آئی ایم ایف کی شرائط قبول نہ ہوئیں تو خدا حافظ کہہ دیں گے: اسحق ڈار‘ قومی اسمبلی میں 69 مطالبا زر منظور‘ کٹوتی کی 526 تحریکیں مسترد

آئی ایم ایف کی شرائط قبول نہ ہوئیں تو خدا حافظ کہہ دیں گے: اسحق ڈار‘ قومی اسمبلی میں 69 مطالبا زر منظور‘ کٹوتی کی 526 تحریکیں مسترد

اسلام آباد (خبرنگار+نوائے وقت رپورٹ) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 12اگست تک تمام گردشی قرضے ختم کر دیں گے، آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر بات کریں گے آئی ایم ایف سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے آئی ایم ایف نے بات نہ مانی تو کہوں گا کہ اپنا پروگرام اپنے پاس رکھو، آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا ہمارا حق ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کسی قسم کی ڈکٹیشن نہیں لینگے۔ ضرورت کی بنیادی اشیا پر جی ایس ٹی میں اضافہ نہیں کیا، گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے 30 جون تک نجی سیکٹر کو 370 ارب روپے ادا کر دیں گے، گردشی قرضوں کا حجم 508 ارب روپے ہے ڈالر کی قیمت سے ایک ارب روپے سے 67 ارب کا نقصان ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بات نہ مانی تو واپس آجاﺅں گا ہم پہلے اللہ کو جوابدہ ہیں اس کے بعد عوام اور پارلیمنٹ کو ہیں، آئی ایم ایف سے جو معاہدہ ہوگا وہ وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر ہوگا۔ فنانس بل میں ترمیم کی ہے 25 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں پر اضافی ٹیکس نہیں لگے گا سپریم کورٹ کا صوابدیدی فنڈ ختم نہیں کر سکتے صوابدیدی فنڈ ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی رواں سال سٹیٹ بنک سے کوئی قرضہ نہیں لیں گے آئندہ سال بجٹ خسارہ 8.8 سے کم کرکے 6.3 فیصد کرنے کا ہدف رکھا ہے وزارتوں میں اخراجات کی کمی سے 40 ارب روپے کی بچت ہوگی جی ایس ٹی عارضی طور پر معطل کیا ہے فنانس بل منظور ہوتے ہی یکم جولائی سے نیا جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔ جی ایس ٹی دال، چینی پر نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ حکومت نے سکول، کالج اور یونیورسٹیز پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جس طالب علم کی فیس دو لاکھ ہے اس پر ٹیکس بڑھایا ہے۔ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح محض فوٹو سیشن تھا۔31 مئی تک سرکلر ڈیٹ کا حجم 508 ارب روپے تھا جس میں اب اضافہ ہوگیا ہے، سرکلر ڈیٹ کی وجہ جہاں سبسڈی ہے وہاں بجلی چوری اور لائن لاسس، بنک انٹرسٹ اور بجلی کے نادہندگان بھی ہیں۔ ہم چاہتے تو اور نوٹ چھاپ کر کام چلا لیتے مگر جس طرح پہلے ملک تباہ ہوا ہے اس میں اور اضافہ ہو جاتا، ہم مضبوط بنیادوں پر معیشت بحال کرنا چاہتے ہیں۔ رمضان سے قبل 556 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ختم کردیں گے، ہم موت کے کنویں کے اندر کھڑے ہیں، جو غلطیاں ہوئیں انہیں بھلا کر ہم نے آگے چلنا ہے۔سیلز ٹیکس کی کٹوتی بند ہونے سے ملک کو 4 سے 5 ارب روپے کا نقصان ہوا ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط قبول نہ ہوئیں تو انہیں خدا حافظ کہہ دیں گے۔ ملک ساڑھے 14 ارب کا مقروض ہے پاکستان کو بچانے کا وقت ہے، دودھ، فروٹ، سبزی، آٹا، دالوں اور کھانے پینے کی متعدد اشیا پر ٹیکس نہیں لگایا، انہوں نے ایوان میں ایسی اشیاءکی فہرست پڑھ کر سنائی جن پر ٹیکس نہیں لگایا گیا، انہوں نے قومی اسمبلی کے ارکان سے استدعا کی کہ وہ جہاں دیکھیں کہ کسی نے غیر قانونی قیمتیں بڑھائی ہیں وہاں ایسے لوگوں کا گریبان پکڑیں۔ میرا دل بھی غریبوں کے لئے دھڑکتا ہے، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت ایک سو روپے تک پہنچ چکی ہے مگر یہ ہمارا کام نہیں، یہ انہی کا کیا دھرا ہے جو باہر سے ڈکٹیشن لے کر حکومت میں آئے اور کام مکمل کرکے چلے گئے، گزشتہ حکومت کو ہمارا شکرگزار ہونا چاہئے جو قرضے لے کر کھا گئے اور اب ہمیں اتارنے پڑ رہے ہیں۔ ہم اجازت نہیں دیں گے کہ ملکی معیشت اور اس کے اثاثوں کے ساتھ کوئی کھیلے، پاکستان کی عزت و احترام اس بات کی متقاضی ہے کہ قرضے واپس کئے جائیں۔ ہم آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ کریں گے کسی سے نہیں چھپائیں گے بلکہ نہ صرف اس ایوان کے سامنے رکھیں گے ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کریں گے، ہمیں اس بات میں شرمانے کی ضرورت نہیں جو کھا گئے ہیں انہیں شرمانہ چاہئے، وزیراعظم نے اپنے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیئے ہیں، وزارت خزانہ میں بھی صوابدیدی فنڈز کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ میں نے اپنی تمام تنخواہ داتا دربار کے لئے مختص کر دی ہے جہاں ایک سو سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں، وزارتوں کے اخراجات کے 40 فیصد کی کٹوتی سے 30 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ میں جتنی مرتبہ کابینہ میں رہا صوابدیدی فنڈز نہیں لئے بلکہ سینٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنی تنخواہ حضرت داتا گنج بخش ہجویری کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی ہے، اتوار کو قومی اسمبلی اجلاس میں کٹوتی کی تحاریک پر اختتامی تقریر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ میں جتنی مرتبہ بھی کابینہ کا ممبر رہا میں نے کبھی بھی صوابدیدی فنڈز استعمال نہیں کیا اور نہ ہی لیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سینٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنا صوابدیدی فنڈ واپس کیا اور اپنی تنخواہ حضرت داتا علی ہجویری کے اکاﺅنٹس میں ہر مہینے جمع کراتا ہوں۔
اسلام آباد (و قائع نگار خصوصی+ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں خزانہ، اقتصادی امور، تجارت، ٹیکسٹائل، کابینہ، کابینہ ڈویژن اور ان کے ذیلی اداروں کے آئندہ مالی سال کے 69 مطالبات زر کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے اور اپوزیشن کی 526 کٹوتی کی تحریکوں کو مسترد کردیا گیا۔ اپوزیشن نے کٹوتی کی 526 تحریکیں پیش کیں، جو مسترد کر دی گئیں‘ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکوں پر انچارج وزیر شیخ آفتاب نے کہا 2013-14ءکا بجٹ جلدی میں بنایا گیا۔ وزیر خزانہ انتہائی قابل شخص ہیں اپوزیشن کی بہتر تجاویز کو شامل کرنے اور بجٹ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام آباد میں 424 سکول اور کالجز ہیں جن کا معیار بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ بورڈ آف انوسٹمنٹ کے ذریعے ملک میں 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جو ماضی سے 72 فیصد زیادہ ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے کیبنٹ و سیکرٹریٹ کے 19مطالبات زر میں کٹوتی کی 115تحریکیں پیش کی گئیں جو کیبنٹ سیکرٹریٹ اور اس کے ماتحت ادارون کے 30 جون 2014 تک کے اخراجات میں کمی کرنے کے حوالے سے تھیں۔ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کٹوتی کی تمام تحریکوں پر رائے شماری کرائی جس کے نتیجے میں ایوان کی اکثریت نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئیں کٹوتی کی کل 526 تحریکیں مسترد کردی۔ قبل اس کے کٹوتی کی تحریکوں پر بحث کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کیبنٹ سیکرٹریٹ میں 13 محکمے آتے ہیں جبکہ و زیر اعظم آفس بھی اس میں آتا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کان کنی اور ثقافتی امور کے لئے 54 کروڑ سے زائد رقم طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ماضی میں بھی سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ سی ڈی اے کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ تعلیم و صحت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ایمرجنسی ریلیف کے لئے قومی کمیشن بنایا جائے۔ متاثرین اسلام آباد کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کر کے اسے نیشنل انکم سپورٹ پروگرام کا نام دینا قابل افسوس ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بین الاقوامی شہرت یافتہ رہنما تھیں انہوں نے اپنی زندگی جمہوریت کے لئے وقف کی۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ کیبنٹ سیکرٹریٹ کو ایسے تمام ادارے دئیے گئے جن کو 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیا جا نا تھا۔ کٹوتی کی تحریکوں پر ارکان اسمبلی شیخ صلاح الدین‘ رائے حسن نواز‘ عبدالرحیم مندوخیل اور سیدہ عائشہ نے بھی بحث کی۔ کیبنٹ سیکرٹریٹ کے انچارج وزیر شیخ آفتاب احمد نے کٹوتی کی تحریکوں پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2013-14ءکا بجٹ کم وقت کی وجہ سے جلدی میں بنایا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ انتہائی قابل شخص ہیں جبکہ اپوزیشن کی بہتر تجاویز کو شامل کرنے اور بجٹ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ اور پی ایم آفس کا درجہ دے کر اخراجات میں 45 فیصد بچت کی۔ انسپکشن ٹیم ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے کر وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے۔ سرمایہ کاری بورڈ کے ذریعے 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جو کہ 72 فیصد اضافہ ہے۔ اسلام آباد میں 424 سکولوں و کالج ہیں جن کا معیار بین الاقوامی سطح کے برابر لانے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نے فنانس بل 2013-14 میں گیارہ ترامیم قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہیں۔ ترامیم جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، صاحبزادہ محمد یعقوب، شیر اکبر خان اور خاتون ممبر عائشہ سید نے جمع کرائی ہیں۔ مطالبات زر میں کٹوتی کی تحریکیں پیش کرانے اور مطالبات زر پر رائے شمار کے دوران ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی باربار غلطیاں کرتے رہے ، وزارت خزانہ کی جانب سے ڈیمانڈ نمبر40کی منظوری کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج ، قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، ایوان نے مذکورہ ڈیمانڈ کثرت رائے سے مسترد کر دی تھی دوبارہ ایوان میں پیش کرنے کی بجائے اراکین کو الگ الگ لابیوں میں بھیج کر گنتی کرنی چاہیے تھی ، تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے نکتہ اعتراض پر کٹوتی کی تحریکوں پر گنتی کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی۔