بڑے شہروں کی حفاظت: فوج کو سکیورٹی کا حصہ بنانے کی تجویز

بڑے شہروں کی حفاظت: فوج کو سکیورٹی کا حصہ بنانے کی تجویز

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نیٹ نیوز/ بی بی سی+ ایجنسیاں) پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) نے ملک کے بڑے شہروں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت بنانے کیلئے فوج کو شہری حفاظتی دستوں کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ تجویز وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں پیش کی گئی ہے جس کی حتمی منظوری وزیراعظم نوازشریف دیں گے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ نیا سکیورٹی پلان ملک کے تمام بڑے شہروں کیلئے نافذ العمل ہوگا اور اسکا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ بڑے شہروں کیلئے بنایا گیا یہ نیا حفاظتی منصوبہ ایسے وقت میں منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے جب طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہورہی۔ اس دوران پاک فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بعض مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حفاظتی انتظامات کی تفصیل تو وزارت داخلہ کا معاملہ ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی گاڑی گہری دلدل میں پھنس چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک مذاکرات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا لیکن آثار اچھے نظر نہیں آرہے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ حال ہی میں چینی سائیکلسٹ کا اغوا اور اس کی ذمہ داری تحریک طالبان کی طرف سے قبول کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کا معاملہ کس سمت بڑھ رہا ہے۔ طالبان ابھی تک امن کے قیام کیلئے کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں کر سکے۔ ان کی جانب سے کوئی مطالبات بھی سامنے نہیں آ رہے۔ ایسے میں مذاکرات کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کسی بھی صورت میں اور کسی بھی دشمن کے خلاف اپنے شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری اور وہ اس ذمہ داری سے ایک لمحے کیلئے بھی غافل نہیں ہو سکتی۔ اس صورتحال کے پیش نظر بنائے گئے وزارت داخلہ کے حفاظتی منصوبے کے مطابق شہروں کے داخلی راستوں، اہم مقامات اور چوراہوں پر فوجی اہلکاروں، رینجرز اور پولیس پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جنہیں مشکوک گاڑیوں کے علاوہ گھروں کی تلاشی کا اختیار بھی ہوگا۔ یہ ٹیمیں ملزموں کو گرفتار کر کے ان کیخلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات موقع پر ہی درج کرنے کی مجاز ہوں گی۔ کیپٹل پولیس کے ایک سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ حکومت نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی پولیس سے کہا ہے کہ وہ جڑواں شہروں کی سکیورٹی کیلئے فوج کے ٹرپل ون بریگیڈ کی مدد حاصل کریں۔ مذکورہ اہلکار نے بتایا کہ انسپکٹر جنرل پولیس آفتاب احمد چیمہ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد علی نے راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو پر ملاقات کے دوران ٹرپل ون کی مدد کیلئے طلب کی تھی۔ پولیس کے ساتھ تیار کی گئی حکمت عملی کے تحت فوجی دستوں کو پولیس کے ساتھ شہر میں گشت کیلئے تعینات کیا جاسکتا ہے۔ کیپیٹل پولیس کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر میں قائم چوکیوں کے بارے میں یہ تصور موجود ہے کہ یہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے غیرموثر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دسمبر 2013ء کے دوران کیپیٹل پولیس نے رینجرز کی مدد طلب کی تھی لیکن وزیرِ داخلہ کی ہدایات کے باوجود نیم فوجی دستے پولیس کی مدد سے گریزاں تھے۔