زرداری کے بیان سے متعلق وضاحتیں مضحکہ خیز ہیں: عمران فاروق کیس، گرفتار ملزم معظم سے تفتیش کے لئے برطانوی ٹیم چند روز میں آئیگی: نثار

 زرداری کے بیان سے متعلق وضاحتیں مضحکہ خیز ہیں: عمران فاروق کیس، گرفتار ملزم معظم سے تفتیش کے لئے برطانوی ٹیم چند روز میں آئیگی: نثار

اسلام آباد (ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزم معظم سے تفتیش کیلئے دو رکنی برطانوی ٹیم اگلے ہفتے پاکستان آئے گی، برطانیہ سے اچھے تعلقات ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہماری ذمہ داری ہے، تین گرفتار ملزموں سے پوچھ گچھ کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے گی، پارلیمنٹ ہائوس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے برطانوی حکومت اور پولیس کی متعدد درخواستیں حکومت پاکستان کو موصول ہو چکی تھیں، اس حوالے سے 2 ماہ قبل ایک شخص کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت زیر تفتیش ہے‘ ہم نے برطانیہ کو سفارتی ذرائع سے اطلاع دی ہے کہ پہلے مرحلہ میں وہ اس شخص سے تفتیش کرسکتے ہیں، وزیر داخلہ نے کہاکہ اس کے علاوہ 2 افراد گرفتار ہوئے ہیں تاہم اس پر نہ تو ابھی تک برطانوی ہائی کمشنر سے کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی خصوصی پرواز سے ان افراد کو کوئٹہ سے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ سے اچھے تعلقات ہیں، ان کے ساتھ تعاون کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کیس کو متحدہ سے نہ جوڑا جائے، ایم کیو ایم بھی چاہتی ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاہم یہ وقوعہ لندن میں ہوا اور مقدمہ بھی وہیں چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ3 ملزم زیرحراست ہیں، اس کیس کے بین الاقوامی اثرات ہیں، یہ اہم اور حساس مسئلہ ہے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ میڈیا کو تمام صورتحال سے آگاہ رکھا جائیگا ان ملزمان کو اسلام آباد لایا جائیگا جہاں پر برطانوی تفتیشی ٹیم ان سے تفتیش کرے گی۔ اس کیس کیلئے جے آئی ٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو پہلے خود تحقیق کرے گی بعد میں وہ برطانوی حکام کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرے گی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم کے وفد سے ہونے والی ملاقات میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس پر بات چیت ہوئی۔ ایم کیو ایم کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ تمام عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے بیان سے سول ملٹری تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑا، شہداء کے لواحقین کیلئے زمین دے کر سندھ حکومت نے ایک اور سنگین مذاق کیا ہے۔ چودھری نثار نے کہا ہے کہ زرداری نے جو جارحانہ تقریر کی اس پر آنے والی وضاحتوں پر ہنسی آتی ہے۔ وضاحتیں تقریر سے بڑا مذاق ہیں سابق صدرکو ایسی تقریر نہیں کرنا چاہئے تھی کر دی تو اس پر قائم رہیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ لیڈر شپ قوم کے سامنے اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرتی یہ کہنا کہ ریٹائرڈ جنرلز کی بات کی تو ضیاء الحق اور پرویز مشرف تین، تین سال نہیں، دس، دس برس رہے۔ آصف زرداری مانیں نہ مانیں جارحانہ تقریر کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ چودھری نثار کی میڈیا سے گفتگو میں ماڈل ایان علی کا بھی ذکر آیا وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ ایان علی کو کسٹم انٹیلی جنس نے پکڑا وہی تفتیش کر رہے ہیں یہ کیس وزارت داخلہ کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ بی بی سی کے مطابق رینجرز نے رواں برس اپریل میں کراچی سے معظم علی نامی شخص کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا اور اس وقت وزارت داخلہ نے کہا تھا وہ عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم ہیں۔ معظم علی پر الزام تھا کہ اس نے مبینہ طور پر اْن دو افراد کو لندن بھجوایا تھا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئٹہ میں جن دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے تفتیش کیلئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی جائے گی۔ چودھری نثار نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں اور ایم کیو ایم بھی چاہتی ہے کہ مجرم انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا وہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔ ذرائع سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق عمران فاروق قتل کیس میں تفتیش کیلئے لندن پولیس ٹیم پاکستان آئے گی۔ عمران فاروق قتل کیس میں پاکستان برطانیہ سے تعاون کر رہا ہے۔ کمانڈر رچرڈ والٹن کے گزشتہ مہینے دورہ پاکستان سے پیشرفت ہوئی۔ عمران فاروق قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جسے جلد ظاہر کیا جائے گا۔ دریں اثنا پاکستان میں گرفتارافراد کی برطانیہ حوالگی کیلئے درخواست تیار کر لی گئی۔ برطانوی حکومت کے مطابق ڈیوڈ کیمرون کو کیس کی تفتیش سے آگاہ کیا گیا۔ درخواست آئندہ چند روز میں پاکستان کو سرکاری طور پر بھیج دی جائے گی۔ ذرائع سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق لندن پولیس کی 4 رکنی ٹیم پاکستان بھیجی جائیگی۔