوقیں تقیسم کرنے جیسے اقدامات سے غلط فہمی پیدا ہو گی‘ امن معاہدہ ناکام ہو گا۔نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے قاضی نے کہا کہ دھرنا پرامن جمہوری عمل ہے یہ افراتفری پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھرنا دیں گے مگر بھوک ہڑتال نہیں کریں گے۔ 3 نومبر 2007ء کو مارشل لاء والوں نے عدلیہ کو بالکل ختم کر دیا تھا عدلیہ کو بحال کرنا دستوری اور قانونی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کھائیں پیئں گے اور پوری قوم آ کر ہمارے ساتھ بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت میثاق جمہوریت پر عمل کرے تو محاذ آرائی ختم ہو جائیگی۔
قاضی