شہباز شریف کی آرمی چیف سے ملاقات‘ اہم امور پر تبادلہ خیال

شہباز شریف کی آرمی چیف سے ملاقات‘ اہم امور پر تبادلہ خیال

لاہور (خصوصی رپورٹر) آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے آرمی گیسٹ ہائوس لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ملاقا ت کی جس میں میڈیا، شمالی وزیرستان میں کارروائی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات میں موجودہ صورتحال میں اداروں کے درمیان تلخی کم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ ملاقات نصف گھنٹہ جاری رہی اور آرمی چیف نے وزیراعلیٰ پنجاب کو خوشگوار موڈ میں الوداع کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے الحمراء ہال میں پانچویں عالمی ادبی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے اور اس سے ادبی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے ’’بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے اور میں یہاں وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ انہوں نے کانفرنس کے موضوع کے اعتبار سے اپنے بیتے ہوئے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے اتفاق کرکٹ کلب کا واقعہ سنایا اور بتایا کہ اتفاق کرکٹ کلب کا گورنمنٹ ایم اے او کالج کی ٹیم سے میچ تھا، میں اور محمد نوازشریف اپنی ٹیم کی طر ف سے میچ کی اوپننگ کے لئے میدان میں آئے۔ محمد نوازشریف کے کلاس فیلو سجاد حسین ایمپائر تھے۔ مخالف ٹیم کے فاسٹ باولر کی ایک تیز گیند میرے پیڈ پر آکر لگی پوری ٹیم نے اپیل کی مگر ایمپائر نے اپیل مسترد کر دی حالانکہ مجھے معلوم تھاکہ میں آئوٹ ہوں لیکن جب ایمپائر نے انگلی کھڑی نہیں کی تو میں بھی بیٹنگ کرتا رہا۔ تیسرے اوور میں اسی باولر کی وکٹوں سے باہر جاتے ہوئے ایک گیند میرے پیڈ پر لگی کسی نے کوئی اپیل نہ کی کیونکہ اس دفعہ میں بالکل آئوٹ نہیں تھا۔ وکٹ کیپر نے مجھے کہاکہ تم آئوٹ ہو جس پر میں نے کہاکہ میں کیسے آئوٹ ہوں تو وکٹ کیپر نے کہاکہ ایمپائر کی طرف دیکھو جب میں نے ایمپائر کو دیکھا تو ان کی انگلی کھڑی تھی۔ میں نے ایمپائر کے پاس جا کر پوچھا کہ جب میں یقینی آئوٹ تھا تو آپ نے نہیں دیا، اب میں بالکل آئوٹ نہیں تھا تو آپ نے کیسے آئوٹ دے دیا۔ ایمپائر نے جواب دیا میں کیا کر سکتا ہوںآپ کے بڑے بھائی نے کہاکہ آئوٹ دے دو۔ یہ میں نے دو بھائیوں کے مابین سچی محبت کی کہانی سنائی ہے۔ بھائیوں میں محبت اور پیار کا رشتہ ماضی میں بھی تھا اب بھی ہے اور انشاء اﷲ آئندہ بھی رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب نجم سیٹھی پنجاب کے نگران وزیراعلی بنے تو انہوں نے انتخابات سے قبل ساری انتظامیہ بدل دی تھی۔ انہوں نے پنجاب کی نگران کابینہ میں ایسے شخص کو وزیر داخلہ بنایا جو ہماری مخالف پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح نجم سیٹھی اس بیوروکریٹ کو پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے طور پر لائے جنہیں میں نے 2009میں پنجاب میں گورنر راج کے بعد مرکز بھجوایا تھا۔ میں نجم سیٹھی کے ان اقدامات پر داد دیتا ہوں، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو الیکشن میں دھاندلی کا جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے حوالے سے لوگ دو آراء رکھتے۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین لاہور آرٹ کونسل عطاء الحق قاسمی کی شادی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہم عطاء الحق قاسمی کے والد بہائوالحق قاسمی کی امامت میں ان کی مسجد میں نماز ادا کرتے تھے۔ انہوں نے ازراہ تفنن کہاکہ عطاء الحق قاسمی کھانوں کے بے حد شوقین ہیں اور اگر ان کے سامنے کھانا آ جائے تو وہ بد پرہیزی کرتے ہوئے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال کے فرزند جسٹس (ر) جاوید اقبال ابھی جج نہیں بنے تھے لیکن وہ میدان سیاست میں موجود تھے۔ ہمارے خاندان کا 70کی دہائی میں سیاست سے دور دور تک واسطہ نہ تھا لیکن ہمارے خاندان نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ قلبی لگائو کی وجہ سے ان کا پورا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ وقت قیمتی دولت ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اس لئے ہمیشہ وقت اچھے انداز سے گزارنا چاہیے۔ ماضی پر افسوس کرنا وقت کو کھو دینے کے مترادف ہے۔ عالمی ادبی کانفرنس سے چیئرمین لاہور آرٹ کونسل عطاء الحق قاسمی، معروف ادیب انتظار حسین، عبداﷲ حسین، جسٹس (ر) جاوید اقبال، بھارت سے آئے ہوئے شمیم حنفی اور ابو الکام قاسمی نے بھی خطاب کیا۔ علاوہ ازیں شہبازشریف سے پاکستان میں اٹلی کے سفیر ایڈریانو چوئیڈی سیان فرانی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر اٹلی کے سفیر نے میٹرو ٹرین منصوبے کے معاہدے پر وزیراعلیٰ کو مبارکباد دی اور کہا کہ شہبازشریف نے میٹرو ٹرین منصوبے کی صورت میں عوام کو جدید ٹرانسپورٹ نظام کا تحفہ دیا ہے۔ اٹلی کو ویسٹ ٹو انرجی اور سولر انرجی میں مہارت حاصل ہے اور ہم اس ضمن میں پنجاب حکومت کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے اٹلی کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اٹلی کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے انرجی کے شعبہ میں اٹلی کے سفیر کی جانب سے تعاون کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ٹرین منصوبہ چین کا پاکستانی عوام کیلئے تاریخ ساز تحفہ ہے۔ میٹرو ٹرین منصوبے کو شفافیت، اعلیٰ معیار اور تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کیلئے سرکاری محکموں اور اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری محکموں اور اداروں میں بنیادی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو بہترین سہولتیں اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کیلئے متحرک اور خودکار نظام انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں تمام محکمے آئندہ چار برس کا ٹارگٹ پلان مرتب کریں گے۔ وہگزشتہ روز پبلک سیکٹر مینجمنٹ ریفارمز کے بارے میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو بہترین سروسز فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت اپنا یہ فرض ہر صورت ادا کرے گی، اس حوالے سے محکموں کی استعدادکار میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اختیارات کی نچلی سطح پر چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ منتقلی سے عوام کو بہترین خدمات فراہم ہوں گی۔ احتساب کا نظام عوام کو شفاف اور بہترین خدمات کی فراہمی کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں موثر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے میٹرو ٹرین منصوبے کے معاہدے پر سیاسی و انتظامی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شاندار کامیابی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے جس کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچے گا۔ چین کے ساتھ میٹرو ٹرین منصوبے کا معاہدہ بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ منصوبہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں انقلاب برپا کر دے گا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ صوبائی وزرائ، چیف سیکرٹری نوید اکرم چیمہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ ڈاکٹر توقیر شاہ، سابق سیکرٹری کوآرڈینیشن وزیراعلیٰ و موجودہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ سنبل، ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور دیگر متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہے کہ چین نے پاکستان کیلئے میٹرو ٹرین جیسا شاندار تحفہ دیا ہے۔ اس موقع پر تمام شرکاء اجلاس نے تالیاں بجا کر وزیراعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا۔