سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے راولپنڈی چرچ حملہ کیس میں ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے راولپنڈی چرچ حملہ کیس میں ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

چیف جسٹس افتخار محد چوہدری کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے ملزمان کی سزا کےخلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی غلطیوں کو چھپانا عدالتوں کا کام نہیں، پولیس خود کو ٹھیک کرے۔ پولیس کی غلطیوں کو نظر انداز کرکے خود پر الزام نہیں لے سکتے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کو جیل بھیجنے کی بجائے ڈی ایس پی کیسے بنا دیا گیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تفتیش اورچالان کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو ملزمان کی سزا موت نہیں بنتی۔ سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے ریمارکس دیے کہ عدالت کسی بے گناہ کو پھانسی پر نہیں چڑھاسکتی۔ عدالت نے ملزمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی مشتاق سکھیرا کو تفتیشی افسر سعادت مہدی کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی۔یاد رہےکہ ٹیکسلا میں دوہزار دو کو چرچ جلانے کے الزام میں ملزمان سیف الرحمان، ایاز اور ابوبکر کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔