نیٹو کی بمباری‘ مخالفین قذافی کی رہائشگاہ میں داخل ہو گئے‘ طرابلس میں دوبدو لڑائی‘ سیف الاسلام کی گرفتاری کا دعوی غلط نکلا اچانک منظر عام پر آ گئے

طرابلس (ایجنسیاں+ ریڈیو نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک+ بی بی سی) لیبیا میں مخالفین کی جانب سے کرنل قذافی کے بیٹوں کی گرفتاری کے دعوے غلط نکلے۔ سیف الاسلام قذافی اپنے حامیوں کے ہمراہ طرابلس کی سڑکوں پر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے منظرعام پر آگئے۔ شہر کے گلی کوچوں میں دوبدو لڑائی جاری ہے جو آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ مخالفین کو مزاحمت کا سامنا ہے، 30یورپی صحافی محصور ہوگئے۔ مخالفین نے طرابلس ائرپورٹ قذافی کے ہیڈ کوارٹر باب العزیزیہ پر جھنڈا لہرانے اور شہر لانوف پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور قذافی کا مجسمہ توڑ دیا۔ ادھر نیٹو نے باب العزیزیہ سمیت کئی علاقوں پر بمباری کی۔ دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق مخالفین باب العزیزیہ کمپاﺅنڈ قذافی کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے ہیں اور قذافی کے ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر کے اسلحہ لوٹ لیا ،قذافی اور ان کے ساتھوں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن بھی کیا۔ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، کئی عمارتوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق قذافی 40خواتین محافظوں کے ہمراہ فرار ہوکر الجزائر چلے گئے۔ سیف الاسلام قذافی اچانک طرابلس میںعوام کے سامنے آگئے اور اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طرابلس میں مخالفین کو شکست ہوگی۔ طرابلس ہمارے کنٹرول میں ہے معمرقذافی طرابلس میں اور محفوظ ہیں۔ سیف الاسلام نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہاکہ طرابلس میں آکر مخالفین ہمارے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہیں۔ فوج نے ان کی کمر توڑ دی ہے ۔کرنل قذافی کے رہائشی کمپاونڈ کے گردونواح اور شہر کے دیگر کئی مقامات پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ مخالفین کے ترجمان کے مطابق سرکاری فوج نے ٹینکوں اور اینٹی ایئرکرافٹ گنوں سے شہر کے مغربی علاقے سے حملہ کیا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ مراکش، عراق، نائیجریا، عمان اور بحرین سمیت مزید 30ممالک نے مخالفین کی قومی عبوری کونسل کو تسلیم کر لیا، مخالفین کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے کہا ہے کہ ہم جیت گئے ہیں۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے دورے کے دوران لندن میں لیبیائی عبوری کونسل کے اہم رہنما عادل نے برطانوی ٹی وی کو بتایا کہ قذافی کے صدارتی کمپاﺅنڈ باب العزیزیہ کا ایک گیٹ توڑ دیا ہے۔ دارالحکومت طرابلس کے 95 فیصد پر قابض ہوگئے ہیں۔ ادھر لیبیائی تارکین وطن نے ایتھنز، مراکش، برازیل میں اپنے سفارتخانے پر عبوری کونسل کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کے مطابق معمر قذافی نے آڈیو پیغام میں کہا مخالفین نے طرابلس کو آگ میں جھونک دیا۔ مشکل حالات میں علماءکا فرض ہے کہ وہ خانقاہوں سے نکلیں اور رسم شبیری ادا کرتے ہوئے قوم کی جنت کی طرف رہنمائی کریں۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ لیبیا میں تمام پاکستانی محفوظ ہیں۔ طرابلس میں دو ہزار پاکستانی ہیں تمام کے ساتھ رابطے ہیں۔ پہلے ہی لیبیا سے آٹھ ہزار پاکستانیوں کو نکال لیا تھا۔ نیٹو ترجمان نے کہا قذافی اور انکے حامی ہاری جنگ لڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے کہا قذافی کے اقتدار چھوڑنے سے لیبیا کا شیرازہ بکھر جائیگا۔ امریکی اخبارات نے لیبیا میں مخالفین کی کامیابیوں کو نمایاں کوریج دی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی فریقین مفاہمیت کا مظاہرہ کریں۔ پینٹاگون ترجمان نے کہا لیبیائی کیمیکل ہتھیاروں پر حفاظتی حصار ہے اب بھی یقین ہے قذافی نے لیبیا نہیں چھوڑا۔
لیبیا