عدلیہ کیساتھ محاذ آرائی حکمرانوں کیلئے سیاسی خودکشی ثابت ہو گی: مذہبی و سیاسی رہنما

لاہور (این این آئی) سیاسی و دینی جماعتوں اور وکلاءکے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی حکمرانوں کیلئے سیاسی خود کشی ثابت ہوگی‘ وزیر اعظم گیلانی بھی اندر سے آصف زرداری ہیں کیونکہ وہ آئین پر عمل کی بجائے کرپشن کا تحفظ کر رہے ہیں‘حکومت ایسی آزاد عدلیہ چاہتی ہے جو اس کے ہر اچھے برے کام کی تائید کرے‘ قوم نے آزاد عدلیہ کیلئے قربانیاں دی تھیں اور ہر وقت اب بھی لانگ مارچ کے لئے تیار ہیں‘عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ٹکراﺅ پیدا کرنے والی قوتیں ملک اور جمہوریت دشمن ہیں اور ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اپنے الگ الگ بیانات میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ مرکزی نائب صدر اعجاز چوہدری اور پنجاب کے صدر احسن رشید نے کہا کہ صرف آصف زرداری نہیں بلکہ تمام سیاستدانوں کی غیر ملکی بینکوں میں پڑی رقم واپس لانے کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے۔ قوم عدلیہ کی آزادی پر کسی کو بھی شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیگی اور وزےر اعظم گےلانی جس طرح آصف زرداری کا دفاع کر رہے ہےں اس سے ثابت ہورہا ہے کہ وہ بھی اندر آصف زرداری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ہم اب بھی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرے اور ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی نے عدلیہ پر ضرب لگانے کی کوشش کی تو ہماری پارٹی بالکل اسی طرح عدلیہ کا ساتھ دیگی جس طرح پرویز مشرف کے دور میں دیا تھا۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری ظہیر الدین‘ (ق) لیگ کی اراکین اسمبلی آمنہ الفت اور ثمینہ خاور حیات نے عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کو جمہوریت اور ملک کے لئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کر کے ہی ملک میں جمہوریت اور نظام کو بچا سکتی ہے جب حکومت کہتی ہے کہ صدر کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور ان کے خلاف سوئس مقدمات بحال نہیں ہو سکتے تو پھر خط لکھنے میں کیا حرج ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری لیاقت بلوچ‘ پنجاب کے امیر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو صدر زرداری اور جمہوریت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا اور اگر وہ آصف زرداری کی کرپشن کو بچاتے رہے توجمہوریت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے کہا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے حوالے سے کسی کو استثنی حاصل نہیں ہونا چاہئے اور جنہوں نے بھی ملکی خزانہ لوٹا ہے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر پائی پائی وصول کی جائے‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ حکومتی رویوں سے لگتا ہے کہ اس نے ابھی تک عدلیہ کا احترام کرنا نہیں سیکھا، ہر بڑا مجرم صدر سے دوستی کا خواہشمند ہے، ایک یا دو لوگوں کی خاطر نظام کو خطرے میں ڈال کر دانشمند ی کاثبوت نہیں دیا جارہا۔ عوام عدلیہ کی پشت پر کھڑی ہے، این آراو پر عمل درآمد کا فیصلہ سڑکوں پر ہوگا، حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے ممبر حامد خان نے کہا ہے کہ عدلیہ نہیں بلکہ حکومت محاذ آرائی چاہتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے سابقہ صدر احمد اویس نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو جمہوریت اور نظام سے تھوڑی سی محبت ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ دے اور فوری طور پر سوئس مقدمات کی بحالی کیلئے خط لکھے۔ (ن) لیگ لائرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے کہا کہ ہم پارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے ہر وقت تیار ہیں اور پیپلز پارٹی کی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہونیوالی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دینگے۔