سپریم کورٹ نے مشرف کو باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ معطل کر دیا‘ سماعت چار ہفتے کیلئے ملتوی

سپریم کورٹ نے مشرف کو باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ معطل کر دیا‘ سماعت چار ہفتے کیلئے ملتوی

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام  ای سی ایل سے خارج کرنے سے متعلق  سندھ ہائیکورٹ کے احکامات معطل کردیئے، عدالت نے  وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے  قرار دیا ہے کہ اگر مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تو پھر یہ حتمی ریلیف کے مترادف ہی ہوگا، عدالت نے سماعت 4ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں  پانچ رکنی لارجر بنچ نے  مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات  کے خلاف وفاق کی اپیل کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈالا گیا  تھا۔  عدالت عظمیٰ نے 3 جولائی 2013 ء کو جب معاملہ نمٹایا تو عدالت نے 8 اپریل کے فیصلے کو تبدیل نہیں کیا اسلئے سپریم کورٹ کا حکم اب بھی برقرار ہے۔ مشرف کے خلاف غداری کے علاوہ دیگر سنگین مقدمات ہیں اور ان کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہوں کے بیانات قلم بند کئے جارہے ہیں۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ جسٹس ثاقب نثار  نے کہا کہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نکالنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے تو پھر حکومت اس پر کیوں پریشان ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے تو ملزم پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا ہے لیکن اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کا حکم آگیا ہے۔ اگر حکومت سندھ ہائی کورٹ کا حکم تسلیم نہیں کرتی تو پھر وہ توہین عدالت کی مرتکب ہوگی۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ عبوری تھا۔ انہوں نے مشرف کے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کئے جس میں ڈاکٹروں نے انہیں بیرون ملک علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق فوجی صدر کی والدہ شارجہ کے ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں اس لیے ان کے موکل کو اپنی والدہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ وہ اپنے موکل کے لئے کیا ریلیف چاہتے ہیں جس پر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ان کے موکل کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ مشرف کیخلاف کئی مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان میں ضمانت پر ہیں لیکن عدالت عظمی یہ نہیں جانتی کہ انہوں نے عدالتوں کو کیا یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر مشرف کو بیرون ملک جانے دیا گیا تو واپس آکر عدالتوں میں پیش ہونگے۔ عدالت نے فروغ نسیم کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہاکہ اس معاملے کو درخواست کی سماعت کے دوران دیکھا جائے گا جس کے بعد جسٹس ناصرالملک مختصر عبوری فیصلہ سنایا۔
 سپریم کورٹ/ مشرف
سپریم کورٹ/ مشرف