ثبوت موجود ہیں‘ ایمل کانسی نے گرفتاری سے پہلے چوٹی میں فاروق لغاری کے بیٹے سے ملاقات کی : ذوالفقار کھوسہ

لاہور (خبر نگار خصوصی) وزیراعلیٰ کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ نے ایمل کانسی کے حوالہ سے سردار فاروق لغاری کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ایمل کانسی نے گرفتاری سے پہلے چوٹی میں سردار فاروق لغاری کے صاحبزادے سے ملاقات کی‘ پھر انہیں ڈیرہ غازیخان کے ایک ہوٹل میں لایا گیا اور پھر روانہ کیا گیا لہٰذا نوازشریف پر الزام لگانے والے سردار فاروق لغاری یہ بھی بتائیں کہ ایمل کانسی کی گرفتاری پر مختص ڈالر کس نے وصول کئے ورنہ ہم بتانے پر مجبور ہوں گے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ سردار فاروق لغاری کی تاریخ بے وفائی کی تاریخ ہے۔ وہ حقائق جھٹلانے کے ماہر ہیں۔ نہ تو وہ پہلے عوامی عدالت میں سرخرو ہوئے اور نہ ہی اب انہیں ہوائی تیر چلانے پر پذیرائی مل سکے گی۔ وہ گزشتہ روز نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور ان کی حکومت کو ناکام قرار دینے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ شہبازشریف‘ ان کی حکومتی کارکردگی اور ان کی گڈگورننس کے حوالہ سے سٹیٹ بینک کی رپورٹس سمیت بعض عالمی اداروں نے بھی انہیں سراہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف کی قائدانہ خصوصیات اور فیصلہ سازی پر انکے مخالفین بھی ان کے معترف ہیں اور ان کے دوراقتدار میں کبھی کوئی مالیاتی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ذوالفقار کھوسہ نے ملک کی سیاسی قیادت کے حوالہ سے سردار فاروق لغاری کی باتوں کو ان کی محرومیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف پر الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں یہ سوچ لینا چاہئے تھا کہ آٹھ سال وہ جس وردی سے بندھے سیاست کرتے رہے اس دور میں نوازشریف اور ان کے خاندان کے معاملات کھنگالنے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن ان کے خلاف کچھ سامنے نہیں آیا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جس قیادت کے حوالہ سے خود سردار لغاری ریکارڈ پر ہیں کہ کسی اور کی کرپشن کے حوالہ سے دو آراءہوسکتی ہیں لیکن چودھری صاحبان کی کرپشن پر سب کا اتفاق ہے لیکن یہ اپنی بنیاد سے اکھڑے تو خود ان کی قیادت میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے اور اب خود عبرت کی مثال بنے دوسروں پر کیچڑ اچھال کر سرخرو نہیں ہوسکتے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف اور پنجاب حکومت کو ناکام قرار دینا دراصل انگور کھٹے ہیں‘ والا طرزعمل ہے۔ دراصل پنجاب حکومت پر قبضہ ان کا پرانا خواب ہے اور 1988ءمیں انہی سردار لغاری نے مسلم لیگ (ن) کے 124 اراکین کے مقابلہ میں 104 اراکین کے ساتھ 20‘ 22 اراکین کے حصول کیلئے ہارس ٹریڈنگ کا ہر حربہ اختیار کیا لیکن ایک بھی رکن نہ توڑ سکے اور پتھر چاٹنے کے بعد اپنی ناکامی کا رونا روتے ہوئے واپس اسلام آباد چلے گئے اور وزارت اعلیٰ ان کیلئے خواب ہی بنی رہی۔