لکھوی کی رہائی: چین نے اقوام متحدہ کمیٹی میں پاکستان پر پابندیوں کی قرار داد ویٹو کردی

لکھوی کی رہائی: چین نے اقوام متحدہ کمیٹی میں پاکستان پر پابندیوں کی قرار داد ویٹو کردی

نیویارک (نمائندہ خصوصی+ صباح نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) چین نے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کیخلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے حوالے سے قائم کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی قرارداد ویٹو کردی۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت نے ممبئی حملہ کیس میں ملوث قرار دئیے گئے ذکی الرحمن لکھوی کی پاکستان میں رہائی کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان سے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر جواب طلب کیا جائے۔ سلامتی کونسل کی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی درخواست پر ہوا جس میں تاہم چین نے بھارتی قرارداد کو یہ کہہ کر ویٹوکر دیا کہ بھارت نے ذکی الرحمن لکھوی سے متعلق ضروری معلومات اور ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کئے اور یہ قرارداد سیاسی طور پر لائی جا رہی ہے۔ قرارداد میں بھارت نے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر پاکستان کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا تھا کہ رہائی اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کے مطابق سلامتی کونسل نے القاعدہ سے تعلق والے افراد پر سفری پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے اور ہتھیاروں کی پابندی کی سفارش کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ذکی الرحمن لکھوی کو اپریل میں جیل سے رہا کیاگیا تھا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے اشوک مکھر جی نے سلامتی کونسل کے نام خط لکھا تھا کہ لکھوی کی رہائی اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے مطابق چین کی طرف سے بھارتی قرارداد کی مخالفت کے معاملہ کو سفارتی سطح پر چین کی اعلی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ بھی معاملہ اٹھایا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے اس حوالے سے چین کی اعلی قیادت سے معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ چین کے سوا تمام ارکان بھارت کی قرارداد کے حامی تھے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی میں 5 مستقل جبکہ 10 غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے اور بھارت کی یہ قرارداد عالمی فورم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سازش تھی اور پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو سیاسی بنانے کی کوشش تھی۔