راولپنڈی میں تصادم‘ 100 پولیس اہلکار زخمی‘ عوامی تحریک کے 403 کارکنوں پر مقدمہ

راولپنڈی میں تصادم‘ 100 پولیس اہلکار زخمی‘ عوامی تحریک کے 403 کارکنوں پر مقدمہ

راولپنڈی + اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کو بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ اترنے کی اجازت نہ ملنے پر عوامی تحریک کے کارکن بہت بڑی تعداد میں اسلام آباد ائرپورٹ تک پہنچ گئے جبکہ فیض آباد اور کورال چوک میں مرد اور خواتین کارکن شدید نعرہ بازی کرتے رہے جہاں عوامی تحریک کے کارکن گھنٹوں سے پڑائو ڈالے ہوئے تھے پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم میں 100 سے زائد پولیس اہلکار اور کارکن زخمی ہو گئے۔ کئی اہلکاروں کے سر پھٹ گئے، کئی ہاتھ پاؤں تڑا بیٹھے، پولی کلینک میں 40، پمز میں 1 اور ڈی ایچ کیو راولپنڈی میں 27 زخمیوں کو لایا گیا۔ پنجاب حکومت نے زخمی پولیس اہلکاروں کیلئے فی کس 3 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ طاہر القادری کی آمد اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں انٹرمیڈیٹ کے تمام پرچے ملتوی کر دئیے گئے جبکہ جڑواں شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور لوگ گھروں میں محبوس ہو کر رہ گئے۔ کورال چوک اور فیض آباد میں پولیس عوامی تحریک کے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے مسلسل آنسو گیس چلاتی رہی جبکہ کئی پولیس والے کارکنوں کے ہتھے چڑھ گئے جن پر خوب ڈنڈے برسائے گئے شدید گرمی اور حبس سے کئی افراد کی حالت غیر رہی ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت بینظیر بھٹو انٹر نیشنل ائرپورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ایم کیو ایم کے قائدین رشید گوڈیل، اقبال محمد علی اور دیگر رہنمائوں کو ائرپورٹ کے اندر جانے کی اجازت نہ ملی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ائرپورٹ جانے کیلئے فیض آباد، کوری روڈ اور ڈھوک کھبہ گھومتے رہے لیکن ہر جگہ انہیں راستے میں رکاوٹیں ہی ملیں آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احمد رضا قصوری بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ائرپورٹ کی جانب جاتے دکھائی دئیے ہیلی کاپٹروں سے ائرپورٹ کی فضائی نگرانی مسلسل جاری رہی۔ بینظیر بھٹو انٹر نیشنل ائرپورٹ جانے والے تمام راستے کنٹینروں، ٹرکوں کی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کئے گئے تھے جبکہ جگہ جگہ خار دار تار بھی بچھائے گئے تھے راولپنڈی میں پولیس نے پیر ودھائی چوک، گولڑہ موڑ میں عوامی تحریک کے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی تو ان میں تصادم ہو گیا تاہم پولیس نے جلد ہی حالات پر قابو پا لیا جبکہ اسلام آباد پولیس نے بھارہ کہو، آئی ٹین، آئی نائن، فیض آباد چوک اور کورال چوک میں عوامی تحریک کے مرد اور خواتین کارکنوں کی ریلیوں کو روکنے اور منتشر کرنے کیلئے خوب آنسو گیس چلائی لیکن مشتعل مظاہرین پولیس پر جوابی پتھرائو کرنے میں مصروف رہے تھانہ لوہی بھیر کے ایس ایچ او اقبال خان، ایس ایچ او تھانہ آئی نائن قاسم نیازی، انسپکٹر ارشاد، کمک کے طور پر طلب کی گئی آزاد کشمیر پولیس کے ڈی ایس پی صغیر سمیت کئی پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے جبکہ راولپنڈی میں پولیس کے30 سے زیادہ اہلکار شدید زخمی حالت میں پمز پولی کلینک اور سول ہسپتال داخل کرا دیئے گئے ائرپورٹ پر آر پی او اختر عمر لالیکا، سی پی او ہمایوں بشیر تارڑ مسلسل موجود رہے شدید پتھرائو اور آنسو گیس کے گولوں سے کورال چوک، فیض آباد اور کوری روڈ کے علاقے دھوئیں اور گردوغبار سے اٹے رہے پیر کے روز جی ٹی روڈ، اسلام آباد ایکسپریس وے، بھارہ کہو، ترنول، موٹروے چوک، کشمیر ہائی وے بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ائرپورٹ کی قریبی آبادیوں کے مکینوں کی آمدورفت بھی بری طرح سے متاثر ہوئی قائداعظم یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی بھی بند رکھی گئی راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے پریکٹیکل منسوخ کر دیئے گئے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ بھی اس دوران عملاً بند رہا اور مسافروں کو ائرپورٹ آنے جانے کیلئے کوئی راستہ نہ مل سکا کچہری چوک راولپنڈی، مریڑ چوک میں بھی عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوا عوامی تحریک کے رہنمائوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے کئی کارکن پولیس نے گرفتار کئے ہیں ڈاکٹر طاہرالقادری کے لاہور میں لینڈ کرجانے کے باوجود عوامی تحریک کے کارکن جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج کرتی رہی جس کی وجہ سے جڑواں شہروں میں نافذ سکیورٹی ریڈ الرٹ جاری رکھا گیا۔ خیبر پی کے، آزاد کشمیر، مری اور ایبٹ آباد کی جانب سے آنے والی ٹرانسپورٹ کو مختلف مقامات پر شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں پاکستان عوامی تحریک کے ڈھائی ہزار کارکنوں کیخلاف راولپنڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ تھانہ ائر پورٹ میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت اور دیگر دفعات شامل ہیں۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے ان کے کئی کارکن پولیس نے گرفتار کر لئے ہیں جبکہ تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران اندرونی اور بیرون ملک آنے والی پروازوں کے مسافر بری طرح متاثر ہوئے۔ علاوہ ازیں عوامی تحریک کے 403 کارکنوں کے خلاف دس تھانوں میں مقدمات درج کرلئے گئے۔ پولیس کے مطابق مقدمات تھانہ آئی نائن، گولڑہ، رمنا، سبزی منڈی، شہزاد ٹائون میں درج کئے گئے۔ اسلام آباد کے 6 اور راولپنڈی کے 4 تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے۔ مقدمات میں طاہر القادری کو نامزد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کار سرکار میں مداخلت، پولیس پر حملہ، املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کے پتھرائو سے زخمی اہلکار کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
تصادم/ 100 اہلکار زخمی