قومی یکجہتی کیلئے میڈیا کو مزید بہتر انداز میں کام کرنا ہوگا : حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام سیمینار

لاہور(کلچرل رپورٹر)قائداعظمؒ نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا مگر ہم اسکی حفاظت نہیں کرسکے،مشرقی پاکستان الگ ہوگیا،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں حالات اچھے نہیں ہیں،قومی یکجہتی کیلئے میڈیا کو مزید بہتر انداز میں کردارادا کرنا ہوگاان خیالات کا اظہارمقررین نے حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام ”میڈیا اور قومی یکجہتی کے تقاضے“ کے موضوع پر سیمینار میں کیا،صدارت سابق وفاقی وزیر سیدہ عابد حسین نے کی،مہمان خصوصی معروف صحافی کالم نگار /اینکر پرسن سہیل وڑائچ تھے مقررین میں رکن صوبائی اسمبلی آمنہ الفت،ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت سعید آسی،ممتاز صحافی اور شاعر ڈاکٹر کنول فیروز،سیاسی تجزیہ نگار،سلمان عابد تھے،نظامت کے فرائض ڈائریکٹر حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان ابصارعبدالعلی نے انجام دئیے۔سیدہ عابدہ حسین نے کہا پاکستان کے حالات خراب ہونے کی وجہ نا اہل لوگوں کو اہل لوگوں پرترجیح دینا ہے،ہمیں پاکستان کو بھارت سے بہترممالک بنانا ہے میڈیا کا کردار بہت اچھا ہے اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، میڈیا کو کسی بھی واقعہ کے پیچھے محرکات تلاش کرنے چاہئیں سہیل وڑائچ نے کہا آزاد میڈیا نے بے شمار تضادات کے باوجود امریکہ کو متحد رکھنے میں اہم کردارادا کیا ہے،آزاد میڈیا وہ ہوتا ہے جو سچ کو بنیاد بنائے،پاکستان میں میڈیا پابندیوں کا شکار رہا ہے،سنسر اور ایڈوائس زیادہ آزادی کم رہی ہے،فوجی آمریتوں اور نوکر شاہی کی سازشوں کا شکاررہنے والے پاکستان میں اپنے شہریوں اور میڈیا سے ہمیشہ ایک ہی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ قومی مفاد سب سے اہم ہے اور اہم ہونا بھی چاہیے لیکن آمریتوں کا قومی مفاد سے مطلب سچ کو چھپانا اور جھوٹ بولنا ہوتا ہے۔62سالہ تاریخ میں جھوٹ بولا جاتا رہا ہے۔سعید آسی نے کہا ہم 62سال سے قومی یکجہتی تلاش کررہے جو مل نہیں رہی سیاسی قائدین نے بھی اپنے کردار ادا نہیں کیا۔سیاسی قائدین نے قائداعظمؒ کے ملک کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اگر میڈیا اپنا کردارادا نہ کرتا تو چند سال پہلے آمریت کے چنگل سے آزاد عدلیہ کو نہ چھڑایاسکتے۔عوام کے مسائل میڈیا میں سامنے لاتا ہے۔ہر دور میں میڈیا پر پابندی لگیں، آمنہ الفت نے کہا میڈیا کی بدولت کم سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ بھی عقل و دانش کی باتیں کرنے لگے ہیں میڈیا کو عوام کی سمت کرنی چاہیے، بلوچستان کے مسئلہ پر میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے سلمان عابد نے کہاکہ آج پاکستان کی سیاست اور حکومت بحران سے گزر رہی ہے یہاں قومی یکجہتی کا فقدان ہے۔حکمرانوں نے لوگوں کو تقسیم کیا ایک نہیں کیا۔کنول فیروز نے کہا وطن عزیز میں قومیت کو مذطلب کی زنجیروں سے آزاد کر کے رسول کریم کے میثاق مدینہ اور قائداعظم کے نظریہ پاکستان کے مطابق ڈھالنے کی تحریک شروع کی جائے اسی صورت میں قومی یکجہتی کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں۔ڈائریکٹر حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان ابصارعبدالعلی نے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ صحافیوں اور صحافت کے طالب علموں کو صحافت میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کیاجائے۔آج کا موضوع ”میڈیا اور قومی یکجہتی کے تقاضے“ ہے اس موضوع پر مقررین نے بہت مفید باتیں کی ہیں جو یقیناً شعبہ صحافت کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہیں۔