قومی اور پنجاب اسمبلی میں بجٹ منظور: ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ میں اضافہ، پی آئی اے سے دنیا بھر میں مفت سفر کی سہولت

 قومی اور پنجاب اسمبلی میں بجٹ منظور: ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ میں اضافہ، پی آئی اے سے دنیا بھر میں مفت سفر کی سہولت

اسلام آباد + لاہور (نمائندہ خصوصی + خصوصی نامہ نگار + کامرس رپورٹر + سپورٹس رپورٹر) قومی اور پنجاب اسمبلی نے بجٹ کی منظوری دیدی ہے۔ قومی اسمبلی نے 4.4 ٹریلین کے وفاقی بجٹ اور 205 بلین کے ضمنی بجٹ کی بھی منظوری دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ اور فنانس بل برائے سال 2015-16 ء اور ضمنی بجٹ 2014-15 ء کی منظوری کے عمل کا بائیکاٹ کیا۔ سپیکر نے پرویز رشید‘ آفتاب شیخ اور احسن اقبال پر مشتمل وفد اپوزیشن کو ایوان میں واپس لانے کیلئے بھیجا تاہم اپوزیشن رہنما سید خورشید شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے راہنما اب ایوان سے جا چکے ہیں اسلئے وہ ایوان جانے کا فیصلہ اکیلے کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ پرویز رشید نے ایوان میں اپوزیشن سے مذاکرات کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایوان کی کارروائی میں شریک ہوں گے۔ اپوزیشن کے کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کرنے کے خلاف واک آؤٹ کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی کو معطل کر دیا اور حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے اپنے چیمبر میں بلایا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی ایوان میں نہیں آئے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے فنانس بل کی منظوری کو کچھ دیر کے لئے مؤخر رکھا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ لوڈشیڈنگ پر بحث کے لئے نیا اجلاس بلانے کی بجائے اسی اجلاس میں تفیصل سے بات کر لی جائے۔ اپوزیشن نے اس پیشکش کو قبول کیا ہے اس لئے بہتر تھا اپوزیشن ارکان ایوان میں آ جاتے، ہمارے دل ان کے لئے کھلے ہیں۔ وزیر خزانہ نے فنانس بل میں جو نئی ترامیم منظور کرائی ہیں۔ ان کے تحت ارکان پارلیمنٹ ماہانہ تنخواہ 27 ہزار تین سو روپے سے بڑھا کر 36 ہزار 423 روپے کر دی گئی جبکہ ارکان کے اندرون ملک کے ساتھ ساتھ اب دنیا بھر میں پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز کے ذریعے مفت سفر کی سہولت دیدی گئی ہے اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں کے ایکٹ میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ ارکان کو سالانہ تین لاکھ روپے کے ووچرز جاری کئے جائیں گے جن کے تحت وہ پی آئی اے یا ریلویز کے ذریعے اندرون ملک یا بیرون ملک سفر کر سکیں گے۔ وزیر خزانہ نے ضمنی بجٹ کے لئے 110 مطالبات زر پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دیدی۔ قبل ازیں کٹوتی کی تحریکیں مسترد ہونے کیخلاف قومی اسمبلی میں جمشید دستی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، حکومتی ارکان سے شدید تلخ کلامی بھی ہوئی۔ شاہ محمود قریشی اور عبدالرشید گوڈیل کے خطاب کے دوران گحکومتی ارکان نے ہوٹنگ بھی کی ایوان کا ماحول ناخوشگوار رہا۔ پنجاب اسمبلی نے 12 کھرب 74 ارب 56 کروڑ 85 لاکھ 81 ہزار روپے مالیت کے 43 مطالبات زر بھی منظور کر لئے گئے جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔کٹوتی کی تین تحاریک پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے احتجاجاًواک آئوٹ کیا ۔ آخری مطالبہ زر کی منظوری سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بھی ایوان میں آئے اور حکومتی بنچوں پر بیٹھے ارکان اسمبلی نے ان کا شیرآیا ،شیر آیا کے نعروں سے استقبال کیا۔ وزیراعلی نے بجٹ منظوری پر وزیر خزانہ کو مبارکباد دی۔ اپوزیشن کی طرف سے پولیس پر جمع کرائی گئی کٹوتی کی تحریک پر بحث کا آغاز کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اگر حکومت کے پاس استعداد اور اہلیت نہیں تو اپوزیشن سے رجوع کیا جائے ہم سے تجاویز لی جائیں ہم ملک دشمن نہیں۔ ایوان میں گنتی کی اپوزیشن ہے اگر حکومت انہیں حق نہیں دے سکتی تو صوبے کے دس کروڑ عوام کو کیا حق دیا جائے گا۔پولیس کا بجٹ بڑھایا گیا ہے لیکن اب حالات یہ ہو گئے ہیں کہ چوریاں نہیں سیدھے ڈاکے پڑتے ہیں۔ پولیس کی کارکردگی صفر ہے پھر کیوں اسے اتنا بڑا بجٹ دیا جائے ۔ جب تک پولیس میں سیاسی مداخلت رہے گی اس کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی ۔ جو پولیس افسران حکومتی اکابرین کی بات نہیں مانتے انہیں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ زراعت کے لئے کٹوتی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے کہا کہ شوگر مل مالکان کاٹن ایریا جنوبی پنجاب کا رخ کررہے ہیں انہیں روکنے کی ضرورت ہے۔ اگر زراعت کو ترقی دینی ہے تو جی ایس ٹی نہ لگایا جائے۔ بھارت سے آلو، پیاز، لہسن کی تجارت نہ کی جائے۔ زراعت کو چھ ارب کی سبسڈی دی گئی جبکہ فلور ملوں کو 12 ارب کی سبسڈی دیدی گئی۔ پنجاب میں زراعت تباہی کی طرف جارہی ہے۔