""فیصل آباد جعلی مقابلہ"" تھانیدار، 3 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ، مقتول طالب علم پر بھی پرچہ کاٹ دیا گیا

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) پیپلزکالونی کے علاقے میں ایس ایچ او کی فائرنگ سے نوعمر طالب علم کے قتل کے واقعہ میں پولیس نے ملزم تھانیدار کی مدعیت میں مقتول طالب علم اور اسکے ساتھی کو ڈاکو قرار دیکر مقابلے میں مارنے کا مقدمہ درج کر لیا۔ دوسری ایف آئی آر مقتول کے ورثاء کی طرف سے درج کرا دی گئی۔ جس میں پولیس انسپکٹر کو قاتل قرار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات کھلونا پستول سے کھیلنے والے میٹرک کے 15سالہ طالب علم فرحان کو جعلی مقابلے میں قتل کرنیوالے تھانہ پیپلز کالونی کے ایس ایچ او فریاد حسین چیمہ سمیت چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے زیر دفعہ 302 مقدمہ درج کر لیا گیا وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی، نعش پوسٹ ماٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ ماں اپنے لخت جگر کو کفن میں دیکھ کر سکتے میں چلی گئی علاقہ مکینوں عزیز و اقارب نے قاتل تھانیدار کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق سوساں روڈ پیپلز کالونی پر فرحان اور اسکا دوست کھلونا پستول سے کھیل رہے تھے اور ملزم ایس ایچ او فریاد چیمہ پرائیویٹ گاڑی میں اہلکاروں کے ساتھ وہاں سے گزرا اور دونوں پر بلااشتعال گولیاں برسا دیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے جو دوسرا طالب علم زخمی ہوا اس کو کافی دیر تک پولیس نے اپنی گاڑی میں رکھا اور بعدازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سٹی پولیس کی طرف سے تمام تھانوں کی چھوٹی چھوٹی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کرنے کے چکروں کی وجہ سے اکثر تھانوں کی حدود میں ایسے سنگین واقعات سامنے آتے ہیں جس میں بے گناہ بھی پولیس کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے فرحان کا والد افتخار احمد آفیسر کالونی سی بلاک کا رہائشی اور مقامی ایکسپورٹ کمپنی میں سیلز منیجر ہے۔ 15سالہ فرحان اپنے دوستوں کے ہمراہ افطاری سے پہلے پارک میں کھلونا پستول کے ساتھ تصاویر بنا رہا تھا اچانک ایس ایچ او پیپلز کالونی فریاد چیمہ اپنی پرائیویٹ گاڑی پر وہاں آ گیا اور سرکاری پستول سے بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں 15 سالہ فرحان جاں بحق ، چودہ سالہ فہد زخمی ہو گیا باقی بچوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ ایس ایچ او پیپلز کالونی فریاد چیمہ کی جانب سے درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میں گشت پر علاقے میں موجود تھا کہ سکیورٹی گارڈ نصیر احمد نے مجھے بذریعہ فون اطلاع دی کہ دونقاب پوش نوجوان لوگوں کو اسلحے کے زور پر لوٹ رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی میں موقع پر گیا ڈاکوئوں کو گرفتاری دینے کا کہا جس پر ڈاکوئوں نے سیدھی فائرنگ کردی اور فرحان نامی نوجوان اپنے ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور ہسپتال میں چل بسا جبکہ اسکا ساتھی موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا پولیس ایف آئی آر میں واضح لکھا ہے کہ نوجوان فرحان ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا جبکہ اسکا ساتھی موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا مگر حقیقت میں دونوں بچے زخمی ہوئے تھے مگر پولیس ایف آئی آر میں صرف ایک کو زخمی ظاہر کیا گیا۔ دوسری جانب زخمی بچے کے چچا محمد علی کی جانب سے درج کروائی جانیوالی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بینہ پارک میں کمسن بچے کھیل رہے تھے کہ ایس ایچ او پیپلز کالونی بلااشتعال بچوں پر فائرنگ کردی جس سے فرحان جاں بحق ہو گیا۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار قانون کے تحت سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ جاں بحق لڑکے کے خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس حکام کی جانب سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن صاحبزادہ محمد بلال کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ پوسٹ مارٹم سول ہسپتال کے بورڈ نے مقتول بچے کی میت جب گھر پہنچی تو رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ہر آنکھ اشکبار تھی بچے کے والدین غم سے نڈھال تھے بالخصوص بچے کی والدہ پر غشی کے دورے پڑتے رہے۔ فرحان کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرا کر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ ایس ایس پی آپریشنز کو تحقیقاتی افسر مقرر کرنا پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز کالونی فیصل آباد میں پولیس فائرنگ سے 15 سالہ نوجوان فرحان کی ہلاکت پر ایس ایچ او تھانہ پیپلز کالونی سب انسپکٹر فریاد چیمہ کو قصوروار قرار دیدیا گیا۔ پولیس ٹیم نے رپورٹ سی پی او افضال کوثر کو پیش کردی ہے۔