دوحہ ‘ پولیس نے طالبان کے دفمر سے جھڈے والا پول ہٹا دیا

دوحہ ‘ پولیس نے طالبان کے دفمر سے جھڈے والا پول ہٹا دیا

کابل/ دوحہ (رائٹرز+ اے ایف پی) دوحہ میں پولیس نے طالبان کے دفتر سے ان کے جھنڈے والا پول ہٹا دیا ہے۔ یہ بات یہاں ایک اہلکار نے بتائی ہے۔ افغان حکومت نے طالبان سے براہ راست مذاکرات پر امریکہ سے وضاحت طلب کر لی اور کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے جو اصول اور شرائط طے کئے گئے ہیں ان کے حوالے سے افغان حکومت کو آگاہ کیا جائے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسازئی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کے براہ راست مذاکرات پر ہمیں شدید قسم کے تخفظات ہیں۔ ہم ان مذاکرات کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ ہم امن مذاکرات کے حامی ہیں مگر افغان حکومت کے بغیر مذاکرات قابل قبول نہیں۔ افغان حکومت نے امریکی ایلچی برائے افغانستان اور پاکستان کا قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچنے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان متنازعہ مذاکرات کو روکنے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ وضاحت کی جائے کہ کس بنیاد پر اور کن کن اصولوں پر طالبان جنگجوﺅں سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے وضاحت کی بدستور منتظر ہے کہ طالبان کو قطر میں اپنا دفتر کھولنے اور اسے سفارتخانے کا درجہ دے کر وہاں اپنا جھنڈا لہرانے کی اجازت کیسے دی گئی ہے تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تحفظات کے باوجود حکومت مذاکرات کیلئے وفد بھیجے گی۔ اس سے قبل افغان طالبان نے واضح کیا تھا کہ دوحہ میں طالبان آفس پر اسلامی امارات کا نام لکھنے اور اس پر اپنا پرچم لہرانے کے حوالے سے قطر حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا جو ان کے پاس موجود ہے۔ دوحہ میں طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی تردید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان نے دوحہ آفس کے قیام کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا نہ ہی ایسے کسی معاہدے کا کوئی وجود ہے۔ دفتر کے قیام کے حوالے سے طالبان اور قطر حکومت کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ ہوا تھا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے امریکہ اور افغانستان حکومت کے ساتھ قطر مذاکرات منسوخ کرنے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے مذاکرات منسوخ کرنے کی ایسی کوئی دھمکی نہیں دی۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں ”نام بتائے بغیر طالبان عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ طالبان قطر میں قائم دفتر کا نشان اور جھنڈا قائم رکھنے پر مصر ہیں اور اس نے کابل کو سیخ پا کر دیا ہے“ حالانکہ نیویارک ٹائمز میں طالبان کی نمائندگی کرنیوالا ہماری تحریک کا نمائندہ نہیں، طالبان کا اپنا ترجمان ہے جو میڈیا کو معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی اور شخص میڈیا کو معلومات دیتا ہے تو وہ طالبان کا ترجمان نہیں، عرصہ سے ہمارے دشمن طالبان ترجمان بن کر اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے ایسے بیانات دیتے آئے ہیں۔