کراچی گرمی سے مرنیوالوں کی تعداد 12 سو سے بڑھ گئی: سندھ میں آج تعطیل کا اعلان، وزیر اعلیٰ کی زیر قیادت وفاقی حکومت، کے الیکٹرک کے خلاف دھرنا دینگے: شرجیل

 کراچی گرمی سے مرنیوالوں کی تعداد 12 سو سے بڑھ گئی: سندھ میں آج تعطیل کا اعلان، وزیر اعلیٰ کی زیر قیادت وفاقی حکومت، کے الیکٹرک کے خلاف دھرنا دینگے: شرجیل

کراچی+ لاہور+ اسلام آباد (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) کراچی شدید گرمی اور حبس سے ہلاکتوں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ آزاد ذرائع کے مطابق چار روز کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2ہزار ہو گئی جبکہ کراچی کے ہسپتالوں نے 4روز میں 1200سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ سینکڑوں افراد بے بس جنہوں نے گھروں میں دم توڑا اور انہیں ہسپتال نہیں لایا گیا جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ کیخلاف گزشتہ روز قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا گیا۔ ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔ اندرون سندھ میں گزشتہ روز مزید 43افراد دم توڑ گئے۔ رسندھ حکومت نے گرمی کی شدت کے باعث رات گئے آج صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے جبکہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے جس نے امدادی کیمپ قائم کر دئیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بدترین گرمی اور لُو کی وجہ سے موت کا رقص جاری ہے۔ گرمی، ہیٹ سٹروک اور ڈائریا سے متاثرہ مزید سینکڑوں مریض ہسپتال پہنچ گئے ہیں، بستروں کی تعداد کم پڑی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد کی عمر 40سال سے زائد ہے۔ بچے بھی شکار ہو رہے ہیں۔کراچی میں قیامت کی گرمی منگل کو بھی کئی گھرانوں کے چراغ گل کر گئی۔ نیو کراچی، سائٹ ،گلشن اقبال، نارتھ کراچی، صدر ہو یا پھر مضافاتی علاقے کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں سے ہیٹ سٹروک ، ڈی ہائیڈریشن، گیسٹرو اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد ہسپتال نہ لائے گئے ہوں۔ آزاد ذرائع کے مطابق کراچی میں گزشتہ چار روز کے دوران گرمی اور حبس سے ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد 2ہزار ہو گئی ہے جن میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رہنے والے بے گھر افراد کے علاوہ گھروں میں اکیلے رہنے والے ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے گرمی سے بچائو کے لیے کھڑکی دروازے تو بند کر لیے مگر وہ موت کو اندر آنے سے نہ روک سکے۔ ہسپتال لائی جانے والی نعشوں کے علاوہ گرمی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعدادکی ان کے گھر والوں نے براہ راست تدفین کر دی جس کی وجہ سے مرنے والوں کی درست تعداد کا اندازہ کرنا مشکل ہو گیا، بڑے قبرستانوں میں تدفین کے عمل میں بھی مشکلات پیش آتی رہیں۔ اس کے علاوہ گرمی سے جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے منگل کو بھی سینکڑوں متاثرہ افراد کو جناح، سول اور عباسی شہید سمیت شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا گیا جہاں سٹریچرز اور بستروں کی تعداد بھی کم پڑ گئی جبکہ شہر میں جاری قیامت خیز گرمی پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہیٹ سٹروک سنٹر قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کراچی میں روزانہ 3 ہزار پانی کے ٹینکر فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر شدید گرمی کے باعث منگل کو کراچی کے تمام سرکاری دفاتر اور دیگر اداروں میں 12بجے تک تعطیل کی گئی۔ کراچی کے تاجروں نے وزیراعلیٰ سندھ کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان میں شب نو بجے مارکیٹیں بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ علاوہ ازیں قائم مقام صدر میاں رضا ربانی نے کراچی میں گرمی سے اموات پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ رضا ربانی نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ بجلی بحران کا حل روایتی طریقوں سے ہٹ کر نکالا جائے، ہسپتالوں میں ہرممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ علاوہ ازیں کراچی میں ہلاکتوں کے بعد ماہرین نے مصنوعی بارش کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سینٹرل جیل کراچی میں گرمی کے باعث ایک زیرحراست ملزم ہلاک ہو گیا۔ علاوہ ازیں وزیر اطلاعات سندھ شیرجیل میمن نے وفاقی وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک کو ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مقدمہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اموات کے ذمہ دار وفاقی وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک کو سمجھتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے بے حسی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ کے الیکٹرک میں 26فیصد شیئرز وفاق کے ہیں۔ وفاق اپنے آپ کو اس صورتحال سے علیحدہ نہیں رکھ سکتا۔ کے الیکٹرک میں وفاق کے تین ڈائریکٹر موجود ہیں۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات کے مطابق آج میرپور خاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر، شکارپور، سکھر، گھوٹکی میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ کراچی میں گرمی کی جان لیوا لہر آج شام ختم ہو جائیگی۔ گرمی کی لہر کے بعد کراچی میں ہوائیں معمول کے مطابق چلیں گی۔ علاوہ ازیں پاک فوج اور بحریہ نے کراچی، حیدرآباد، جامشورو، بدین، پنوں عاقل سمیت کئی شہروں میں ریلیف کیمپ قائم کر دئیے ہیں۔ علاوہ ازیں کئی شہروں میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی گذشتہ روز جاری رہا۔ کئی علاقوں میں سحروافطار کے وقت بھی لوڈشیڈنگ کی گئی جس کے باعث روزہ داروں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ کسووال سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کیلئے وبال جان بن گئی۔ عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی کمی کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ قلعہ دیدار سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق قیامت خیز گرمی میں بجلی کی بندش نے زندگی اجیرن بنا دی۔ 12 سے 16 گھنٹے تک بجلی بند رہی جس پر لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ دیپالپور سے نامہ نگار کے مطابق بدترین لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ سپر مارکیٹ میں دو دنوں سے بجلی بند ہونے پر علاقہ مکینوں نے لیسکو مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا اور میزائل چوک میں دھرنا دیا اور سڑک بلاک کرکے حکومت مخالف سخت نعرے بازی کی۔ چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق شدید گرمی کے باعث ایک 70 سالہ شخص دم توڑ گیا۔ شرقپور شریف سے نامہ نگار کے مطابق شرقپور شریف اور گردونواح کے علاقوں میں سحری، افطاری اور نماز تراویح کے دوران بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ عوام کو روزہ رکھنے اور کھولنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور خواتین نے احتجاج کیا ہے۔ علاوہ ازیں اندرون سندھ کے شہروں ہالا، ٹھٹھہ اور حیدرآباد میں گرمی میں لوڈشیڈنگ کے باعث مزید 43 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ حیدرآباد میں گرمی سے 24 افراد دم توڑ گئے۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق کوئٹہ بائی پاس کے علاقے میں مکینوں کا لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج مظاہرہ ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیا جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے کئی علاقوں میں بھی طویل لوڈشیڈنگ جاری رہی اور لوگ سراپا احتجاج بنے رہے۔ علاوہ ازیں گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے سرحدی علاقوں کے شہری ایران جانے لگے جبکہ کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں اور اس دوران پتھراؤ بھی کیا۔ علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں شدید گرمی اور ہیٹ سٹروکس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونیوالی ہلاکتوں پر نائن زیرو پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام ارکان رابطہ کمیٹی، میڈیکل ایڈ کمیٹی اور دیگر ذمہ داران کو نائن زیرو طلب کر لیا ہے۔ علاوہ سندھ کے سینئر وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے بدترین بجلی بحران کا ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف، وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف، وزیر مملکت عابد شیر اور وفاقی حکومت کو قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت کو سندھ کی کوئی پرواہ نہیں۔ علاوہ ازیں وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابدشیر نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کوئی گرمی سے گھٹ کر مر جائے تو اس کی ذمہ دار حکومت نہیں۔ انہوں نے صحافی سے دریافت کیا کہ آپ میرے انٹرویو کے بعد گرمی سے مر جائیں تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دیں گے۔ بڑے اقدامات کر رہے ہیں۔ بجلی بحران2017 میں ختم ہو جائے گا۔ ٹرانسفارمر جلنے سے 8 سے10 گھنٹے پاور تعطل ہوتا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے ہونے والی تکلیف پر عوام سے معذرت کی ہے ماضی میں کبھی پاور سیکٹر پر توجہ نہیں دی گئی۔ سحر اور افطار میں شکایات سننے کے لئے فون آن لائن ہوتے ہیں۔ کوشش ہے کہ سحروافطار میں لوڈشینڈنگ نہ ہو۔ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کو ریلیف دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں عابد شیر نے مزید کہا کہ قدرتی آفات سے ہونے والی ہلاکتوںکی وفاقی حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔ کے الیکٹرک نے گزشتہ پانچ برسوں میں ایک میگاواٹ بجلی بھی سسٹم میں شامل نہیں کی۔ وفاق 650 میگاواٹ بجلی معاہدے کے مطابق کے الیکٹرک کو دے رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر دل دکھی ہے۔ سندھ حکومت کو لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے متبادل انتظامات کرنے چاہئے تھے ہر معاملہ وفاق کے کھاتے میں ڈالنا اچھی بات نہیں ہے۔علاوہ ازیں ماہر ماحولیات کے مطابق سندھ کے ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا گرمی میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہوا۔ ساحلی علاقوں میں کم بارش متوقع ہے۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کے سوگ میں ملتوی کر دیا گیا جبکہ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن نے کہا ہے کہ قبرستانوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی میں گرمی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے ‘ قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ‘ (ن) لیگ ملک میں ہونے والی بدترین لوڈ شیڈ نگ کی ذمہ دار ہے۔ کراچی میں حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل گرڈ کو بجلی دینے کے باوجود خیبر پختونخواہ لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہا ہے۔ ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار مسلم لیگ (ن) ہے۔ شہباز شریف اب لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے۔علاوہ ازیں بجلی بحران پر حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات اور الزام تراشی میں شدت آگئی ہے۔ حکومت سندھ نے کراچی میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار کے الیکٹرک کے معاملات کو صوبائی معاملہ قرار دے رکھا ہے۔ حکومت سندھ کے وزراء کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو سابق صدر آصف زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ خطوط لکھ چکے ہیں اجلاسوں میں خود مسائل بتاچکے ہیں اس کے باوجود وزیراعظم نواز شریف اور انکی وفاقی وزراء سنی ان سنی کررہے ہیں اور اب عوامی احتجاج شروع ہوگا لوگ سڑکوں پر آئیں گے تو اس کی ذمہ داری خود وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیروںپر عائد ہوگی۔ علاوہ ازیں نیپرا نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کے صارفین کو ساڑھے 5 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ صارفین کو ریلیف طے شدہ طریقہ کار کے تحت دیا گیا۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت وفاق اور کے الیکٹرک کے خلاف آج دھرنا دے گی۔ دھرنے کی قیادت وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کریں گے۔ دھرنے میں پی پی کے رہنما، وزراء اور اراکین سندھ اسمبلی شرکت کریں گے۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے مطابق عام تعطیل کا فیصلہ شدید گرمی میں لوگوں کو تکلیف سے بچانے کیلئے کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک کے روئیے کے خلاف دھرنا دیں گے۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس معمول کے مطابق ہو گا۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک بھر میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کراچی میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کیخلاف دوسرے روز بھی شدید احتجاج اور ہنگامہ کیا اور اپوزیشن ارکان نے ’’خواجہ آصف استعفیٰ دو‘‘ اور ’’عابد شیر علی استعفیٰ دو‘‘ کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن نے کراچی میں اموات کیخلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا بھی اعلان کیا۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شر وع ہوا تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کراچی سمیت ملک بھر میں جاں بحق ہونیوالے سینکڑوں افراد کا پارلیمنٹ کے احاطے میں نماز جنازہ پڑھنے اور جمعہ کے روز لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جبکہ مردہ خانوں میں مردے رکھنے کی جگہ نہیں حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ناکام ہوگئی ہے۔ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری وزیراعظم کو قبول کرنی چاہئے، حکومت کی ناکامی کے خلاف جمعہ کو یوم سیاہ منائیں گے۔ بجلی بحران حل نہیں ہوا وزیراعظم نے ناکامی کا اعترف کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی میں 575 جبکہ ملک بھر میں 1500 اموات ہوگئیں حکومت کو چاہئے کہ انکے غم میں شریک ہو، اسکے برعکس حکومتی ارکان جملے کستے ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ عوام ہوگی، تب حکومت چلے گی عوام کے بغیر یہ حکومت نہیں چلے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج پارلیمنٹ کے باہر مرنے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ہوگی، آج پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے۔ مسلم لیگ (ن) والے جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگر انکے دماغوں میں ڈکٹیٹر بیٹھا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ حکومتی رویے کی وجہ سے اپو زیشن اس موڑ پر پہنچ گئی ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ شیخ رشید نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار حکومت ہے، میں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور وزیر مملکت عابد شیر کے استعفوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔آفتاب شیرپائو نے کہا گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی درخواست کے باوجود حکومت نے لوڈشیڈنگ کا نوٹس نہیں لیا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم کراچی کو 60 سال تک صاف پانی نہیں دے سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ حکومت کیلئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہے، حکومت اس پر توجہ دے اور مسئلہ حل کرے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ لوڈشیڈنگ پر وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور وزیر مملکت عابدشیر کا موقف بھی سنیں جلد لوڈشیڈنگ پر بحث کرائی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا تھا اگر تین ماہ میں بجلی کا بحران ختم نہ کیا تو میرا نام تبدیل کر دیں، ہم ان کا نام تبدیل نہیں کرتے بلکہ یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عوام سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔ خورشید شاہ نے کہا شہباز برشیف بجلی بحران پر مینار پاکستان میں احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ جاتے تھے لیکن ہم قائم شاہ کو مزارقائد نہیں بھیجیں گے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے انہوں نے کہا جمعہ کو کراچی ہلاکتوں پر یوم سوگ منایا جائے گا۔ بجلی بحران کانعرہ لگاکر اقتدار میں آنے والے بری طرح ناام ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس وفاقی بجٹ 2015-16ء کی منظوری کے بعد بھی دو روز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر خزانہ اسحق ڈار کی بجٹ تقریر سے 5 جون سے شروع ہونیوالا اجلاس اب جمعرات 25 جون کو ختم ہوگا ، ( آج) بدھ کو ایوان میں ملک میں توانائی کے بحران اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر بحث شروع ہوگی ، وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف اپوزیشن ارکان کی تقایر کے بعد بحث سمیٹیں گے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی نے کہا پوری اپوزیشن نے بجلی اور پانی کی عدم فراہمی پر دونوں وزیروں سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کے خلاف جمعہ کو یوم سیاہ منائیں گے اپوزیشن کا اتحاد نہیں ہوا ایک مسئلے پر ہمارا اتفاق رائے ہے۔