شکیل آفریدی کی قید پاکستان کیساتھ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے، فوری رہا کیا جائے: امریکی ایوان نمائندگان

شکیل آفریدی کی قید پاکستان کیساتھ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے، فوری رہا کیا جائے: امریکی ایوان نمائندگان

واشنگٹن (نوائے وقت نیوز+ آئی این پی) امریکی ایوان نمائندگان نے دفاعی اخراجات کے بل میں ترمیم منظور کرتے ہوئے پاکستان سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں آئندہ سال کے لئے 590 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے بل میں ترمیم ڈانا روہرا بیکر نے پیش کی۔ 325 ارکان نے ترمیم کے حق میں اور 98 نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید پاکستان، امریکہ تعلقات میں شدید رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان انہیں فوری طور پر رہا کرے۔ ایک اور ترمیم میں بیکر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی امداد کی رقم پاکستان میں اقلیتوں اور لسانی گروپوں کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔ ترمیمی بل اب منظوری کے لئے سینٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ایوانِ نمائندگان نے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کی جانب سے امریکی شہریوں کے ٹیلی فون ڈیٹا کی بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ محدود کرنے سے متعلق قانون منظور کرلیا۔ یو ایس اے فریڈم ایکٹ نامی مجوزہ قانون کی حمایت کرنے والے ارکان کانگریس کا موقف ہے کہ اس کے نتیجے میں نجی زندگی کے احترام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ رائے شماری میں ایوانِ نمائندگان نے مجوزہ قانون 121 کے مقابلے میں 303 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ قانون کی حمایت میں ووٹ دینے والوں میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ ری پبلکن ارکان بھی شامل تھے جس کے باعث اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ دونوں جماعتیں خفیہ اداروں کی جانب سے عام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کو قاعدے قانون کا پابند کرنا چاہتی ہیں۔ 'این ایس اے' کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے کئے جانے والے انکشافات کے بعد امریکہ میں اس ضمن میں ہونے والی یہ پہلی قانون سازی ہے۔ بِل کے حامی ارکان کا موقف ہے کہ اس نوعیت کی قانون سازی کے نتیجے میں جہاں ایک جانب امریکی اداروں کی انٹیلی جنس کارروائیوں کا تحفظ ہوسکے گا وہیں نجی زندگیوں میں سرکاری اداروں کی بے جا مداخلت کا راستہ بھی روکا جاسکے گا۔ تاہم بل تجویز کرنے والے ایک قانون ساز سمیت ایوان کے کئی ارکان کا موقف ہے کہ بِل کو منظوری کے لئے ایوان میں پیش کرنے سے قبل کمیٹیوں میں بحث کے دوران مسودے میں شامل کئی اہم دفعات کو نکال دیا گیا ہے جس سے قانون کی افادیت کم ہوگئی ہے۔ قانون کے تحت ٹیلی فون کمپنیوں کو امریکی شہریوں کا ٹیلی فون ریکارڈ 18 مہینوں تک محفوظ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کو دہشت گردی سے متعلق تحقیقات کے دوران عدالتی حکم پر 'این ایس اے' کو اس ریکارڈ تک رسائی بھی دینا ہوگی۔ اس سے قبل یہ ڈیٹا 'این ایس اے' کے پاس محفوظ ہوتا تھا اور ٹیلی فون کمپنیاں تمام ڈیٹا ایجنسی کو فراہم کرنے کی پابند تھیں۔ صدر اوباما بھی اس مسودہ قانون کی حمایت کرتے رہے ہیں تاہم ماضی میں اس بِل کی حمایت کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی انجمنیں اب اس کی حمایت سے دستبردار ہوگئی ہیں۔ ان کمپنیوں اور انجمنوں کا موقف ہے کہ سخت گیر نظریات کے حامل ارکانِ کانگرس کی حمایت کے حصول کی غرض سے بِل کی کئی اہم شقیں قربان کردی گئی ہیں۔ ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب یہ قانون سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں امکان ہے کہ اس پر ایک بار پھر نئے سرے سے بحث و مباحثے کا آغاز ہوگا۔