شمالی وزیرستان: آپریشن میں تیزی، 6شدت پسند مارے گئے، 7زخمی

شمالی وزیرستان: آپریشن میں تیزی،  6شدت پسند مارے گئے، 7زخمی

میرانشاہ (ایجنسیاں) شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں، تیسرے روز میں مختلف علاقوں میں گولہ باری جاری رہی۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز میرانشاہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسزکی کارروائی میں 6 شدت پسند  جاں بحق اور 7  زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے میرانشاہ، ماچس کیمپ اور میر علی بازار کے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ایک بار پھر گولہ باری کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے میرانشاہ، ماچس کیمپ کھاروانی، سکھیل وزیر اور میر علی بازار کے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر پھر گولہ باری کی گئی۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے مختلف علاقوں میں کرفیو  میں صبح ساڑھے 10 بجے سے شام 7 بجے تک  نرمی دی گئی  جس کے دوران لوگوں نے اپنی روزمرہ کی اشیاء خریدیں کرفیو کے باعث گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہوگئی  تھی، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے زمینی آپریشن میں ٹینک، جبکہ فضائی نگرانی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا گیا۔ نعشوں کو میران شاہ ہیڈکوارٹرز ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فوج کی کارروائیوں میں پہلے کی نسبت تیزی آگئی ہے۔ سکیورٹی فورسز ماچس کیمپ میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ علاقہ غیر ملکی شدت پسندوں کا گڑھ تھا یہاں زیادہ تر ازبک، چیچن، ترکمان، تاجک اور یغور موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، چند روز میں تحصیل غلام خان سے 6سو خاندان صوبہ خوست میں منتقل ہو چکے ہیں۔ دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں مذاکرات کی میز پر نہ آنے والوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جارہا ہے،  جہاں شہریوں کی زندگی کو خطرہ ہوگا وہاں کارروائی کی جائیگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متعلق جب وزیراطلاعات پرویز رشید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ہے  جہاں شہریوں کی زندگی خطرے میں ہوگی وہاں سکیورٹی فورسز کارروائی کریں گی۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں تو وزیر اطلاعات نے کہاکہ ہم ان سے مذاکرات کریں گے جو اس کیلئے تیار ہیں۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے ردّعمل کے امکان کے پیش نظر اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے بارے میں پرویز رشید نے ان اطلاعات کو مسترد نہیں کیا اور کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ ملک بھر کے شہریوں کا تحفظ کرے ، ایسے اقدامات احتیاطی اقدامات کا حصہ ہیں۔