متحدہ کا یوم سوگ....کراچی سمیت کئی شہروں میں پہیہ جام ہڑتال....متعدد گاڑیاں نذر آتش مزید 8 ہلاک

متحدہ کا یوم سوگ....کراچی سمیت کئی شہروں میں پہیہ جام ہڑتال....متعدد گاڑیاں نذر آتش مزید 8 ہلاک

کراچی + لاہور (کامرس رپورٹر + کرائم رپورٹر + ریڈیو نیوز + خبر نگار + ایجنسیاں) کراچی میں قتل و غارت گری کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی اپیل پر منگل کو یوم سوگ اور یوم مذمت منایا گیا‘ کراچی‘ حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی شہروں میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ کاروباری و تجارتی مراکز‘ پبلک ٹرانسپورٹ‘ پٹرول پمپ‘ سی این جی سٹیشن‘ نجی تعلیمی ادارے بند رہے‘ سرکاری سکولوں اور دفاتر میں حاضری کم رہی‘ کئی علاقوں میں دکانیں زبردستی بند کرا دی گئیں۔ فائرنگ اور ٹائر بھی نذر آتش کئے گئے۔ لاہور میں یوم سوگ پر پریس کلب کے باہر پرامن احتجاج کیا گیا۔ دوسری جانب کراجی میں جاری پرتشدد واقعات کا سلسلہ گذشتہ روز بھی تھم نہ سکا‘ فائرنگ اور تشدد مزید 8 زندگیوں کو نگل گیا‘ متعدد گاڑیاں نذر آتش کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز اور ٹرانسپورٹرز نے بھی کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں گذشتہ روز نیو کراچی سے فیڈرل بی ایریا‘ نارتھ کراچی سے ناظم آباد تک تمام بازار‘ مارکیٹیں‘ شاپنگ سینٹرز بند رہے۔ کورنگی‘ اورنگی ٹاﺅن‘ لانڈھی‘ شاہ فیصل کالونی‘ ملیر کی تمام مارکیٹیں شہر کے تمام پٹرول پمپس‘ کاروں کے تمام شورومز بند رہے جبکہ بسیں‘ منی بسیں اور کوچز بند ہونے کی وجہ سے سرکاری‘ نیم سرکاری اورنجی اداروں میں حاضری میں نمایاں کمی ہوئی اور بندرگاہ سے اندرون ملک اور اندرون ملک سے بندرگاہ تک سامان کی ترسیل بھی معطل رہی تاہم کراچی اور پورٹ محمد بن قاسم پر بحری جہازوں سے سامان اتارنے اور لادنے کا عمل جاری رہا۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اپنے گھروں اور دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے‘ بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور مرنے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی مجالس منعقد کیں‘ کراچی ‘ حیدر آباد ‘ سکھر‘ نوابشاہ‘ ٹنڈو الہ یار‘ میرپور خاص‘ شہداد پور اور دیگر شہروں میں تمام کاروباری اور تجارتی مراکز ‘ پٹرول پمپس‘ سی این جی سٹیشنز اورسڑکوں پر ٹرانسپورٹ بند رہی‘ ہڑتال کے موقع پر بعض مقامات پر ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی پیش آئے اور مختلف شہروں میں زبردستی تعلیمی ادارے اور دکانیں بند کرا دی گئیں‘ کشیدہ صورتحال سے بچنے کیلئے امتحانات ملتوی کرا دیئے گئے۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ کراچی یونیورسٹی بھی بند کردی گئی۔ انٹرمیڈیٹ بورڈ نے پریکٹیکل امتحان منسوخ کر دیئے۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے تمام سکول بند رکھے۔ آل کراچی تاجر اتحاد نے تجارتی وکاروباری مراکز بند رکھے جبکہ صنعتی علاقوں کی تنظیموں کی بھی صنعتیں بند رکھیں اورکاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔ متحدہ کے یوم سوگ کی رابطہ کونسل، سنی تحریک اور جامع بنوریہ نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ کراچی میں خوف وہراس کے سائے منڈلاتے رہے۔ سڑکیں سنسان دکھائی دیں شہر میں رینجر اور پولیس کی بھاری نفری کو بھی تعینات کیا گیا ۔ حیدر آباد میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ میرپور خاص، ٹنڈو آدم، ٹنڈو الہ یار اور نواب شاہ میں بھی پہیہ جام ہڑتال کے علاوہ تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔ بی بی سی کے مطابق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں کاروبار تقریباً بند رہا تاہم سندھی آبادی کے علاقوں میں اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ گلستان جوہر کے علاقے میں صورتحال کشیدہ رہی جہاں ٹائروں کو نذر آتش کیا گیا اور فائرنگ کی گئی۔ الطاف حسین نے کراچی کے معصوم شہریوں کے قتل عام کے خلاف ایم کیو ایم کی اپیل پر منائے جانے والے پرامن یوم سوگ کو کامیاب بنانے پر کراچی سمیت ملک بھر کے عوام خصوصاً دکانداروں‘ چھوٹے تاجروں‘ صنعتکاروں‘ ٹرانسپورٹرز‘ علمائے کرام‘ سیاسی و مذہبی جماعتوں‘ تمام تنظیموں اور عوام سے دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ یوم سوگ منا کر اور پرامن احتجاج کر کے ثابت کر دیا ہے کہ پوری قوم درندہ صفت دہشت گردوں‘ بھتہ خوروں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے والے سفاک عناصر کے خلاف متحد ہے۔ اے این این کے مطابق مسلم لیگ (ن) سندھ‘ جعفریہ الائنس نے بھی ایم کیو ایم کے یوم سوگ و مذمت کی حمایت کی۔ پٹرول پمپ اور سی این جی بند ہونے کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ حیدرآباد‘ ملتان‘ گلگت بلتستان سمیت کئی شہروں میں ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج میں ایم کیو ایم لاہور کے انچارج سید شاہین انور گیلانی، میاں طاہر محمود، ڈاکٹر عبدالغفار سمیت ایم کیو ایم لاہور زون کے مختلف شعبوں کے عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بازو¶ں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم پنجاب ہا¶س قرآن و فاتحہ خوانی کا اجتماع منعقد ہوا۔ ادھر کراچی میں 4 افراد کی بوری بند نعشیں ملیں۔ پاک کالونی میں نامعلوم افراد نے ایک شخص کو اغوا کے بعد تشدد اور فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور اس کی لاش لیاری ندی میں پھینک کر فرار ہو گئے جبکہ پاک کالونی تھانے کی ہی حدد میں جہان آباد کے قریب لیاری ندی سے بھی ایک نوجوان کی لاش ملی اسے بھی فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ ملیر سٹی کے علاقے غریب آباد میں نامعلوم افراد نے ایک نوجوان فیصل کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ کراچی کے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پانچ ملازمین کے قتل کے بعد آپریشنل سٹاف میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ٹیکنیکل سٹاف نے حساس علاقوں میں جانے اور فرائض دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد کراچی میں بجلی کے بعد پانی کا نظام بھی بریک ڈا¶ن ہو گیا۔ ایم کیو ایم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔ کراچی کے 18 ٹا¶نز اور 178 یونین کونسلوں کے تالے نہیں کھولے جا سکے۔ سٹی حکومت کے دفاتر میں بھی سناٹا چھایا رہا۔ کراچی میں شام پانچ بجے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ چلنا شروع ہو گئی جس سے شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔
کراچی پہیہ جام