سینٹ : ملازمتوں میں کوٹہ کے معاملہ پر شدید ہنگامہ ‘ ارکان میں تلخ کلامی ‘ اپوزیشن کا واک آﺅٹ

سینٹ : ملازمتوں میں کوٹہ کے معاملہ پر شدید ہنگامہ ‘ ارکان میں تلخ کلامی ‘ اپوزیشن کا واک آﺅٹ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر + نامہ نگار + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) جمعہ کو سینٹ اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان میں ملازمتوں میں صوبائی کوٹہ کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوائے جانے کے معاملہ پر شدید ہنگامہ ہوا اور ارکان میں تلخ کلامی ہوگئی جس کے بعد اپوزیشن ارکان احتجاجً واک آ¶ٹ کر گئے۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر رضا ربانی نے ضمنی سوال اٹھایا کہ 13 اگست 2013ءکو کوٹہ سسٹم کی مدت ختم ہوگئی ہے جس کے بعد حکومت، کابینہ یا متعلقہ وزارت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی جس سے چھوٹے صوبوں کی حق تلفی ہوئی، حکومت اس مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں بھی نہیں لیکر گئی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سنیٹر رضا ربانی نے آئین کے آرٹیکل 27 کے تحت جو نقطہ اٹھایا ہے نہایت اہم ہے۔ ہمیں وفاقی اکائیوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ یہ معاملہ ہمارے نوٹس میں ہے جسے کابین ہ میں بھی زیرغور لایا گیا، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس معاملے پر تمام صوبوں کو اعتماد میں لیں۔ اعتزاز احسن نے چیئرمین کو تجویز دی کہ معاملے کو استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا جائے، یہ ساری اپوزیشن کی متفقہ گزارش ہے۔ صابر بلوچ نے کہا کہ ایک تو سوال کا جواب نہیں دیا گیا، متعلقہ وزیر بیوروکریسی سے پوچھ گچھ کریں، انہوں نے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوانے کی رولنگ دیدی جس پر حکومتی ارکان نے سخت اعتراض کیا۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بات ہی نہیں سنتے، یہ غلط طریقہ ہے، آپ ایوان کے دونوں اطراف کی باتیں سنیں، اس موقع پر سینیٹر مشاہد اللہ اپنی سیٹ پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اپوزیشن ارکان بلااجازت کھڑے ہوجاتے ہیں اور آپ انہیں بولنے کی اجازت دیدیتے ہیں، آپ اس ایوان کے چئرمین بنیں جیالے نہ بنیں، اس پر اعتزاز احسن، رضا ربانی سمیت اپوزیشن ارکان بھی کھڑے ہوگئے اور مشاہد اللہ اور سینیٹر رضا ربانی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، دونوں اطراف سے سینیٹر اونچی اونچی آواز میں بولنا شروع ہو گئے اور اپوزیشن کے ارکان احتجاجاً واک آ¶ٹ کرگئے۔ بعدازاں ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ کے کہنے پر قائد ایوان راجہ ظفر الحق اپوزیشن ا رکان کو منا کر ایوان میں واپس لائے۔ صابر بلوچ نے غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت کی۔ سینٹ کی خصوصی کمیٹی برائے ماس ٹرانسپورٹ سسٹم برائے اسلام آباد نے اپنی رپورٹ پیش کر دی، کنونیئر سینیٹر مشاہد حسین سید نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اسلام آباد دنیا کا شاید واحد دارالحکومت ہے جہاں ماس ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی حواجہ آصف نے سینٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے بھارت سے بجلی درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ پاکستان کا تکنیکی گروپ جلد بھارت کا دورہ کریگا، پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے اعلیٰ سطح پر اتفاق رائے پایا جا رہا ہے۔ حکومت بھارت سے بجلی درآمد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے جس پر جلد مفاہمت متوقع ہے۔ پاکستان بھارت کے مابین تجارت کے فروغ میں اعلیٰ سطح پر اس کا اتفاق ہو چکا ہے، اس ضمن میں بھارتی وفد لاہور کی یاترا کر چکا ہے۔ بھارت کے ساتھ بجلی میں تجارت کیلئے ماہرین کا ایک گروپ قائم کیا گیا ہے۔ بھارت نے توانائی کی ترسیل کے انفراسٹرکچر کی دستیابی کی بنا پر پاکستان کو فویر طور پر 220 سے 500 میگاواٹ بجلی پاکستان برآمد کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان، بھارت سیکرٹریز کی سطح پر طے پایا کہ بھارت میں ماہرین کے گروپ کے اجلاس کے بعد ستمبر 2013ءکے آخری ہفتے میں تکنیکی گروپ کا اجلاس ہوگا۔ تکنیکی معاونت اور فنڈز کی فراہمی کیلئے ورلڈ بنک سے درخواست کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر ہا¶سنگ عثمان ابراہیم نے ایک سوال پر بتایا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہا¶سنگ فا¶نڈیشن کی طرف سے ملازمین سے وصول کی گئی 49 کروڑ روپے کے قریب رقم بنک میں پڑی ہے، اب تک 20 ہزار سے زائد ملازمین نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے، ملازمین جس ترتیب سے رجسٹر ہوئے ہیں انہیں اسی ترتیب سے پلاٹ الاٹ کئے جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ بہارہ کہو زون فائیو میں رہائشی سکیم کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں، پیر کو اس سکیم کا افتتاح ہو گا اور دو سال بعد کام مکمل کرلیا جائیگا، نیب نے اس کیس کی تحقیقات کی تھی اور کسی کیخلاف کارروائی کی سفارش کئے بغیر فائنل بند کر دی اسلئے کسی ذمہ دار کیخلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی۔ سینٹ کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری مکانات پر غیرقانونی طور پر قبضہ کرنے والے پولیس کیخلاف محکمانہ کارروائی وزارت داخلہ نے کرنی ہے، قابضین نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھے ہیں۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر ہا¶سنگ عثمان ابراہیم نے بتایا کہ سرکاری مکانات پر قبضہ کرنے والے پولیس ملازمین کی تعداد 104 ہے، قابضین نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھے ہیں، یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے، سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت کی گئی ہے۔ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز منگل سے ہو گا، سینٹ کا اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کر دیا گیا۔