فیصلے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: رہنماﺅں کا ردعمل

لاہور(خصوصی رپورٹر) ملک کے معروف رہنماﺅں نے نواز شریف، شہباز شریف کی نااہلیت کے فیصلے کو جسٹس منیر کیس اور بھٹو پھانسی کیس کے فیصلوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا،2 نومبر والی سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوتا، اس فیصلے کو کوئی قبول نہیں کرےگا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے سپریم کورٹ کی طرف سے شریف برادران کو نااہل قرار دینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ میاں نواز شریف کا 2008ءکے انتخابات میں حصہ لینا غلط تھا۔ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے اور ہمارے ساتھ تحریک میں شامل ہو جاتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ان کے لئے اس کے بغیر راستہ نہیں رہا کہ وکلاءکے لانگ مارچ اور دھرنے میں شامل ہو جائیں تاکہ عدلیہ بحال ہو۔ اس فیصلے سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ ملک میں آزاد عدلیہ کا وجود نہیں ہے۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اس فیصلے کو کوئی قبول نہیں کریگا۔ مرکزی جمعیت علماءپاکستان کے صدر صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے شریف برادران کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے فیصلے کو قابل افسوس قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور خیر سگالی کی جو فضا 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات کے بعد پیدا ہوئی تھی اس کو بہت نقصان پہنچے گا اور ملک کی دو بڑی پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان فاصلے بہت بڑھ جائینگے۔ حاجی فضل کریم نے کہا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کے علاوہ پاکستان کے عام آدمی کا بھی یہی تاثر ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کا فیصلہ سیاسی ہے اور یہ ملک کے لئے بہت مہلک ثابت ہوگا۔ مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کے فیصلے پر خوشی نہیں منانی چاہئے۔