پاکستان امریکہ تعلقات‘ چند روز میں مثبت یا منفی تبدیلیاں متوقع

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں آئندہ چند روز کے دوران مثبت اور منفی،دونوں انواع کی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ روابط کی بہتری کیلئے دونوں جانب سے تجاویز پر کام ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو تنگ کرنے کے حربے بھی مسلسل آزما رہا ہے۔ اس کے ردعمل میں ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے کے مجوزہ معاہدے ایف ایم سی ٹی کے خلاف پاکستان بھی خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا ہے جبکہ پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی امریکی کوششوں میں اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی شریک ہو گئے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ کارل لیون نے واشنگٹن کی جانب سے یہ پیشکش کی ہے کہ پاکستان امریکہ کے فوجی ٹرینرز کو واپس بلوا لے تو اس کی فوجی و معاشی امداد بحال کر دی جائے گی لیکن پاکستان نے یہ پیشکش مسترد کر دی ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق اوباما انتظامیہ ایف ایم سی ٹی کو بھی انا کا مسلہ بنائے ہوئے ہے لیکن پاکستان کے اتفاق رائے کے بغیر تکنیکی اعتبار سے یہ سمجھوتہ طے ہی نہیں پا سکتا۔
تبدیلیاں متوقع