ایندھن کی فراہمی کا بڑا ذریعہ درہ خیبر سے مقامی طالبان نے ترسیل مشکل بنادی

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) درہ خیبر کے راستے ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث افغانستان کے اندر برسرپیکار اتحادی افواج کو طالبان اور حزب اسلامی کیخلاف فضائی کارروائیوں میں دقت پیش آ رہی ہے۔نوائے وقت کو مستند ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق درہ خیبر اتحادی افواج اور افغانستان میں شہری ہوابازی کے شعبے کیلئے ایندھن بالخصوص جیٹ فیول کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اور روٹ پر مقامی طالبان کے آئے روز حملوں نے درکار مقدار میں ایندھن کی دستیابی کو مشکل بنا دیا ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے اندر فوجی اور سویلین استعمال کیلئے ماہانہ تیس ہزار ٹن جیٹ فیول باا لترتیب بحیرہ عرب،کراچی،پشاور،پھر درہ خیبر اور یہاں سے افغانستان کے اندر مختلف مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔اس ترسیل کیلئے روزانہ پچاس ٹینکر استعمال میں لائے جاتے ہیں۔اتنی بڑی مقدار ایندھن کی ترسیل اور درہ خیبر کے تنگ موڑوں اور پتلی سڑک نے اس ترسیل کو طالبان کیلئے خاصا آسان ہدف بنا دیا ہے۔صرف یہی نہیں کہ حملے پاکستان کے اندر کئے جاتے ہیں،مشرقی افغانستان میں داخل ہوتے ہی یہ ٹینکر افغان طالبان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔روزانہ لگ بھگ مزید پچاس ٹرک،پٹرول اور ڈیزل لاد کر اسی شاہراہ پر افغانستان کیلئے سفر کرتے ہیں۔