سپریم کورٹ میں این آراو کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت سات جون تک ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ میں این آراو کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت سات جون تک ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے سترہ رکنی فل کورٹ نے وفاق ، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم ، چیئرمین نیب، پراسیکیوٹرجنرل اور ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل نیب کی طرف سے دائردرخواستوں کی سماعت کی ۔ اس موقع پرحکومت کی جانب سے پیش ہونے والے کمال اظفرایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں سوئس پراسیکیوشن کے حوالے سے دستاویزات کا مطالعہ کرنا ہے، اس لیے ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی جائے،  چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجربنچ کی تشکیل کافی مشکل ہوتی ہے اس لیے بہترہوگا کہ اکتیس مئی کو ہم آئین کی اٹھارہویں ترمیم کی درخواستوں کے بعد این آر او کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت بھی کریں، تاہم کمال اظفرنے دوہفتے کی مہلت دیئے جانے کا اصرارکیا ، جس پرعدالت نے مزید سماعت سات جون تک ملتوی کردی ۔ واضح سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے مقدمہ کی پیروی سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد کررہے ہیں۔