بلوچستان اسمبلی :20 ارب سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور‘ اپوزیشن کا بائیکاٹ ‘ منانے پر ختم

بلوچستان اسمبلی :20 ارب سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور‘ اپوزیشن کا بائیکاٹ ‘ منانے پر ختم

 کوئٹہ (بیورو رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) پر مشتمل حزب اختلاف کی جانب سے پہلے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تاہم حکومتی اراکین کے منانے پر بائیکاٹ ختم کر دیا گیا۔ بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے 20 ارب 58 کروڑ 30 لاکھ روپے کے ضمنی مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جنہیں اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اسکے بعد بجٹ پر بحث کا آغاز ہوا تو قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے، اس مد میں بجٹ میں 16 ارب روپے مختص کرنا کم ہے۔ بعد میں قائد حزب اختلاف نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور دیگر اپوزیشن اراکین کے ہمراہ اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا سابقہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت آج حکومت 198ارب روپے کا بجٹ پیش کر رہی ہیں کیونکہ ہم نے وفاق سے لڑ کر این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے یہ رقم وصول کی تھی اور ہم نے بلوچستان کے ساحل وسائل کا تحفظ کیا ہے۔ ہم نے بلوچستان کے بچوں اور عوام کے خزانے کو محفوظ رکھا ہم مثبت اور تعمیری اپوزیشن کا کرادر ادا کریں گے۔ جب تک وفاق بلوچستان کے حقوق نہیںدیتا اس وقت تک بلوچستان کا مسئلہ حل نہیںہو سکتا۔ نواز شریف خود زخموں پر مرہم رکھنے کی بات کرتے ہیں لیکن وفاق آج بھی سابقہ رویئے پر قائم ہے اگر معاملات کو بہتر بنانا ہے تو بلوچستان کے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ بائیکاٹ کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی کی ہدایت پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماءصوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال، نیشنل پارٹی کے رہنما صوبائی وزیر نواب محمدخان شاہوانی، شیخ جعفرخان مندوخیل، سید محمد رضا اپوزیشن کے رہنماﺅں کو منا کر واپس لے آئے۔ بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے بجٹ کو متوازن اور غریب دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف بلوچستان کی محرومی و پسماندگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔ منظور کاکڑ نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم کےلئے بجٹ دو فیصد سے بڑھا کر 23فیصد کردیا ہے جو تعلیم دوستی کا ثبوت ہے۔ میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ بجٹ پر کسی قسم کی بھی تنقید کا جواز نہیں۔ میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ تعلیم کےلئے بجٹ میں اضافہ خوش آئند ہے۔ رکن اسمبلی رحمت بلوچ نے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی واقعہ کی مذمت کی۔ کشور احمد نے بھی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ترتیب دیاگیا، اپوزیشن کی تنقید برائے تعمیر کو مثبت لے کر اپنی اصلاح کریں گے، اپوزیشن ارکان کا بائیکاٹ ختم کرکے ایوان میں آنا خوش آئند ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے جس چیز کی نشاندہی کی گئی اس پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بجٹ اجلاس کے دوران سپیکر کی توجہ سیکرٹریز کی ایوان میں غیر موجودگی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تمام محکموں کے سیکرٹریز کی موجودگی ضروری ہے اس کا نوٹس لیں۔ سپیکر نے کہا کہ چیف سیکرٹری سمیت تمام محکموں کے سیکرٹریز کی موجودگی ضروری ہے آئندہ تمام سیکرٹریز اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔