”امن کی آشا“ مسئلہ کشمیر پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے : شبیر شاہ

لاہور (سلمان غنی) جدوجہد آزادی کشمیر کے رہنماءاور جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر شاہ نے امن کی آشا نامی مہم کو کشمیریوں کی قربانیوں کی تاریخ اور خود مسئلہ کشمیر پر اثرانداز ہونے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خوبصورت نام کے پیچھے سرگرم بھیانک عزائم اور مکروہ ذہن کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو ایک طرف اکھنڈ بھارت کیلئے سرگرم ہے تو دوسری جانب بھارت کی علاقائی بالادستی اور پاکستان کو غیرمستحکم اور کمزور کرکے زیردام لانے کیلئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے نوائے وقت سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے مزید کہا کہ امن کا کون خواہاں نہیں ہوگا بلکہ جس امن کا قیام محکوم قوموں کے جذبات کو کچلنا اور بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل ہو‘ اس پر امن تو نہےں بلکہ امن کی آشا توہین ہے‘ اسے جنگ کی بھاشا قرار دیا جاسکتا ہے۔ شبیر شاہ نے کہا کہ یہ مہم دراصل آنیوالی علاقائی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر چلائی جا رہی ہے کیونکہ کشمیریوں کے اندر جاری تحریک اور قربانیوں کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا بلکہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے آزادی کیلئے تمام سرگرم جماعتیں اور گروپس آل جموں و کشمیر حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر نئے جذبہ اور ولولہ سے دوبارہ میدان گرم کرنیوالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کا دارومدار صرف اور صرف مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل سے مشروط ہے اور جب تک ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت نہیں دیتا‘ یہ امن خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں بن سکتی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک خطہ کے عوام تقریباً ایک لاکھ افراد کی قربانی‘ اپنی ماﺅں بہنوں بیٹیوں کی عزتوں کی نیلامی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہو اور وہ آزادی کیلئے خاموشی اختیار کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ 21 ویں صدی ہے اور بھارت انجانے خوف کا شکار ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کی تحریکوں کو ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی کشمیر اور کشمیریوں کے حوالہ سے ہٹ دھرمی ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ طاقت کے نشے میں مدہوش اپنی علاقائی بالادستی اور اپنے بین الاقوامی کردار کیلئے سرگرم ہے لیکن جب تک بھارت اندرونی طور پر اقلیتوں پر ظلم و ستم اور آزادی کی تحریکوں خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرتا‘ یہ کردار ایک خواب ہی رہیگا۔ شبیر شاہ نے مزید کہا کہ امن کے راگ الاپنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جن کے طرزعمل اور اقدامات انتہاپسندانہ اور جن کا کردار فاشسٹ ہو‘ وہ امن کو جنگ کے ذریعے تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی عنصر اور جو بھی گروپ امن کی آشا نامی مہم چلا رہا ہے‘ وہ برصغیر کی تاریخ سے ناواقف ہے۔ اسے علاقائی صورتحال کا علم نہیں۔ اس طرح کی سپانسپرڈ مہمات سے کسی کے مالی مسائل تو حل ہوسکتے ہیں لیکن غیرحقیقت پسندانہ طرزعمل مسائل کے حل میں معاون نہیں بن سکتا۔ شبیر شاہ نے حال ہی میں پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالہ سے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ پاکستان کیلئے کور حیثیت نہیں ہوگا‘ یہ خود تقسیم ہند کے اصولوں کی نفی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں پر فخر ہے کہ انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہاں ہمیشہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ اور ”کشمیری مجاہدو بڑھے چلو“ کے نعرے سنائی دیتے ہیں اور ہمارے جذبے اور ولولے کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو یہ خام خیالی ہے کہ کشمیری تھک چکے ہیں‘ جدوجہد سے اکتا چکے ہیں تو یہ انکی خام خیالی ہے اور یہ خام خیالی جلد دور ہوجائیگی۔ ہم دنیا کا امتحان لے رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اپنے مقاصد کیلئے دنیا پر چڑھ دوڑنے والے کشمیر کے سلگتے مسئلے پر کب ہوش میں آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بنی الاقوامی امن ایشیا میں استحکام‘ دراصل کشمیر کے خطہ سے وابستہ ہے۔ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے اور ہندوستان ہوش کے ناخن لے ورنہ قربانیوں کی تاریخ رقم کرنیوالے کشمیری کسی کی امن کی آشا کے آگے سرنڈر کرنے کی بجائے جدوجہد اور جہاد کا عَلم اٹھائے آگے بڑھیں گے تو پھر بھارت کی فوج اور اسکے اتحادی ہمارا راستہ نہیں روک سکیں گے اور خود بھارت کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا۔