نانگا پربت بیس کیمپ پر حملہ‘10 غیر ملکی کوہ پیما ‘ ایک پاکستانی گائیڈ ہلاک

نانگا پربت بیس کیمپ پر حملہ‘10 غیر ملکی کوہ پیما ‘ ایک پاکستانی گائیڈ ہلاک

گلگت /دیامر /اسلام آباد /لاہور (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں + خبرنگار + خصوصی نامہ نگار) گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں شدت پسندوں نے ایک پاکستانی گائیڈ اور 10 غیر ملکی کوہ پیماﺅں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا، ہلاک ہونے والے کوہ پیماﺅں میں سے 3 کا تعلق چین، 3 کا یوکرائن، 2 کا تعلق جمہوریہ سلواکیہ، ایک کا لتھوانیا اور ایک کا نیپال سے ہے۔ ایک چینی نژاد امریکی ہے۔ پاکستانی گائیڈ کا تعلق ضلع گانچھے سے ہے۔ واقعہ کے بعد ایف سی ناردرن ایریا نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہے۔ ڈی آئی جی گلگت علی شیر کے مطابق گذشتہ رات ایک بجے دہشت گردوں نے بیس کیمپ میں گھس کر غیرملکی کوہ پیماﺅں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ نعشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ہنگامی طور پر گلگت پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے، جلد گرفتار کرلیں گے۔ انہوں نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ رات پیش آیا۔ غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی نعشیں خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد منتقل کی گئیں۔ اس واقعہ کے بعد چترال کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ وزارت داخلہ نے غیر ملکیوں کی حفاظت کیلئے خصوصی انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ قومی اسمبلی نے غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے قتل کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی استعداد بڑھائی جائے، ان اداروں کے درمیان رابطہ کار بہتر بنایا جائے اور دھشت گردی کی اس واردات میں ملوث ملک دشمن عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان دیامر میں کوہ پیماﺅں پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت اوراس ظالمانہ فعل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ دہشت گرد پاکستان کے چین اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس بارے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے دیامر میں کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کے واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور حکومت غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ظالمانہ اور غیر انسانی فعل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کو کوہ پیماﺅں کے لئے محفوظ ملک بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے غیرملکی کوہ پیماﺅں کے قتل کے گھناﺅنے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہ حملہ پاکستان کے وقار پر کیاگیا یہ دلخراش واقعہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی گھناﺅنی سازش ہے۔ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے اور غیر ملکی کوہ پیماﺅں کو نشانہ بناکرقائدؒ اور اقبالؒ کے پاکستان کو وہ زخم لگایا گیا ہے جو ناقابل برداشت اور انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ حالیہ واقعہ میں بھارتی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔ چین اور دیگر ملکوں کے کوہ پیماﺅں کا قتل پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی مذموم سازشوں کا حصہ ہے۔ کوہ پیماﺅں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا سمیع الحق جمعیت علماءاسلام (س) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا محمد عاصم مخدوم نے گلگت میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن اور سکیرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بھی کوہ پیماﺅں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پیٹرن ان چیف بلاول بھٹو زرداری نے کوہ پیماﺅں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم جگہ سے میڈیا کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ گلگت بلتستان میں 9غیر ملکی کوہ پیماﺅں کو قتل تحریک طالبان کی ذیلی تنظیم جنودحفصہ نامی تنظیم نے کیا۔ یہ کمانڈر ولی الرحمن کے مارے جانے کا بدلہ ہے۔ اس سے پہلے غیرملکی کوہ پیماﺅں اور پاکستانی گائیڈ کے قتل کی ذمہ داری جنداللہ نے قبول کی تھی۔ جنداللہ کے ترجمان احمد مروت نے برطانوی میڈیا سے فون پر گفتگو میں کہا کہ غیرملکی ہمارے دشمن ہیں اور وہ ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رکھے جائیں گے۔ گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی خان نے کہا کہ اس واقعہ میں بیرونی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے دہشت گردی کے اس بدترین واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تفصیلی تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ خارجہ امور کیلئے وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے پاکستان میں متعین چین اور یوکرائن کے سفیروں سے ان کے سیاحوں کے قتل پر تعزیت کی۔ خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے بھی ان دونوں ملکوں کے سفیروں سے تعزیت کی۔ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بننے والے سیاحوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق گلگت بلتستان میں کوہ پیماﺅں کی ہلاکت پر افسروں کی غیر حاضری کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعینات پولیس اور انتظامی افسروں کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اعلی پولیس افسروں کو دفاتر کے قریب رہائش رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے معاملے پر 19 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد میں چار مقامی باشندے شامل ہیں۔ دیامر کے متعلقہ علاقے میں ایف سی نے متاثرہ کیمپ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ موبائل فون اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا گیا قاتل کون تھے معمہ حل نہیں ہوا۔ نانگا پربت میں قتل کئے گئے افراد کی نعشیں لینے کے لئے چلاس ہیڈ کوارٹر ائر پورٹ سے ڈپٹی کمشنر دیامر کی قیادت میں ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچی۔ ٹیم میں آرمی کمانڈو، ایف سی، پولیس اہلکار اور سول حکام سوار تھے۔ دو گھنٹے بعد یہ ٹیم واپس چلاس پہنچی نعشوں کو گلگت منتقل کیا جہاں سے سی 130 طیارے کے ذریعے نعشوں کو پہلے چکلالہ ائر بیس راولپنڈی اور وہاں سے پمز ہسپتال اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ ہلاک ہونیوالے 10 غیر ملکی کوہ پیماﺅں پاکستانی گائیڈ کی شناخت ہو گئی ہے۔ دو سیاحوں کا تعلق جمہوریہ سلواکیہ، ایک کا تعلق لیتھوانیا سے ہے جبکہ ایک چینی نژاد امریکی سیاح بھی شامل ہے۔ ایک سیاح کا تعلق نیپال سے ہے۔ پاکستانی گائیڈ علی حسین کا تعلق بلتستان کے ضلع گانچھے سے ہے۔ دیمتری، کشیوبدوی، اواگوروراکین کا تعلق یوکرائن سے ہے۔ اینٹن اور پٹرسپر کا تعلق سلواکیہ سے، ارسنٹس کا تعلق لیتھوانیا سے ہے۔ ینگ جن کا تعلق ہانگ کانگ، جیب راﺅجن کا چین سے ہے۔ ہانگ لوچن چینی نژاد امریکی شہری تھے، سونا کا تعلق نیپال سے ہے۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نیٹ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کو مطلع کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے قتل کے بعد وزیراعظم کے احکامات پر گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو فوری معطل کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے دو گائیڈوں کو اغوا کرکے ان کے ذریعے نانگا پربت کے بیس کیمپ میں قائم ان سیاحوں کی جائے قیام تک رسائی حاصل کی۔ ان میں سے ایک گائیڈ مارا گیا ہے جبکہ دوسرا فورسز کی تحویل میں جس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ایک چینی زندہ بچ گیا ہے جسے وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ معطل چیف سیکرٹری اور آئی جی کے خلاف تحقیقات کی جائے گی اور کارروائی ہو گی۔ وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے مذکورہ واقعہ پر قومی اسمبلی کو دو بار اعتماد میں لیا۔ پہلی بار وہ ابتدائی معلومات لے کر آئے جب کہ دوسری بار انہوں نے اس واردات کی مکمل تفصیلات ایوان میں پیش کیں اور ارکان کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا یہ سیاحوں پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ ہے۔ سب سے پہلے فوج جائے وقوع پر پہنچی، میتیں نکالنے، ابتدائی چھان بین اور دیگر امور میں سب سے پہلے فوج نے ہی مدد فراہم کی۔ آرمی ایوی ایشن کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر استعمال کئے گئے۔ آرمی چیف واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ پالیسی وہی ہو گی جو حکومت بنائے گی اور اسی پالیسی کی پیروی کی جائے گی۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی باتوں کو مخصوص رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ میری لڑائی کرانا چاہتے ہیں۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ احتیاط کی جائے میں نے سندھ حکومت کو کوئی الٹی میٹم نہیں دیا تھا، میں نے فوج کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جو کچھ کہتا ہوں اس کے پیچھے خلوص نیت کارفرما ہوتا ہے۔ جزا اور سزا کے قائل ہیں۔ مرنے والے غیرملکی کوہ پیماﺅں کو پورے اعزاز کے ساتھ ان کے ملکوں کو روانہ کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات چینی سیاحوں کی نعشیں لے کر چین جائیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کو بھی اس سفر میں شمولیت کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کڑی محنت کر رہے ہیں لیکن بارہ سال میں پیدا کردہ مسائل حل کرنے کے لئے انہیں کچھ وقت تو دیا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس عرصے میں ادارے کھوکھلے کردئیے گئے ہیں حتیٰ کہ پارلیمنٹ بھی نشانہ بن سکتی ہے اسی لئے سخت اقدامات کرتے ہوئے طے کر لیا ہے کہ پیر کی صبح دس بجے سے پارلیمنٹ لاجز میں بھی کسی رکن کا کوئی گن مین داخل نہیں ہو سکتا۔ تمام بندوبست میں فوج سمیت تمام سکیورٹی اداروں نے بھرپور مدد فراہم کی ہے۔ فوج سے بھی نیشنل سکیورٹی پالیسی پر بات جاری ہے۔ پالیسی کی تفصیلات وزیراعظم کو پیش کرکے ایوان میں لائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ انہیں کسی سے لڑانا چاہتے ہیں لیکن وہ کیوں کسی سے لڑائی کریں۔ رابطوں اور ذمہ داری کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ فوج، پولیس اور سول آرمڈ والے سب ہی اس سرزمین کے بہادر بیٹے ہیں۔ دہشت گردی کی مذکورہ واردات پر کچھ سفیروں سے بات کر چکا ہوں کچھ سے بات کرنی ہے، ایسے واقعات کا مقصد دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا ہے۔ دہشت گردی کی واردات کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نانگا پربت کے دامن میں واقع ایک نالہ کے کنارے رات ایک بجے سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس شدت پسندوں نے کوہ پیماﺅں پر حملہ کیا اس سے پہلے بھی فوجی وردیوں میں دہشت گردی کی وارداتیں کی ہیں۔ اب کوئی فوجی بھی ریڈزون میں چیکنگ کے بعد داخل ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واقعہ کے بعد ذمہ داروں کو غفلت کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تو کوئی ایسی روایت نہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کے حوالے سے ارکان کے جذبات کی تعریف کی اور کہا کہ ان کے اندر پاکستانیت بول رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے چینی سفیر سے اس واردات پر افسوس کا اظہار کیا، چینی سفیر نے استفسار کیا کہ ٹارگٹ کون تھا، انہیں بتایا کہ ہدف پاکستان تھا اور واردات کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو سیاحوں کیلئے غیر محفوظ ملک ظاہر کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری سے رابطہ کی کوشش پر علم ہوا کہ نہ صرف وہ اب بھی اسلام آباد میں موجود ہیں بلکہ اکثر ان کا قیام یہیں ہوتا ہے۔ متعدد دیگر افسروں کا بھی یہی طرز عمل ہے۔ یوکرائن اور روس کے سفیر سے بھی بات کرینگے۔ وزارت کا چارج سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ کی سکیورٹی کا جائزہ لینے پر علم ہوا کہ پارلیمنٹ سب سے آسان ہدف ہے۔ پارلیمنٹ کا تحفظ موثر بنانے کی ہدایت جاری کی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے بعد وزیراعظم پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کے قائدین کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ کی ڈیوٹی پر تعینات چھتیس رینجرز واپس کرکے مثال قائم کی ہے۔ صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس کے علاوہ سب سے رینجرز واپس لے لئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق چودھری نثار نے سکیورٹی اداروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود سے کام نہیں کرتے اور جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو تب حرکت میں آتے ہیں۔ دریں اثنا قومی اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومتی ارکان نے گلگت بلتستان میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کے قتل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں کمی لانے کےلئے سکیورٹی پالیسی کو جلد حتمی شکیل دی جائے ¾ امریکہ نے افغانستان سے آئندہ سال نکل جانا ہے ¾ حکومت کو اپنی سکیورٹی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی، اسلام آباد قید خانہ بن چکا ہے ¾ حکومت واضح پیغام دے دہشت گردوں کیخلاف کسی قیمت پر نہیں جھکیں گے ¾ وزیراعظم چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹیز کانفرنس طلب کر کے دہشتگردی کیخلاف قومی پالیسی وضع کریں ¾ اپنی جانوں کے تحفظ کےلئے قوم لوڈشیڈنگ اور اندھیرے برداشت کر لے گی۔ نکتہ اعتراض پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے خطاب کو سراہتے ہوئے کہاکہ دہشتگرد دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں، بیرون دنیا کے لوگوں کے مطابق پاکستان محفوظ نہیں اور سرمایہ کاری دوسرے ممالک میں منتقل کررہے ہیں خورشید شاہ نے گلگت واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شمالی علاقوں میں غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں جاتے ہیں ایسے واقعات کو مل کر روکا جا سکتا ہے ہمیں جنگی بنیادوں پر اس پر کام کرنا ہو گا جو ذمہ داران غیر ملکی سیاحوں کو تحفظ نہیں دیتے تو یہ ضروی ہے کہ ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ واقعہ پر سیاست کرینگے تو یہ اپنے اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔ خورشید شاہ نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہونا چاہئے، حکومت نئی ہے ابتدائی4 ماہ کوئی ٹف ٹائم نہیں دینگے گائیڈ لائن دینگے، عمل نہ ہوا تو پھر آواز اٹھائیں گے۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ منسٹر انکلیو بھی آسان ہدف ہے، کوئی بھی آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے گلگت میں ہلاک ہونے والے سیاحوں کے اہل خانہ اور ممالک کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوہ پیماﺅں کو نشانہ بنایا جائےگا ¾ مسئلے سے نکلنے کیلئے ہمیں اپنا طریقہ کار اور طرز حکمرانی تبدیل کرنا پڑے گا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے جو بات ایوان میں کی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ اداروں کو اب آنکھیں کھولنی چاہئیں، میری ان باتوں کو ہرزہ سرائی قرار دیا گیا، اسلام آباد قید خانہ بن گیا ہے، اپوزیشن اور حکومت مل کر ایک قرارداد کا مسودہ تیار کر کے متاثرہ ممالک کو یہ پیغام دے کہ ہم ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ہم دہشت گردوں کیخلاف کسی قیمت پر نہیں جھکیں گے۔ ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کے سانحہ کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کی پوری قوم کی طرح سخت مذمت کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن اقبال محمد علی خان نے کوہ پیماﺅں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی اس واقعہ سے بدنامی ہوئی ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان محنت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی راستہ نکلنا چاہیے ہم وزیر داخلہ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں تاہم جب تک اس کیلئے میکانزم نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک ہر کوشش ناکام ثابت ہو گی۔ مسلم لیگ (ضیائ) کے سربراہ محمد اعجاز الحق نے کوہ پیماﺅں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے کھلے انداز میں بہت سی باتوں کا اعتراف کیا ہے ¾کے ٹو بیس کیمپ کا پرامن علاقہ تھا ہمیں ایسے مقامات کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں سے یہ سلسلہ شروع ہے۔ خیبرپی کے سمیت پورا ملک اس صورتحال سے دوچار ہے، اگر ہم نے اس جنگ سے خود کو الگ نہ کیا تو ملک میں کبھی امن نہیں آئے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ 6 غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی میتوں کی شناخت نہیں ہو سکی دو چینی، ایک نیپالی اور ایک چینی نژاد امریکی شہری کی شناخت ہو چکی ہے۔ وفاقی وزراءکوہ پیماﺅں کی میتوں کے ساتھ ان کے وطن جائیں گے۔ یوکرائن اور چین کے سفیروں سے اظہار افسوس کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ورثاء کو ہرممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں پاک آرمی کے جوانوں نے بہت کم وقت میں علاقوں سے نعشیں نکالیں، چلاس میں ہونے والا حملہ پاکستان پر حملہ ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے چین اور یوکرائن کو یقین دلایا ہے کہ سانحہ نانگا پربت کے ذمہ دار دہشت گردوں کو ہر قیمت پر گرفتار کر کے عبرتناک سزائیں دی جائیں گی‘ یہ واقعہ دوست ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش ہے‘ وزیر داخلہ نے سانحہ نانگا پربت پر تعزیت کیلئے پاکستان میں چین اور یوکرائن کے سفیروں سے ٹیلی فون کر کے دہشت گردی کے واقعہ میں چینی اور یوکرائن کے شہریوں کی ہلاکت پر حکومت پاکستان کی طرف سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ چودھری نثار نے غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی نعشیں چین اور یوکرائن کے سفیروں کے ساتھ وصول کیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد ان کوہ پیماﺅں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی سفری دستاویزات ساتھ لے گئے۔ 6 کی شناخت نہیں ہوئی۔ ملزموں کا جلد سراغ لگا لیں گے۔